مودی کیلئے امارات کا ایوارڈ: چیئرمین سینیٹ نے اپنا دورہ یو اے ای منسوخ کردیا

اپ ڈیٹ 25 اگست 2019

ای میل

چیئرمین سینیٹ نے یو اے ای کا دورہ کرنا تھا جو منسوخ کردیا گیا —فائل فوٹو: اے پی پی
چیئرمین سینیٹ نے یو اے ای کا دورہ کرنا تھا جو منسوخ کردیا گیا —فائل فوٹو: اے پی پی

ایوان بالا (سینیٹ) کے چیئرمین صادق سنجرانی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ متحدہ عرب امارات کے پس منظر میں عرب ملک کا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔

سینیٹ سیکٹریٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے متحدہ عرب امارات کا پہلے سے طے شدہ سرکاری دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ یہ دورہ بھارتی وزیراعظم کے حالیہ دورے کے پس منظر کو دیکھتے ہوئے منسوخ کیا گیا۔

اس بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور مودی حکومت کی جانب سے اس وقت کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا اور کرفیو نافذ ہے۔

جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ 'لہٰذا ایسے موقع پر یو اے ای کا دورہ پاکستانی قوم اور کشمیری ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کی دل آزادی کا باعث بنے گا، اس لیے چیئرمین سینیٹ نے اپنا اور پارلیمانی وفد کا دورہ منسوخ کیا'۔

خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے باوجود متحدہ عرب امارات نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے شیخ محمد بن زید النہیان نے نریندر مودی سے ملاقات کی تھی اور انہیں امارات کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’آرڈر آف زیاد‘ سے نوازا تھا جبکہ اس دوران انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’آپ (ایوارڈ) کے حقدار ہیں‘۔

یاد رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیری کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا اور وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان سے قبل ہی ہزاروں کی تعداد میں اضافی بھارتی فوجی مقبوضہ وادی میں مرکزی چیک پوائنٹس پر بھیجی گئیں تھیں جبکہ یہ علاقہ پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا عسکری زون ہے، اس کے ساتھ ساتھ وادی کے 70 لاکھ لوگوں کے لیے ٹیلی فونک رابطے، موبائل فون، بروڈبینڈ انٹرنیٹ اور کیبل ٹی وی سروسز کو معطل کردیا تھا۔

علاوہ ازیں بھارت کی جانب سے متنازع علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مزاحمت کو روکنے کے لیے مکمل سیکیورٹی لاک کردیا گیا تھا جبکہ اب تک مقبوضہ وادی میں کرفیو بھی نافذ ہے، اس کے علاوہ کم از کم 4 ہزار افراد، جس میں زیادہ تر نوجوان ہیں انہیں حراست میں لیا جاچکا ہے۔