ایووکاڈو کھانا کس حد تک فائدہ مند؟

01 نومبر 2019

ای میل

فوٹو/ شٹراسٹاک
فوٹو/ شٹراسٹاک

سیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ روزانہ ایک سیب کھانے سے ڈاکٹر کو دور رکھا جاسکتا ہے مگر ایک ایووکاڈو (ناشپاتی کی ایک قسم) کو روز کھانا بھی مختلف امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ مزیدار پھل فائبر، پوٹاشیم اور دیگر اہم اجزاء سے بھرپور ہے ساتھ ساتھ کم کیلوریز کے ساتھ جسم کو مختلف اینٹی آکسائیڈنٹس بھی فراہم کرتا ہے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ افراد جو ذیابطیس کا شکار ہیں یا پھر موٹاپے سے پریشان ہیں ان کے لیے بھی ایووکاڈو کھانا کتنا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے؟

مولیکیولر نیوٹریشن اینڈ فوڈ ریسرچ نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایووکاڈو میں ایک ایسا کمپاؤنڈ موجود ہے جو ذیابطیس کی جانب لے جانے والے نظام کی روک تھام کرتا ہے۔

یہ کمپاؤنڈ خون میں جذب ہوجاتا ہے، جس کے باعث گردے، جگر یا پٹھوں پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔

موٹاپے کے شکار افراد میں زیادہ تر ٹائپ ٹو ذیابطیس کی بیماری دیکھی جاتی ہے اور بڑھے ہوئی انسولین لیول کے لیے ایووکاڈو مفید ثابت ہوتا ہے۔

یہ تحقیق چوہوں پر کی گئی جنہیں لگاتار 8 ہفتوں تک ایووکاڈو کھلائے گئے جس کے بعد دیکھا گیا کہ ان میں انسولین لیول کے ساتھ ساتھ وزن میں کمی بھی سامنے آئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جو لوگ ایووکاڈو کو روزانہ کھاتے ہیں ان کے موٹے ہونے کا امکان 35 فیصد کم ہوتا ہے۔ امریکا کی لوزیانے اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایووکاڈو فائبر اور وٹامن سی کے حصول کے لیے بہترین ذریعہ ہے، جو جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔