زیادہ میٹھا کھانے کے شوق کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

25 اگست 2019

ای میل

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

کینسر دنیا بھر میں اموات کا باعث بننے والے بڑے امراض میں سے ایک ہے اور ہر سال لاکھوں افراد اس کا شکار ہوتے ہیں، حالانکہ ہر 3 میں سے ایک کیس کی روک تھام ممکن ہے۔

درحقیقت آپ کا میٹھا کھانے کا شوق بھی کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سٹی آف ہوپ نیشنل میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جسم میں بلڈ گلوکوز کی سطح میں بہت زیادہ اضافہ ڈی این اے کو توقع سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق خون میں گلوکوز کی بہت زیادہ مقدار ڈی این اے کو کمزور کردیتی ہے اور اس کی مرمت بھی نہیں ہونے دیتی۔

اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ زیادہ میٹھا کھانے کے نتیجے میں جسم میں بلڈگلوکوز کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ یہ ہائی بلڈ شوگر ذیابیطس کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطسک ے مریضوں میں کینسر کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ بلڈشوگر لیول بڑھنے سے ڈی این اے کو نقصان پہنچنتا ہوتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ڈی این اے کو نقصان پہنچننے سے جو توڑ پھوڑ ہوتی ہے وہ کینسر کا باعث بنتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران ذیابیطس کے شکار چوہوں کے ٹشوز کا تجزیہ کیا گیا جس کا مطلب ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ان نتائج کا انسانوں پر اطلاق نہ ہو مگر اس سے ہمارے جسم میں ہونے والے عمل کا اشارہ ضرور ملتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ذیابیطس کے شکار افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ کینسر کی شرح میں بھی اسی طرح اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ماہرین یہ پہلے سے ہی جانتے تھے کہ ذیابیطس سے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے مگر اب تک ان کے درمیان تعلق کا علم نہیں تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2018 میں دنیا بھر میں ایک کروڑ 81 لاکھ کینسر کے نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 96 لاکھ اموات ہوئیں۔

یعنی اس تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے جس کی وجہ دنیا بھر میں میٹھی اشیا یا مشروبات کا بہت زیادہ استعمال ہونا بھی ہے۔

اس سے پہلے بھی مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ایسی غذائیں یا مشروبات جن میں چینی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے، ان میں کیلوریز بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں جسمانی وزن بڑھتا ہے اور کینسر کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

ایسا نہیں کہ چینی کو بالکل زندگی سے نکال دیں مگر بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا ضروری ہے۔

میٹھے مشروبات یا سافٹ ڈرنکس سے آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے، ان مشروبات میں صرف چینی کی مقدار بہت زیادہ نہیں ہوتی بلکہ وہ کیمیکلز سے بھی بھرپور ہوتے ہیں، ان مشروبات سے دوری کینسر کے ساتھ ساتھ ذیابیطس اور دیگر متعدد امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔