کراچی میں رکشہ ڈرائیور کے ہاتھوں 54 سالہ خاتون قتل

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2019

ای میل

ملزم مقتولہ کی بیٹی کو اس کے تعلیمی ادارے سے لانے اور لے جانے پر مامور تھا —فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
ملزم مقتولہ کی بیٹی کو اس کے تعلیمی ادارے سے لانے اور لے جانے پر مامور تھا —فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

کراچی: سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں ایک رکشہ ڈرائیور نے مبینہ طور پر 54 سالہ خاتون کو زہر دے کر قتل کردیا۔

پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق یاسمین شوکت کو لال چوک کے نزدیک سیکٹر 15 ڈی میں واقع ان کے گھر کے اندر قتل کیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق خاتون کو قتل کرنے کے بعد 21 سالہ مبینہ قاتل شیر علی نے گھر کو آگ لگا کر خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی تاہم پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: دولت کے لیے 17 سال میں خاندان کے 6 افراد قتل کرنے والی خاتون

اس سلسلے میں سرجانی کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) افتخار احمد قریشی نے بتایا کہ ملزم رکشہ چلاتا تھا اور مقتولہ کی بیٹی کو اس کے تعلیمی ادارے سے لانے اور لے جانے پر مامور تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جب خاتون کی 18 سالہ بیٹی ہفتے کو شام میں گھر واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ گھر میں رکشہ ڈرائیور موجود تھا جبکہ اس کی والدہ بے ہوش پڑی تھیں۔

جس پر لڑکی نے رکشہ ڈرائیور سے پوچھا تو اس نے جواب میں کہا کہ میں نے کچھ نہیں کیا، انہیں دوا دی ہے جس سے وہ ہوش میں آجائیں گی۔

مزید پڑھیں: روسی خواتین قیدیوں کا جیل منتظمہ کے قتل کا ’اعتراف‘

جس پر لڑکی کو احساس ہوا کہ کچھ گڑ بڑ ہے اور قریبی کلینک سے ڈاکٹر کو بلانے کا کہہ کر نکلی اور گھر سے باہر جا کر پڑوسیوں کو صورتحال سے آگاہ کیا۔

ایس ایچ او کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچی اور اس دوران ملزم نے ایک سلینڈر کی مدد سے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی۔

اس کے ساتھ ساتھ ملزم نے خود کشی کی بھی کوشش کی تاہم پولیس نے گھر کو نذرِ آتش ہونے سے بچا کر ملزم کو گرفتار کرلیا، افتخار احمد قریشی نے مزید بتایا کہ مقتولہ کے خاوند شہر سے باہر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: شادی سے انکار پر مرد کو 'قتل' کرنے والی خاتون گرفتار

بعدازاں پولیس نے خاتون کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا جبکہ ملزم کو بھی علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی۔

پولیس کو شبہ ہے کہ خاتون کو زہر دے کر قتل کیا گیا اور یہ واقعہ ذاتی رنجش کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔