سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کا امریکی الزام مسترد، جنگ کیلئے تیار ہیں، ایران

اپ ڈیٹ ستمبر 16 2019

ای میل

ایران کمانڈر نے کہا کہ ہم جنگ کے لیے تیار ہیں—فوٹو:رائٹرز
ایران کمانڈر نے کہا کہ ہم جنگ کے لیے تیار ہیں—فوٹو:رائٹرز

ایران نے امریکا کی جانب سے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں امریکی مراکز اور طیارے ان کے میزائلوں کے نشانے پر ہیں۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے واشنگٹن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ یمن جنگ کے الزامات سے رخ موڑنے کی کوشش کررہا ہے جہاں امریکی اتحادی سعودی عرب کی سربراہی میں فوج اتحاد مسلسل فضائی کارروائی کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یمن میں روزانہ معصوم افراد قتل ہوتے ہیں لیکن امریکی خود کو مورد الزام ٹھہرانے اور خطے میں ان کی موجودگی سے مسائل کی تخلیق کا اعتراف کے بجائے یمن کے عوام پر الزام عائد کرتے ہیں'۔

حسن روحانی نے ترکی اور روس کے ساتھ شام کے حوالے سے سہ فریقی مذاکرات میں شرکت کے لیے انقرہ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے'۔

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس کو بے معنی قرار دے دیا۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب تیل تنصیبات پر حملے میں ایران براہ راست ملوث ہے، امریکا

ان کا کہناتھا کہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے علاقے عبائق اور خیریس میں علی الصبح حملوں کے حوالے امریکی الزامات کا مقصد ایران کے خلاف اقدامات کا جواز پیش کرنا ہے۔

ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ 'اس طرح کے بیانات انٹیلی جنس اور خفیہ تنظیموں کی جانب سے کسی ملک کو بدنام کرنے اور مستقبل میں کارروائی کے لیے ایک راستے بنانے کے لیے گھڑے جاتے ہیں' ۔

پاسداران انقلاب کے کے سنیئر کمانڈر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ 'اسلامی جمہوری ایران جنگ کے لیے تیار ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہر کسی کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کے اطراف میں 2 ہزار کلومیٹر تک کے فاصلے میں موجود امریکی مراکز اور جنگی طیارے ہمارے میزائلوں کے نشانے پر ہیں'۔

ایران پر الزام عائد کرنے سے تباہی ختم نہیں ہوگی، تہران

قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ میں ناکامی کے بعد اب مائیک پومپیو ’زیادہ سے زیادہ دھوکا‘ دینے کی جانب رواں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کے تیل کے پلانٹ پر حوثی باغیوں کا ڈرون حملہ

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے کلائنٹس اس وہم کے ساتھ یمن میں پھنس گئے تھے کہ ہتھیاروں کی برتری سے جنگ جیتی جائے گی۔

جواد ظریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران پر الزام عائد کرنے سے تباہی ختم نہیں ہوگی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ہماری 15 اپریل کی تجاویز کو قبول کرتے ہوئے جنگ کا خاتمہ کرکے بات چیت شروع کی جاسکتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے۔

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران سعودی عرب میں تقریباً 100 حملوں میں ملوث ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’دوسری جانب ایرانی صدر روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف سفارت کاری کا بہانہ کرتے ہیں‘۔

مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ کہ کشیدگی ختم کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے ’دنیا کی توانائی سپلائی‘ پر حملہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے دو پلانٹس پر ڈرون حملے کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی تھی تاہم اس پر قابو پا لیا گیا تھا۔

سعودی پریس ایجنسی نے سعودی وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ابقیق اور خریس میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ صبح 4 بجے آرامکو کی صنعتی سیکیورٹی ٹیموں نے ڈرون حملے کے نتیجے میں ابقیق اور خریس کی سہولتوں میں لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے کام شروع کردیا جبکہ واقعے میں کسی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے بیان میں حملے آوروں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی تھی تاہم کہا گیا تھا کہ ابھی اس سلسلے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔

یمن کے حوثی باغیوں نے حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور اپنے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے دس ڈرونز کی مدد سے ان دو آئل فیلڈز پر حملہ کیا تھا۔