جنوبی کوریا کا روسی دراندازی کے خلاف جوابی کارروائی کا دعویٰ

23 جولائ 2019

ای میل

روسی طیارہ 9 بجے کے فورا بعد جنوبی کوریا کی حدود میں داخل ہوا اور 3 منٹ تک موجود رہا — فائل فوٹو/ اے ایف پی
روسی طیارہ 9 بجے کے فورا بعد جنوبی کوریا کی حدود میں داخل ہوا اور 3 منٹ تک موجود رہا — فائل فوٹو/ اے ایف پی

جنوبی کوریا نے روسی جنگی طیاروں کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی ‘ کی رپورٹ کے مطابق سیول نے کہا کہ روسی جنگی طیارے اے-50 نے دو مرتبہ متنازع جزیرہ ڈوک ڈو کے قریب جنوبی کوریا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

سیول حکام کے مطابق نے انہوں نے ایف -15 کے اور کے ایف -16 جنگی طیاروں کے ذریعے ردعمل دیا اور 400 فائرز کے ذریعے متنبہ کیا۔

فوجی عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے پہلی دراندازی جے دوران جہاز پر 80 فائر کے ذریعے تنبیہ کی اور دوسری مرتبہ 280 راؤنڈز فائر کیے۔

سیول حکام کے مطابق پہلے روسی طیارہ 9 بجے کے فورا بعد جنوبی کوریا کی حدود میں داخل ہوا اور 3 منٹ تک موجود رہا۔

فوج نے کہا کہ ’ طیارہ ڈیڑھ گھنٹے بعد دوبارہ واپس آیا اور جنوبی کوریا کی فضائی حدود میں 4 منٹ تک رہا‘۔

حکام نے کہا کہ ’ اس دوران ایک وقت ایسا آیا کہ جنوبی کوریا اور روس کے جنگی طیارے ایک دوسرے سے صرف ایک کلومیٹر کی دوری پر تھے‘۔

فوجی حکام نے کہا کہ ایسا ظاہر نہیں ہوا کہ روسی طیارہ کسی دشمنی کی غرض سے داخل ہوا کیونکہ وہ مستقل رفتار اور سمت میں پرواز کررہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس دراندازی کے مقاصد کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

جنوبی کوریا کے صدارتی آفس کی ترجمان کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر چنگ ایو یونگ نے کہا کہ ’ ہم اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں اور اگر دوبارہ ایسا ہوا تو اس کے خلاف سخت اقدامات کریں گے‘۔

مزید پڑھیں: جنوبی کوریا کا شمالی کوریا میں ہونے والے سرمائی اولمپکس میں شرکت کا اعلان

دوسری جانب جاپان نے جنوبی کوریا اور روس سے واقعے کی مذمت کی۔

جاپان کی کابینہ کے چیف سیکریٹری نے معمول کی پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’ ہمیں علم ہو ا کہ روسی فوجی طیاروں نے آج صبح دو مرتبہ تکیشیما کے قریب ہمارے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ اس وجہ سے ہم نے شدید مذمت کی‘، انہوں نے مزید کہا کہ ’ جنوبی کوریا کا ردعمل انتہائی افسوسناک تھا‘۔

تاہم جنوبی کوریا کے صدارتی آفس نے اصرار کیا کہ متنازع جزائر تاریخی، جغرافیائی حیثیت سے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کوریائی علاقے کا لازمی جزو ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی کوریا کے صدر نے ٹرمپ اور اُن کی ملاقات کو ’دشمنی کا خاتمہ‘ قرار دے دیا

دوسری جانب روس نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کا دعویٰ مسترد کردیا اور کہا کہ سیول کی شکایت ایک اییسے فضائی دفاع کے زون پر مبنی ہے جسے ماسکو تسلیم نہیں کرتا۔

روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ‘ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ جنوبی کوریا کے پائلٹس نے جاپان کے سمندر کے اوپر روسی فضائی فورسز کی پروازوں کے ساتھ ناکام مداخلت کی کوشش کی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ ایسے زونز نہ ہی بین الاقوامی قانون اور نہ ہی روس کی جانب سے تسلیم کیے گئے ہیں‘۔