مغربی پیرنٹنگ اسٹائل: خوبیاں اور خامیاں

24 اگست 2019

ای میل

مشرق میں عام خیال کیا جاتا ہے کہ مغربی والدین بچوں کی غلط تربیت کرتے ہیں—فوٹو: ٹرپلیٹ پیرنٹنگ نیٹ
مشرق میں عام خیال کیا جاتا ہے کہ مغربی والدین بچوں کی غلط تربیت کرتے ہیں—فوٹو: ٹرپلیٹ پیرنٹنگ نیٹ

کیا کبھی آپ نے بطور والد یہ سوچا ہے کہ پیرنٹنگ کیا ہے؟ اگر آپ نے نہیں بھی سوچا ہوگا تو آپ کا عام خیال یہی ہوگا کہ بچوں کو بڑا کرنے، کھلانے پلانے، کپڑے پہنانے اور اسکول بھیجنے کو ہی پیرنٹنگ کہتے ہیں! یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کبھی کبھی سوچتے ہوں کہ نہیں والدین کا کام اس سے کچھ بڑھ کر بھی ہے اور پھر آپ بچوں کی خواہشات پوری کرنے کو بھی اس میں شامل کرلیتے ہوں گے۔

چلیں ہم اپنی اور آپ کی بات کو ایک طرف رکھ کر دیکھتے ہیں کہ ماہرین کے نزدیک پیرنٹنگ کیا ہے؟

نفسیات، تعلیم اور بچوں کی نشوونما کے ماہرین کے نزدیک والدین صرف کھلانے، پلانے، پہنانے کے ذمہ دار نہیں بلکہ پیرنٹنگ اس سے بڑھ کر کچھ اور ذمہ داریاں قبول کرنے کا نام ہے، جس سے عام طور پر والدین جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر وہ یہ ذمہ داری نہ نبھائیں تو نہ صرف وہ خود بلکہ ان کا خاندان اور پورا معاشرہ بھی اس کی قیمت مستقبل میں ادا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پیرنٹنگ سے مراد بچوں کی جامع نشوونما ہے، خواندگی سے آگے بڑھ کر پوری شخصیت کی تعمیر ہے، شخصیت سے مراد اس کی روحانی، اخلاقی و سماجی، ذہنی و فکری، جسمانی اور پیشہ ورانہ یا عملی پہلوؤں کی تربیت شامل ہے، ان تمام پہلوؤں پر والدین کو محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ کسی ایک پہلو میں کمی سے بچے کی پوری شخصیت متاثر ہو جاتی ہے۔

اس تحریر میں ہم مغربی یا ویسٹرن پیرنٹنگ اسٹائل کا جائزہ لیں گے کہ ان کے نزدیک پیرنٹنگ کیا ہے؟ اس کے مفید و دلچسپ پہلو اور خامیوں و کمیوں پر روشنی ڈالیں گے۔ اس سے اگلی تحریر میں پاکستانی یا ایک مشرقی معاشرے کے پیرنٹنگ کے انداز پر بات کی جائے گی۔

مغربی پیرنٹنگ - خوبیاں اور دلچسپ نکات

زیادہ تر مغربی والدین بچوں کو آزادی دیتے ہیں—فوٹو: اریس ماما
زیادہ تر مغربی والدین بچوں کو آزادی دیتے ہیں—فوٹو: اریس ماما

1 - مغربی پیرنٹنگ میں والدین، بچے کو زیادہ آزادی دینے کے قائل ہوتے ہیں جس سے بچے خود مختار اور تخلیقی فرد کے طور پر بڑے ہوتے ہیں۔

2 - مغربی پیرنٹنگ میں بچے کی انفرادیت اور اظہار رائے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، اس کے لیے آزاد اور تعاون پر مبنی ماحول بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

3 - بچوں کو 'بچہ'بنا کر رکھنے کی کوشش نہیں کی جاتی، انہیں بڑے اور عقل مند فرد کی طرح ٹریٹ کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی انہیں فیصلہ سازی میں کافی حد تک آزادی دی جاتی ہے۔

4 - فیصلہ سازی میں آزادی سے بچے زندگی کے تجربات سے براہ راست چیزیں سیکھتے ہیں اور ان فیصلوں کے نتائج کو سمجھنے کا مائنڈ سیٹ بھی ڈیولپ کرتے ہیں۔

5 - میڈیکل، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی سے ہٹ کر بھی مستقبل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اس سے بچہ اپنی دلچسپی، فطرت اور استعداد سے میلان رکھنے والی فیلڈ چننے میں آزاد ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئیڈیل والدین کی 7 عادات

6 - مغربی پیرنٹنگ کا ایک دلچسپ پہلو بچوں کو 'بولنے' میں معاون ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے، نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بچوں میں جذباتی و نفسیاتی مسائل کم ہوتے ہیں، من پسند چیزوں میں آزادی کی وجہ سے خوشی کا تناسب بھی بڑھ جاتا ہے۔

7 - مغربی پیرنٹنگ، بچوں میں 'اپنی ذات پر اعتماد' پر بہت زیادہ توجہ دیتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ بچوں کو جذباتی اور ذہنی طور پر سکون فراہم کیا جائے۔

مغربی پیرنٹنگ - خامیاں اور کمیاں

1 - حد سے زیادہ آزادی فراہم کرنے کا مائنڈ سیٹ، والدین کو بچوں سے بہت زیادہ تعلق بنانے(Attachment) سے روکتا ہے، بچے، والدین سے زیادہ دوستوں، اسکرین اور دیگر چیزوں سے جڑ جاتے ہیں۔

2 - فیصلہ سازی میں بے جا آزادی، بچوں کو والدین کا نافرمان بنا دیتی ہے، بچوں کے نزدیک والدین کی رائے غیر ضروری اور 'اولڈ-فیشن' ہو جاتی ہے۔

3 - والدین کی حد سے زیادہ نرمی سے بچے نہ صرف سست، بلکہ بدتمیز اور غیر منضبط (Undisciplined) ہو جاتے ہیں۔

4 - بچے 'میں، میرا اور مجھے' کے مائنڈ سیٹ اور خطرناک حد پار کر جانے والے اعتماد کے حامل ہوجاتے ہیں۔

5 - نرم پیرنٹنگ اسٹائل کی وجہ سے بیشتر اوقات بچے آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، نتیجے کے طور پر مستقبل میں سماجی اور خطرناک جرائم میں ملوث ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔


فرحان ظفر 10 سال سے لکھنے لکھانے سے وابستہ ہیں۔

اپلائڈ سائیکالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ ہولڈر ہیں، ساتھ ہی آرگنائزیشن کنسلٹنسی، پرسنل اور پیرنٹس کونسلنگ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کے ساتھ [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔