جہاز کو منجمد کرنا ایران کی 'غیر قانونی' مداخلت ہے، برطانیہ

22 جولائ 2019

ای میل

اقوام متحدہ میں برطانوی نمائندے نے ایرانی موقف کو مسترد کردیا—فوٹو:اے ایف پی
اقوام متحدہ میں برطانوی نمائندے نے ایرانی موقف کو مسترد کردیا—فوٹو:اے ایف پی

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے اعلیٰ سطح کے نمائندے نے سلامتی کونسل کو ایک خط میں ایرانی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی تیل بردار جہاز کو منجمد کرنا ‘غیرقانونی مداخلت’ ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں برطانیہ کے امور کے انچارج جوناتھن ایلن نے اپنے خط میں ایران کے ہر دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

سلامتی کونسل کے صدر گستاوو میزا کواڈرا کو اپنے خط میں جوناتھن ایلن نے کہا ہے کہ اسٹینا امپیرو کا ٹرانسپونڈر متحرک تھا اور جہاز عمانی سمندر میں محو سفر تھا کہ اس کا پیچھا کیا گیا حالانکہ جہاز بین الاقوامی سمندری حدود میں قانونی سفر کر رہا تھا۔

جہاز کے ایرانی کشتی سے ٹکرانے کے حوالے سے کیے گئے ایک دعوےپر ان کا کہنا تھا کہ ‘اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہے، اگر ایسا ہوا بھی تھا جہاز عمانی حدود میں موجود تھا جس کا مطلب ہے کہ ایران کو اسٹینا امپیرو کا پیچھا کرنے کی اجازت نہیں تھی’۔

مزید پڑھیں:زیرِ قبضہ برطانوی جہاز کی تحقیقات کا انحصار عملے کے تعاون پر ہے، ایران

اقوام متحدہ کے نام خط میں برطانوی عہدیدار نے کہنا ہے کہ ‘ایران کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتے لیکن یہ ناقابل قبول ہے کہ ایک بحری جہاز جو بین الاقوامی حدود سے قانونی طریقے سے جارہا ہو اس کو خطرات ہوں’۔

انہوں نے ایران سے جہاز کو آزاد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری ترجیح محاذ آرائی سے بچنا ہے’۔

یاد رہے کہ 19 جولائی کو ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانوی تیل بردار جہاز کو مبینہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ فورسز نے آبنائے ہرمز میں برطانوی تیل بردار جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تیل بردار جہاز پر قبضہ: برطانیہ کی ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی

بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘تیل بردار جہاز اسٹینا امپیرو کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر ہرمزغان بندرگاہ اور میری ٹائم آرگنائزیشن کی درخواست پر قبضے میں لیا گیا ہے’۔

بعد ازاں برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ تحویل میں لیے گئے برطانوی تیل بردار جہاز کو چھوڑ دے ورنہ ’سنگین نتائج‘ کے لیے تیار ہو جائے۔

برطانیہ کے ردعمل کے بعد ایران کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے گئے برطانوی جہاز کی تحقیقات کا عمل کب مکمل ہوگا اس کا انحصار اس کے عملے کے تعاون پر مبنی ہے۔