ہواوے کا پہلا فولڈ ایبل اسمارٹ فون اکتوبر میں پیش ہونے کا امکان

08 ستمبر 2019

ای میل

ہواوے میٹ ایکس — فوٹو بشکریہ جی ایس ایم ایرینا
ہواوے میٹ ایکس — فوٹو بشکریہ جی ایس ایم ایرینا

سام سنگ نے اپنا پہلا فولڈ ایبل فون گلیکسی فولڈ جنوبی کوریا میں فروخت کے لیے پیش کردیا ہے اور رواں ماہ مختلف یورپی ممالک میں بھی دستیاب ہوگا۔

اور اب اس کے مقابلے میں ہواوے بھی اپنا پہلا فولڈ ایبل اسمارٹ فون میٹ ایکس اکتوبر میں فروخت کے لیے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس فون کو رواں سال فروری میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران پیش کیا گیا تھا اور جون میں اسے صارفین کے لیے متعارف کرایا جانا تھا، مگر پھر اسے ستمبر اور اب اکتوبر میں فروخت کے لیے پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

برلن میں آئی ایف اے ٹیکنالوجی نمائش کے دوران ہواوے کے سی ای او رچرڈ یو نے بتایا کہ انہیں توقع تھی کہ یہ فون اب تک فروخت کے لیے پیش کیا جاچکا ہوگا مگر 5 جی کی آمد اور اس کے نئے اسکرین سائز کے مطابق ایپس کی مطابقت کے لیے ڈویلپرز کو وقت دینے کی وجہ سے توقع سے زیادہ تاخیر ہوئی۔

انہوں نے کہا ممکنہ طور پر اگلے ماہ یعنی اکتوبر میں دنیا بھر میں اس کی فروخت شروع ہوجائے گی، اس فون کی تیاری نہ صرف بہت مہنگی ہے بلکہ ماس پروڈکشن کے حوالے سے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے نئے کیرین 990 پراسیسر کو اس ڈیوائس کا حصہ بنایا جاسکتا ہے جسے رواں ہفتے ہی برلن میں ٹیکنالوجی نمائش کے دوران متعارف کرایا گیا۔

ہواوے کے سی ای او کے مطابق یہ فون 2 ورژن میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا، ایک تو فروری میں متعارف کرائے جانے والا میٹ ایکس ہوگا جس میں کیرین 980 پراسیسر دیا جائے گا، جبکہ دوسرے میں کیرین 990 پراسیسر ہوگا جس میں فائیو جی موڈیم بھی موجود ہے۔

ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ اس فون میں گوگل ایپس جیسے جی میل، میپس اور پلے اسٹور وغیرہ موجود نہیں ہوں گی، تاہم اس حوالے سے فی الحال مصدقہ طور پر کچھ کہنا مشکل ہے، تاہم اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم ضرور ڈیوائس کا حصہ ہوگا۔

فروری میں موبائل ورلڈ کانگریس میں اسے پیش کرتے ہوئے ہواوے نے اس فون کو دنیا کا تیز ترین فولڈ ایبل فون قرار دیا تھا۔

میٹ ایکس بند شکل میں 6.6 انچ کے فرنٹ ڈسپلے کے ساتھ ہے جس میں 19:5:9 ایسپکٹ ریشو دیا گیا ہے جبکہ بیک پر 6.38 انچ ڈسپلے 25:9 ایسپکٹ ریشو کے ساتھ ہے۔

جب اس فون کو اوپن کیا جاتا ہے تو یہ 8 انچ اسکرین کا ٹیبلیٹ بن جاتا ہے جس میں 2 ایپس کو بیک وقت چلایا جاسکتا ہے۔

یہ فون ان فولڈ ہونے پر 5.4 ملی میٹر موٹا ہوگا جبکہ فولڈ ہونے پر 11 ملی میٹر موٹا ہوجائے گا۔

اس فون میں گرپ بار نامی ایک فیچر دیا گیا ہے جو ایک ہاتھ سے بھی اس ڈیوائس کو پکڑنے میں مدد دیتا ہے۔

اس فون میں کمپنی نے اپنا 7 نانومیٹر کیرین 980 پراسیسر (990 پراسیسر بھی اب دیا جائے گا)جبکہ بالون 5000، فائیو جی موڈیم 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج موجود ہوگی۔

اس وقت کمپنی کا دعویٰ تھا کہ فائیو جی موڈیم بہت تیز ہے اور اس کی ڈاﺅن لوڈ اسپیڈ 4.6 جی بی پی ایس ہے یعنی بیشتر 4 جی موڈیم سے 10 گنا تیز جبکہ کوالکوم ایکس 50 فائیو جی موڈیم سے دوگنا تیز۔

اس میں ڈاﺅن لوڈنگ رفتار اتنی تیز ہے کہ کمپنی کے مطابق صارفین ایک جی بی فلم محض 3 سیکنڈ میں ڈاﺅن لوڈ کرسکتے ہیں۔

اس میں 4500 ایم اے ایچ پاور سیل بیٹری دی گئی ہے جبکہ یہ 55 واٹ چارجنگ سپورٹ کرتا ہے جس سے آدھے گھنٹے میں 85 فیصد چارجنگ ممکن ہے۔

اس کا پاور بٹن فنگرپرنٹ ریڈر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

فون میں لائیسا ڈیزائن کیمرے اور یو ایس بی پورٹ سی بھی موجود ہے۔

کمپنی کی جانب سے فروری میں اس کی قیمت 2600 ڈالرز (4 لاکھ 4 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) بتائی گئی تھی، ممکنہ طور پر فروخت کے وقت بھی یہی قیمت ہوگی۔