نیا پاکستان آپ کی آنکھوں کے سامنے بن رہا ہے، عمران خان کا امریکا میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب

اپ ڈیٹ 22 جولائ 2019

ای میل

وزیر اعظم کے جلسے میں لاکھوں امریکا میں مقیم پاکستانی برادری نے شرکت کی — فوٹو: پی ٹی آئی ٹوئٹر
وزیر اعظم کے جلسے میں لاکھوں امریکا میں مقیم پاکستانی برادری نے شرکت کی — فوٹو: پی ٹی آئی ٹوئٹر

وزیر اعظم عمران خان نے واشنگٹن کے کیپیٹل ون ایرینا میں پاکستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیا پاکستان آپ کی آنکھوں کے سامنے بن رہا ہے۔

کیپیٹل ون ایرینا میں عوام کا جم غفیر— فوٹو بشکریہ: حکومت پاکستان ٹوئٹر
کیپیٹل ون ایرینا میں عوام کا جم غفیر— فوٹو بشکریہ: حکومت پاکستان ٹوئٹر

واضح رہے کہ وزیراعظم 3 روزہ سرکاری دورے پر امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں موجود ہیں۔

انہوں نے واشنگٹن کے کیپیٹل ون ایرینا میں جلسہ بھی کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں امریکا میں مقیم پاکستانیوں نے شرکت کی۔

تقریب کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد پر مبنی دستاویزی فلم دکھائی گئی جس میں ان کی کرکٹ سے لے کر وزیراعظم پاکستان بننے تک کی جدوجہد کا سفر دکھایا گیا۔

'این آر او کیلئے دوسرے ملکوں سے سفارشیں آرہی ہیں'

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ این آر او کے لیے دوسرے ملکوں سے سفارشیں آ رہی ہیں، تاہم کسی صورت کسی کرپٹ حکمرانوں کو این آر او نہیں دوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیاں معدنی ذخائر کو استعمال میں لانے کے لیے نہیں آتیں، کرپشن ختم کرکے پاکستان کو اوپر اٹھا کر دکھاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ 'ملک میں جاگیردارانہ نظام اور خاندانی سیاست کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں، میرا کوئی رشتہ دار یا دوست کسی عہدے پر نہیں ہے'۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 'ملک میں یکساں نظام تعلیم کے لیے تحریک انصاف کی حکومت کوششیں کر رہی ہے'۔

'نیا پاکستان بن رہا ہے'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری حکومت نے اداروں کو آزاد کیا، کسی کے اوپر ہم نے کیس نہیں بنایا، جب کرپشن کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو انتقامی کارروائی کا رونا رویا جاتا ہے، عدالتی فیصلہ آتا ہے تو کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا، پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب نیا پاکستان بن رہا ہے'۔

انہوں نے کہا 'نوازشریف کو آمریت نے لیڈر بنایا جبکہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کاغذ کا ٹکڑا دکھا کر لیڈر بن گئے، ولی خاندان کا بھی یہی حال ہے، مولانا فضل الرحمان بھی اسی طرح لیڈر بنے اور اس کے بھائی اور بچے بھی لیڈر بن گئے ہیں '۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ 'آج سارے اکٹھے ہوگئے ایک دینی جماعت کا سربراہ ہے جو لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف اپنے آپ کو سیکولر سمجھنے والے لوگ ہیں اور وہ بھی ان کے پیچھے چل رہے ہیں اور ان سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ این آر او دیا جائے جس کے لیے دیگر ممالک سے بھی سفارشیں آرہی ہیں لیکن کسی صورت ہم کسی کو این آر او نہیں دیں گے'۔

'نواز شریف سے جیل میں اے سی اور ٹی وی کی سہولت واپس لوں گا'

عمران خان نے نواز شریف کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ کہتے ہیں کہ جیل کا کھانا اچھا نہیں ہے، گھر سے کھانا منگوانےکی اجازت دی جائے اور جیل میں اے سی اور ٹی وی کے بھی مزے اڑا رہے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ’ 80 فیصد پاکستانیوں کے پاس تو اے سی نہیں ہے جبکہ 60 فیصد کے پاس ٹی وی بھی نہیں، اگر یہ سہولیات آپ کو جیل میں مل رہی ہیں تو پھر نصف پاکستانی تو خوشی سے جیل میں جائیں گے، یہ سزا تو نہیں ہوئی، میںملک واپس جاتے ہی ان سے جیل میں اے سی اور ٹی وی کی سہولت واپس لوں گا‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مریم بی بی اس پر بہت شور مچائیں گی، میں ان سے یہ کہوں گا کہ وہ (نواز شریف) پیسہ واپس کردیں تو جیل سے باہر جاسکتے ہیں۔

انہوں نے سابق صدر آصف زرداری پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جب بھی جیل میں جاتے ہیں تو بیمار ہوکر اسپتال منتقل ہوجاتے ہیں، عمران خان نے آصف زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ آپ کو بھی جیل میں رکھیں گے، وہاں نہ ٹی وی ہوگا، نہ اے سی ہوگا‘۔

عمران خان نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر بھی تنقید کی، انہوں نے ’کہا کہ وہ بہت کہتے تھے کہ مجھے جیل میں ڈالو، اب انہیں بھی جیل میں ڈال دیا‘۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق کہا کہ ’وہ اپوزیشن کو کہتے ہیں کہ کیا تب ہم اکٹھے ہوں گے جب سب جیل میں ہوں گے تو میں ان سے کہنا چاہتا ہوں ہاں، آپ سب تب ہی اکٹھے ہوں گے جب جیل میں ہوں گے، میرے پاکستانیو یہ ہے تبدیلی، اسے تبدیلی کہتے ہیں‘۔

'منی لانڈرنگ کا پیسہ واپس لارہے ہیں'

وزیراعظم نے کہا کہ 'بے نامی جائیدادیں اور منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجا گیا پیسہ واپس پاکستان لا رہے ہیں، ہم نے طاقتور لوگوں کا احتساب شروع کر دیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جو لوگ اربوں کھربوں روپے باہر لے کر گئے ہیں اسے واپس لانے کے لیے متعلقہ ملکوں سے بات چیت شروع کر دی ہے'۔

وزیراعظم نے پاکستانی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے مجھے بہت عزت دی ہے اس کے لیے آپ لوگوں کا دل سے بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں، میں نے سوچا تھا کسی ہوٹل میں کچھ لوگوں کو بلا کر بات کی جائے گی لیکن اتنی بڑی تعداد میں آپ لوگوں سے بات ہو رہی ہے یہ ایک نئی تاریخ ہے۔

انہوں نے 'وزیراعظم عمران خان' کا نعرہ لگانے والے پاکستانیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ 22 سال سے وزیراعظم عمران خان کا نعرہ سنتا آ رہا ہوں لیکن اب میں وزیراعظم بن گیا ہوں آپ کو یقین ہو جانا چاہیے۔

'جمہوریت میں میرٹ اہم ہوتا ہے'

انہوں نے کہا کہ 'پاکستانیو! اللہ کا دیا ہوا یہ ملک بہت بڑی نعمت ہے، پاکستان اب ہر سال آپ کو تبدیل ہوتا ہوا نظر آئے گا، پاکستان ہر سال بہتر سے بہتری کی جانب سفر کرے گا'۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 'دنیا میں جو ملک آگے گئے وہ میرٹ کی بنیاد پر آگے گئے، جمہوریت میں میرٹ اہم ہوتا ہے اور لیڈر شپ میرٹ کی بنیاد پر ابھرتی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'چین کی کمیونسٹ پارٹی میں بہترین میرٹ ہے، جمہوریت میں لیڈر شپ عوام کو جواب دہ ہوتی ہے'۔

وزیراعظم نے کہا کہ 'ہم پاکستان میں بھی میرٹ کا نظام لا رہے ہیں، ہمارا کمزور تعلیمی نظام نچلے طبقے کو اوپر نہیں آنے دیتا، سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت بہتر کر رہے ہیں اور ملک میں یکساں نظام تعلیم کے لیے کوشش کر رہے ہیں'۔

انہوں نے جاگیردارانہ نظام اور خاندانی سیاست کی حوصلہ شکنی کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ 'پاکستان میں عمران خان کا کوئی رشتہ دار یا دوست کسی عہدے پر نہیں ہے، مراد سعید اور حماد اظہر جیسے نوجوان آگے آئے ہیں'۔

ریکوڈک منصوبہ

ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'ریکوڈک منصوبہ رکنے کی تحقیقات کے لیے ہدایات دی ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ ' اندازے کے مطابق ریکوڈک میں 200 ارب ڈالر کے معدنی ذخائر موجود ہیں، تھر میں 180 ارب ٹن کوئلے کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے مگر کرپشن کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیاں معدنی ذخائر کو استعمال میں لانے کے لیے پاکستان نہیں آتیں'۔

'ٹرمپ کے سامنے قوم کو شرمندہ ہونے نہیں دوں گا'

خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے حاضرین سے سوال کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کیا باتیں کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں پرچیاں لایا ہوں جیب میں اور میں پرچیاں پڑھوں گا ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے بیٹھ کر'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں آپ کا مسئلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے رکھوں گا اور آپ کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا'۔

عمران خان نے عوام سے سوال کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے کیا سوال کروں؟ انہوں نے ازراہ تفنن کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرنے کے لیے جیب میں پرچیاں رکھ کر لایا ہوں جسے دیکھ کر میں باتیں کروں گا۔

افغان مسئلے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ افغانستان کا مسئلہ فوج کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا جس پر مجھے طالبان خان بھی کہا گیا تھا'۔

انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام کرے ہوئے کہا کہ '23 سال پہلے میں نے ایک بات کہی تھی کہ سوائے اللہ کہ آج تک کبھی کسی کے آگے نہیں جھکا ہوں نہ ہی اپنی قوم کو کبھی کسی کے سامنے جھکنے نہیں دوں گا'۔

وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بعد پاکستان کا قومی ترانہ پیش کر کے تقریب کا اختتام کیا گیا۔