ایل او سی پار کرنے والے بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلیں گے، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2019

ای میل

وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو میں محصور کشمیریوں کے  حوالے سے پایا جانے والا کرب سمجھ سکتا ہوں— فوٹو: وزیراعظم عمران خان انسٹاگرام
وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو میں محصور کشمیریوں کے حوالے سے پایا جانے والا کرب سمجھ سکتا ہوں— فوٹو: وزیراعظم عمران خان انسٹاگرام

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرنے والے بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلیں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’میں آزاد کشمیر کے لوگوں میں مقبوضہ کشمیر میں 2 ماہ سے جاری غیرانسانی کرفیو میں محصور کشمیریوں کے حوالے سے پائے جانے والے کرب کو سمجھ سکتا ہوں‘۔

انہوں نے ٹوئٹ میں مزید کہا کہ ’ لیکن اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں انکی کی حمایت کی غرض سے جو بھی آزاد کشمیر سے لائن آف کنٹرول پار کرے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا‘۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ وہ بھارتی بیانیہ جو پاکستان پر ’ اسلامی دہشت گردی‘ کا الزام عائد کرکے بھارت کے ظالمانہ قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جائز جدوجہد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: پہلے مجھے اقوام متحدہ جانے دیں،پھر بتاؤں گا لائن آف کنٹرول کب جانا ہے، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ ’ ایل او سی پار کرنے سے بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر تشدد بڑھانے اور لائن آف کنٹرول کے پار حملہ کرنے کا جواز مل جائے گا‘۔

خیال رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے مذکورہ بیان یھارت کی قید میں موجود حریت پسند کشمیری رہنما یٰسین ملک کی سربراہی میں قائم تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے آزاد کشمیر سے ایل او سی کی جانب پُرامن آزادی مارچ کے آغاز کے تناظر میں دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ میں آپ کو بتاؤں گا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کب جانا ہے پہلے مجھے اقوام متحدہ جانے دیں اور کشمیر کا مقدمہ لڑنے دیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ مجھے پتہ ہے آپ لائن آف کنٹرول کی جانب جانا چاہتے ہیں لیکن ابھی لائن آف کنٹرول کی طرف نہیں جانا جب تک میں آپ کو نہیں بتاؤں گا، میں آپ کو بتاؤں گا کہ کب جانا ہے۔

عمران خان نے کہا تھا کہ پہلے مجھے اقوام متحدہ جانے دیں، دنیا کے رہنماؤں کو بتانے دیں اور کشمیر کا مقدمہ لڑنے دیں، اور انہیں بتانے دیں کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو اس کا اثر ساری دنیا پر جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز (4 اکتوبر کو) آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی کال پر مظفرآباد کی جانب گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر مشتمل ریلیوں کا آغاز کیا تھا۔

جے کے ایل ایف نے مقبوضہ کشمیر میں محصور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور عالمی برادری کی توجہ طویل عرصے سے موجود مسئلہ کشمیر کے فوری اور پرامن حل کی جانب مبذول کروانے کے لیے مارچ کا آغاز کیا ہے۔

جے کے ایل ایف کےترجمان نے ڈان کو بتایا کہ ریلی کے شرکا جمعے کی شب کو مظفرآباد میں قیام کریں گے اور آج ( 5 اکتوبر کو) صبح 10 بجے چکوٹھی سیکٹر کی جانب مارچ کا آغاز کریں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ چکوٹھی سے ہم سری نگر کے لیے لائن آف کنٹرول پار کریں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: جموں کشمیر لبریشن فرنٹ آج ایل او سی کی جانب پُرامن مارچ کرے گی

ترجمان جے کے ایل ایف انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مارچ میں رکاوٹیں پیدا نہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

علاوہ ازیں گزشتہ روز ڈویژنل کمشنر امتیاز، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سردار الیاس اور ایڈیشنل سیکریٹری مسعود الرحمٰن نے پریس کلب کا دورہ کیا تھا اور لوگوں کی حفاظت کے پیش نظر ایل و سی کے نزدیک جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ڈویژنل کمشنر چوہدری امتیاز نے کہا کہ بھارتی مظالم کی مذمت کے لیے لوگوں کے جذبات کا اظہار ایک قابلِ تحسین اقدام ہے اور انتظامیہ کو ان کے جذبات کا احساس ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’تاہم خدشات ہیں کہ بھارتی فوج لائن آف کنٹرول کی جانب بڑھنے والے افراد پر شیلنگ کرے گی جس کے نتیجے میں شدید جانی نقصان ہوسکتا ہے‘۔

ڈویژنل کمشنر نے اصرار کیا تھا کہ تمام ریلیوں کے شرکا دشمن کو نہتے شہریوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع نہ دیں۔

تاہم رپورٹس کے مطابق انتظامیہ نے پرامن مارچ کے شرکا کو لائن آف کنٹرول سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر چناری کے مقام پر روکنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔