ٹانگوں کی اکڑن سے پریشان رہتے ہیں؟

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2019

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

ٹانگوں کی اکڑن ایک ایسا عام مسئلہ ہے جو پیر، پنڈلی اور رانوں کے مسلز کو متاثر کرتا ہے، جس کے دوران اچانک پیر کے کسی مسل میں تکلیف دہ کھچاﺅ محسوس ہوتا ہے۔

عام طور پر یہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی سو رہا ہوتا ہے یا آرام کررہا ہوتا ہے، جو کچھ سیکنڈ بعد بھی غائب ہوجاتا ہے مگر اوسطاً اس کا دورانیہ 9 منٹ تک ہوتا ہے جبکہ مسل پر اس کا اثر 24 گھنٹے بعد بھی محسوس ہوسکتا ہے۔

اکثتر ٹانگ کے اس درد کی وجہ معلوم نہیں ہوتی اور اسے بے ضرر سمجھا جاتا ہے، مگر کئی بار یہ کسی چھپے ہوئے مرض جیسے ذیابیطس کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔

عام طور پر اس کا شکار درمیانی عمر یا بزرگ افراد اور حاملہ خواتین زیادہ ہوتے ہیں مگر کسی بھی عمر میں اس کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس کا باعث بنننے والے عناصر میں ممکنہ طور پر جسم میں پانی کی کمی، کچھ ادویات، الکحل کا استعمال وغیرہ شامل ہیں۔

وجوہات

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ بیشتر کیسز میں اس کی وجہ واضح نہیں ہوتی اور یہ سوچا جاتا ہے کہ مسل کی تھکاوٹ اور اعصابی خرابی کا نتیجہ ہوتا ہے، مگر درحقیقت ایسا کیوں ہوتا ہے، یہ غیرواضح ہے۔

ایسا عندیہ دیا جاتا ہے کہ سونے کا انداز، پیروں کا کھچاﺅ اور پنڈلی کے مسلز سکڑنا راتوں کو اس اکڑن کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ ایک اور خیال یہ ہے کہ اس کی وجہ آج کل دوزانوں یا آلتی پالتی مار کر نہ بیٹھنا ہوتا ہے ، کیونکہ اس پوزیشن سے پنڈلی کے مسلز کو پھیلاتی یا کھینچتی ہے۔

ورزش بھی ایک عنصر ہے اور کسی مسل پر زیادہ وقت تک دباﺅ ڈالنا یا استعمال کرنا بھی اس اکڑن کا باعث بن سکتا ہے، جسم میں پانی کی کمی بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے مگر اس حوالے سے شواہد زیادہ ٹھوس نہیں۔

اس کے علاوہ کئی بار یہ مسئلہ کسی مرض جیسے ہیضے، فلیٹ فٹ، الکحل کا زیادہ استعمال، معدے کی بائی پاس سرجری، تھائی رائیڈ امراض، گردے فیل ہونا، ذیابیطس ٹائپ ٹو، کینسر کا علاج، مسل کی تھکاوٹ، رگوں کے امراض، پارکنسن امراض، حملہ اور مخصوص ادویات کے استعمال کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔

طریقہ علاج

اس قسم کے درد کے لیے کسی قسم کی دوا کی تجویز نہیں کی جاتی، اگر بہت شدید اکڑن سے مسل میں نرم محسوس ہونے لگتا ہے تو عام درد کش دوا ممکنہ طور پر مدد دے سکتی ہے۔

نرمی سے مسلز کو اسکریچ کرنا، متاثرہ حصے پر ہاتھ سے مساج کرنا، فوم رولر کو استعمال کرکے ٹانگ پر مساج کرنا، ٹانگ کو پھیلانا اور سکیڑنا بھی مسلز کو پھیلانے میں مدد دیتا ہے، کسی گرم چیز کو متاثرہ حصے پر لگانا۔

ایسے محدود شواہد موجود ہیں کہ ورزش اور مسلز اسکریچنگ، کیلشیئم اور وٹامن بی 12 ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، جبکہ حاملہ خواتین کو ڈاکٹر ملٹی وٹامنز استعمال کرسکتے ہیں۔

بچنا کیسے ممکن

بعض اقدامات اس سے بچاﺅ میں مدد دے سکتے ہیں، جیسے سونے کے دوران پیروں کی انگلیوں کے نیچے سپورٹ دینا یا پیر کو کسی تکیے پر رکھ کر سونا، مناسب فٹنگ والے جوتوں کا استعمال، جسمانی سرگرمیاں جیسے چہل قدمی کرنا، مناسب مقدار میں پانی پینا وغیرہ۔