مالیاتی پالیسی کی نگرانی کے بعد کراچی پیکیج کے فنڈز جاری کیے جائیں گے، علی زیدی

اپ ڈیٹ ستمبر 30 2019

ای میل

علی زیدی کے مطابق کچرا اٹھانے کی فی ٹن قیمت ساڑھے 6 ڈالر ہے — فائل فوٹو/ ڈان نیوز
علی زیدی کے مطابق کچرا اٹھانے کی فی ٹن قیمت ساڑھے 6 ڈالر ہے — فائل فوٹو/ ڈان نیوز

کراچی: وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جانب سے کراچی پیکیج کے لیے اعلان کیے گئے 162 ارب روپے کے فنڈز مالی نظم و ضبط اور پالیسی کی نگرانی کے بعد ہی جاری کیے جائیں گے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی جانب سے ’بائیو اکنامی فیچر آف پاکستان‘ کے عنوان سے منعقد سیمینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی پیکیج کے فنڈز کو نتائج حاصل کیے بغیر ختم ہوتا دیکھنا پسند نہیں کرے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ کراچی کے حقوق کے لیے لڑرہے ہیں اس سلسلے میں کابینہ کے سامنے بھی کئی تجاویز پیش کیں اور یہاں تک کہ وزیراعظم عمران خان سے ذاتی طور پر بھی بات کی۔

مزید پڑھیں: کراچی: سڑک پر کچرا پھیکنے کے الزام میں ایک شخص گرفتار

انہوں نے کہا کہ نظام اتنا کرپٹ ہے کہ جب انہوں نے شہر کے 6 بڑے نالوں کی صفائی کا آغاز کیا تو یہ بات علم میں آئی کہ اکثر ’کچرا کنڈیاں‘ بکتی ہے اور یہ ایک بڑا کاروبار ہے۔

علی زیدی نے کہا کہ شہر کے بڑے نالوں کی صفائی کا ٹھیکہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو دیا گیا تھا اور ان کے حساب کتاب کے مطابق کچرا اٹھانے کی فی ٹن قیمت ساڑھے 6 ڈالر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح بحریہ ٹاؤن نے بھی نالوں سے کچرا اٹھانے کی مہم میں تعاون کیا تھا فی ٹن قیمت ساڑھے 6 ڈالر وصول کی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘کراچی کے نام نہاد دوستوں نے سیوریج لائن بلاک کی‘

تاہم وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر کچرے کو سُکھانے کی غرض سے پہلے گاربیج ٹرانزٹ اسٹیشن لے جایا جائے اور پھر کچرا جمع کرنے کے مقام پر لے جایا جائے تو اس کی فن ٹن لاگت 10 ڈالر ہوجاتی ہے لیکن سندھ حکومت کی جانب سے کچرا اٹھانے کی لاگت 28 ڈالر فی ٹن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ارتھ فلڈ سائٹ پر موجود وزن کرنے والی 2 مشینوں میں سے صرف ایک کام کررہی تھی اور ہر ٹرک پر اوسطا 35 سے 40 ٹن کچرا موجود تھا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک ٹرک کے چار چار چکر ریکارڈ کیے جاتے ہیں اور اسی طرح فنڈز کو لوٹا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ 26 اگست کو سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال نے شہر کی صفائی 3 ماہ کے اندر کرنے کی پیشکش کی تھی جس کے لیے انہوں نے میئر کراچی وسیم اختر سے خصوصی اختیارات مانگے تھے جبکہ ساتھ ساتھ انہوں نے کراچی کی صفائی کے لیے 3 نکاتی حل بھی پیش کیا تھا۔

بعد ازاں میئر کراچی وسیم اختر نے مذکورہ پیشکش کو قبول کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کو خصوصی اختیارات دے دیئے تھے اور انہیں پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج تعینات کردیا تھا جبکہ اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا تھا۔

نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ ضلع شرقی، غربی، کورنگی اور وسطی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور یوسی چیئرمین عہدہ چھوڑ دیں کیونکہ اب میں چارج لینے آرہا ہوں۔

بعدازاں میئر کراچی وسیم اختر نے شہر میں مسائل کو حل کرنے کے لیے مصطفیٰ کمال کو دیے گئے پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج کے خصوصی اختیارات 24 گھنٹے کے اندر ہی واپس لے لیے تھے۔


یہ خبر 29 ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی