نیب کی حراست میں خورشید شاہ کی طبیعت ناساز، ہسپتال منتقل

اپ ڈیٹ ستمبر 19 2019

ای میل

نیب نے خورشید شاہ کو بنی گالہ میں قائم ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
نیب نے خورشید شاہ کو بنی گالہ میں قائم ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں حراست میں لیے گئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما خورشید شاہ کی طبیعت ناساز ہونے پر انہیں مقامی ہسپتال کے امراض قلب وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ خورشید شاہ کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا۔

مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ گرفتار

واضح رہے کہ گزشتہ روز نیب کی مشترکہ ٹیم نے آمدن سے زائد اثاثے سے متعلق کیس میں خورشید شاہ کو بنی گالہ میں قائم ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔

نیب ذرائع نے بتایا تھا کہ پی پی پی کے رہنما کے خلاف نیب میں 3 تحقیقات چل رہی ہیں اور ان کے خلاف تمام الزامات ٹھوس تھے، جس کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا۔

خورشید شاہ نے نیب کی جانب سے عائد تمام الزامات کو مسترد کیا۔

علاوہ ازیں خورشید شاہ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا گیا جہاں انہیں 2 روزہ راہداری ریمانڈ مل گیا۔

نیب کی ٹیم نے احتساب عدالت سے خورشید شاہ کو سکھر منتقلی کے لیے ایک ہفتے کے راہداری ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

خورشید شاہ کے خلاف انکوائری

خیال رہے کہ 31 جولائی کو نیب نے رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اگست میں تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کیا گیا.

پی پی پی رہنما پر ہاؤسنگ سوسائٹی میں فلاحی پلاٹ حاصل کرنے کا الزام ہے جبکہ بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی اپنے فرنٹ مین یا ملازمین کے نام پر بے نامی جائیدادیں بھی ہیں۔

نیب کے مطابق خورشید شاہ کے خلاف انکوائری میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9 (اے) اور شیڈول کے تحت بیان کردہ جرائم کے کمیشن میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

اگست میں احتساب کے ادارے نے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پر مبینہ کرپشن کے ذریعے 500 ارب روپے سے زائد کے اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا تھا لیکن پی پی پی کے رہنما نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

نیب کے مطابق خورشید شاہ اور ان کے اہلخانہ کے کراچی، سکھر اور دیگر علاقوں میں 105 بینک اکاؤنٹس موجود ہیں، اس کے علاوہ پی پی رہنما نے اپنے مبینہ فرنٹ مین ’پہلاج مل‘ کے نام پر سکھر، روہڑی، کراچی اور دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر 83 جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

ان دستاویز میں دعویٰ کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے پہلاج رائے گلیمر بینگلو، جونیجو فلور مل، مکیش فلور مل اور دیگر اثاثے بھی بنا رکھے ہیں۔

اس ضمن میں مزید بتایا گیا تھا کہ خورشید شاہ نے مبینہ فرنٹ مین لڈو مل کے نام پر 11 اور آفتاب حسین سومرو کے نام پر 10 جائیدادیں بنائیں۔

مذکورہ ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے اپنے مبینہ ’فرنٹ مین‘ کے لیے امراض قلب کے ہسپتال سے متصل ڈیڑھ ایکڑ اراضی نرسری کے لیے الاٹ کرائی، اس کے علاوہ خورشید شاہ کی بے نامی جائیدادوں میں مبینہ طور پر عمر جان نامی شخص کا بھی مرکزی کردار رہا جس کے نام پر بم پروف گاڑی رجسٹرڈ کروائی گئی جو سابق اپوزیشن لیڈر کے زیر استعمال رہی۔

اس کے علاوہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں خورشید شاہ کا زیر استعمال گھر بھی عمر جان کے نام پر ہے اور سکھر سمیت دیگر علاقوں میں تمام ترقیاتی منصوبے عمر جان کی کمپنی کو فراہم کیے گئے۔

نیب ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ادارے نے خورشید شاہ کی رہائشی اسکیموں، پیٹرول پمپز، زمینوں اور دکانوں سے متعلق تفصیلات بھی حاصل کرلیں ہیں۔

یاد رہے کہ خورشید شاہ بھی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، مریم نواز اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز سمیت اپوزیشن رہنماؤں کی اس طویل فہرست میں شامل ہوگئے، جو کرپشن کے الزامات پر زیر حراست یا ضمانت پر ہیں۔