'مرغی اور انڈوں کو سبزی قرار دیا جائے'

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2019

ای میل

بھارتی قانون ساز کی بات سن کر اراکین پارلیمنٹ حیران رہ گئے — فائل فوٹو/شٹر اسٹاک
بھارتی قانون ساز کی بات سن کر اراکین پارلیمنٹ حیران رہ گئے — فائل فوٹو/شٹر اسٹاک

شیو سینا سے تعلق رکھنے والے بھارتی قانون ساز سنجے روت نے مطالبہ کیا ہے کہ مرغی اور انڈوں کو بھی سبزی قرار دیا جانا چاہیے۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ ممبئی مرر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ مطالبہ پارلیمنٹ میں آیوروید (بھارت میں رائج جڑی بوٹیوں کی مدد سے ہونے والا قدیم طریقہ علاج) پر بحث کرتے ہوئے کیا۔

سنجے روت نے اپنی بات کہہ کر سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

مزید پڑھیں: انڈہ پہلے آیا یا مرغی؟ سائنس نے جواب ڈھونڈ لیا

ان کا کہنا تھا کہ وزارت آیوش کو چاہیے کہ اس کا نوٹ لیں اور فیصلہ کریں کہ چکن سبزی ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک مرتبہ میں نندربار کے علاقے میں ایک چھوٹے سے گاؤں گیا تھا جہاں کے لوگوں نے میرے پاس آکر مجھے کھانا دیا، جب میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ آیورویدک مرغی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'گاؤں کے لوگوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ہم نے اس کا اتنا خیال رکھا ہے کہ اسے کھانے کے بعد آپ کی تمام بیماریاں دور ہوجائیں گی'۔

سنجے روت نے دعویٰ کیا کہ چوہدری چرن سنگھ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے انہیں بتایا ہے کہ وہ آیورویدک انڈوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مرغی اچھی ہے یا بُری؟

انتہا پسند جماعت کے قانون ساز نے مزید کہا کہ تحقیق کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ آیورویدک انڈے دینے والی مرغی کو صرف آیورویدک غذا ہی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے سبزی خور افراد بھی اسے پروٹین کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

دریں اثنا اراکین پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ روایتی ادویات کی حوصلہ افزائی کے لیے وزارت آیوش کو زیادہ فنڈز دیا جانا چاہیے جس سے ملک کے لاکھوں لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے۔

سنجے روت کا کہنا تھا کہ مغرب میں دودھ اور ہلدی سے بنے مشروب پینے پر زور دیا جارہا ہے جبکہ بھارت میں اسے نظر انداز کیا جارہا ہے۔

انہوں نے وزارت آیوش کے لیے 10 ہزار کروڑ روپے کے بجٹ کا بھی مطالبہ کردیا۔