افسانہ: ایک بیوہ کی سرگزشت

16 نومبر 2019

ای میل

یہ زلیخا کی کہانی ہے جس کی عمر 35 سال ہے اور وہ ایک بیوہ ہے۔ ایک سال پہلے اس کا شوہر جو ایک موٹر مکینک تھا شہر سے کچھ سامان خریدنے گیا اور وہیں اس کا ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا۔

زلیخا نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی تھی لیکن اس زمانے میں میٹرک کا نوکری حاصل کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ اس کی ماں نے اسے سلائی کڑھائی کا کام بھی سکھا کر رخصت کیا تھا جس کی وجہ سے آج اس کا اور اس کے 8 سالہ بیٹے رُستم کا پیٹ پَل رہا تھا۔

بھری دنیا میں کوئی نہیں تھا جس سے زلیخا اپنے دکھ درد بانٹ سکتی، لہٰذا وہ بازار سے ایک ڈائری خرید لائی اور جب رات کو رُستم سو جاتا تو وہ ڈائری لکھا کرتی تھی، جس سے اس کے دل کا غبار ہلکا ہوجاتا۔

زلیخا کی ڈائری

مجھے نہیں معلوم کہ ڈائری کیسے لکھی جاتی ہے، رشید کے ہوتے ہوئے کبھی ڈائری لکھنے کا خیال ہی نہیں آیا۔ آہ میرے پیارے رشید! تم نے تو ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائیں تھی اور اب دیکھو میں اور تمہارے جگر کا ٹکڑا رُستم بھری دنیا میں اکیلے رہ گئے ہیں۔

ایک مرد کے بغیر عورت کس قدر تنہا ہوجاتی ہے یہ مجھے اب معلوم ہوا ہے۔ مقبول دکاندار مجھے بُری نظروں سے دیکھتا ہے حالانکہ اس بڈھے کے پوتے پوتیاں ہیں۔ معلوم نہیں یہ کچھ مردوں کی ہوس ختم کیوں نہیں ہوتی۔ میں چاہتی ہوں کہ اس کی دکان سے کچھ نہ خریدوں لیکن اس کے علاوہ اتنے ادھار پر راشن کون دے گا؟

بعض دفعہ ہفتے میں 3، 4 کپڑوں کے جوڑے سلنے کو آجاتے ہیں لیکن کوئی ہفتہ تو یونہی نکل جاتا ہے۔ شادیوں کا سیزن آنے والا ہے، امید ہے کچھ پیسے ہاتھ آجائیں گے۔ مالک مکان کا 3 ماہ کا کرایہ باقی ہے تو وہ چُکا دوں گی۔ بس دعا ہے کہ شادیوں کے سیزن سے پہلے بارشوں کا سیزن نہ شروع ہو ورنہ چھتیں ٹپکنے لگیں گی اور سبھی رقم ادھر خرچ ہوجائے گی، لیکن بارشیں بھی آخر کب تک رُک سکتی ہیں؟ اب مالک مکان خود تو ہمیں یہ کام کروا کر دے گا نہیں کہ ہم تو اس کے لیے اضافی بوجھ ہیں۔

اور کیا لکھوں؟ رُستم سو رہا ہے، میں چاہتی ہوں جلد یہ پڑھ لکھ کر بڑا افسر بن جائے۔ رشید تمہارے ہوتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا تھا کہ وقت بہت تیزی سے کَٹ رہا ہے لیکن ابھی تمہیں گئے سال گزرا ہے اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک صدی گزار بیٹھی ہوں اور رُستم جو تیزی سے بڑا ہورہا تھا اس کی نشونما بھی رُک سے گئی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اس کا قد ایک انچ بھی بڑھا ہوگا۔ اس کا یونیفارم اور جوتے پرانے ہوچکے ہیں لیکن میرے پاس ابھی رقم نہیں ہے۔ میں باقاعدگی سے ہر سُوٹ سے چند روپے جوتوں اور یونیفارم کے لیے بچا کر رکھ رہی ہوں۔ بس چاہتی ہوں کہ وہ مجھ سے ہر صبح یہ سوال نہ پوچھا کرے کہ آج زیادہ کپڑے سلنے آئیں گے؟

اب اس معصوم بچے کو کیا جواب دوں۔

ڈائری لکھتی رہوں تو صبح ہوجائے، نیند اب میری آنکھوں سے رُوٹھ گئی ہے، آتی بھی ہے تو ہر آہٹ پر چونک کر اُٹھ بیٹھتی ہوں۔

اکیلی عورت کے دکھ کون سمجھ سکتا ہے کہ جس پر ایک خوف دن رات طاری رہتا ہو۔

یہ تو ایک ناختم ہونے والے دکھ ہیں آخر ڈائری میں کیا کیا لکھا جائے؟

بیوہ کا بیٹا

رُستم باقاعدگی سے اسکول جاتا ہے لیکن اس کے جوتے اور یونیفارم پرانا ہے۔ اس کی ماں نے اس سے کہہ رکھا ہے کہ جب بہت سے کپڑے سِلنے کو آئیں گے تو وہ اسے نئے جوتے اور یونیفارم ضرور خرید کر دے گی۔ وہ روز صبح گھر سے نکلنے سے پہلے ماں سے پوچھتا ہے کہ آج زیادہ کپڑے سلنے کو آئیں گے؟

’ہاں ضرور میرے چاند۔ آج ڈھیر سارے کپڑے آئیں گے‘، اس کی ماں جواب دیتی۔

واپسی پر وہ پوچھتا ’ماں آج کتنے کپڑے آئے تھے؟‘

’آئے تو زیادہ تھے لیکن ان کے رنگ بالکل اچھے نہیں تھے، میں نے واپس لوٹا دیے کہ اچھے اچھے رنگوں والے کپڑے لاؤ تبھی میں سی کر دوں گی۔ اب بُرے رنگ کے کپڑے تو سی کرنہیں دے سکتی نا؟‘

وہ سوچتا کہ معلوم نہیں یہ اچھے رنگ کے کپڑے کب سِلنے آئیں گے۔

گلی کے سرے پر جو انکل مقبول ہیں وہ بہت اچھے ہیں کیونکہ وہ اسے مفت میں ٹافیاں دے دیتے ہیں۔ وہ سوچتا کہ ایسے اچھے لوگ بہت کم کیوں ہوتے ہیں؟

مقبول دکان دار

مقبول دکان دار کی کریانے کی دکان ہے اور اس کے تینوں بیٹے شادی کے بعد دوسرے شہروں میں جا بسے ہیں۔

اسے ایک خیال ہمیشہ بے چین رکھتا کہ کیا اسی دن کے لیے اولاد کو پڑھایا لکھایا تھا کہ شادیاں کرنے کے بعد وہ اسے اکیلا چھوڑ کر دُور چلے جائیں؟

کل ہی اس کے بڑے بیٹے سجاد کا فون آیا تھا۔

’ابّا مبارک ہو پوتا ہوا ہے، آپ لاہور کب آئیں گے ملنے؟‘، سجاد نے پوچھا۔

’جلد آؤں گا‘، اس نے بڑے روکھے انداز میں کہا تھا۔

سچ تو یہ تھا کہ وہ سجاد سے کہنا چاہتا تھا کہ ’میں کیوں آؤں ملنے؟ خود تم سال بعد آتے ہو اور مجھے بلاتے رہتے ہو۔ کبھی کوئی کہتا ہے کہ لاہور کب آؤ گے، کوئی پوچھتا ہے کہ ملتان کب آنا ہے؟ کراچی کا چکر نہیں لگایا اس سال۔ نہیں لگاتا میں چکر، مجھے بھلا کس چیز کی کمی ہے؟ میرے پاس بھی کافی دولت ہے، میں بھی پھر سے اپنا گھر بساؤں گا‘۔

لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کہا اور فون بند کردیا اور زلیخا کے خیالوں میں ڈوب گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح زلیخا اس سے شادی کرنے کے لیے مان جائے۔

بیوہ کی ڈائری

آج تو مقبول دکان دار نے حد ہی کردی۔ مجھے کہتا ہے کہ آپ کا آگے زندگی گزارنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

بڈھے کھوسٹ میرا جو بھی پلان ہو تمہارا کیا واسطہ تعلق؟ کاش میں نے اس سے 10 ہزار کا قرض سامان نہ خرید رکھا ہوتا تو منہ توڑ دیتی۔ لیکن سلائی کے لیے اس ہفتے صرف 2 ہی جوڑے آئے ہیں۔ شادیوں کا سیزن آنے والا ہے رقم جمع ہوتے ہی سب سے پہلے اس مقبول کا قرض لوٹاؤں گی۔

بیوہ کا بیٹا

رُستم کی ماں نے اس کا جوتا تیسری دفعہ مرمت کرایا تھا اور اب کی بار موچی نے دونوں جوتوں کا تلوا بدل دیا۔ ایک جوتے کے نیچے کچھ موٹا چمڑا لگایا اور دوسرے پر پتلا جس کی وجہ سے اسے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس کی ایک ٹانگ لمبی اور دوسری چھوٹی ہے۔

معلوم نہیں یہ اچھے رنگوں کے کپڑے سِلنے کب آئیں گے؟

مقبول دکان دار

اس نے ایک روز رشتہ کرانے والی خاتون سے بات کی کہ وہ زلیخا سے اس کے رشتے کی بات کرے اور کہے کہ راشن کے جتنے روپے باقی ہیں وہ سب چھوڑنے کو تیار ہے۔ دوسرا اس کے مالک مکان کو کرایہ بھی ادا کردے گا۔ اسے امید تھی کہ اس کا دل نرم ہوجائے گا ورنہ تو وہ اسے یوں دیکھتی تھی جیسے پتھر اس کے سر پر مارنا چاہتی ہو۔

بیوہ کی ڈائری

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ مقبول دکان دار نے اپنی اصلیت دکھا دی۔ آج رشتہ کرانے والی خاتون مقبول کا رشتہ لے کر آئی تھی۔ میرا جی چاہا کہ خاتون کا منہ توڑ دوں کہ اسے ذرا شرم نہ آئی اس بوڑھے کا رشتہ لاتے ہوئے، لیکن پھر خیال آیا کہ جب تک شادیوں کا سیزن نہیں آتا، زیادہ کپڑے سِلنے کے لیے نہیں آئیں گے اور پھر اس موئے پیٹ کی آگ بھی تو بجھانی ہے۔ چلو میں تو بھوکی سو لوں گی لیکن بیچارے رُستم کا کیا قصور ہے وہ کیوں فاقے کاٹے؟ میں نے کہہ دیا ہے سوچنے کے لیے کچھ مہلت چاہیے۔

بیوہ کا بیٹا

رستم بہت خوش تھا کیونکہ اس کے اچھے انکل مقبول نے اس کے خراب جوتے دیکھے تو وہ اسے بازار لے گئے اور وہاں سے نئے جوتے اور یونیفارم خرید کردیا۔ اب وہ اس انتظار میں تھا کہ کب اگلا دن شروع ہو اور وہ یہ جوتے اور یونیفارم پہن کر اسکول جائے۔

مقبول دکان دار

زلیخا نے سوچنے کے لیے کچھ مہلت مانگی تھی اور مقبول دکان دار سے ایک پَل بھی نہیں گزر رہا تھا۔ اس نے زلیخا کے بیٹے کو جوتے اور یونیفارم لے کر دیے تھے تاکہ زلیخا کے دل میں گھر کرسکے۔ اس کا خیال تھا کہ شادی کے بعد وہ اس لڑکے کو بورڈنگ اسکول میں داخل کرادے گا۔

بیوہ کی ڈائری

آج رُستم آیا تو اس کے ہاتھ میں یونیفارم اور جوتوں کا ڈبہ تھا اور یہ سب اسے مقبول دکان دار نے خرید کر دیا تھا۔ میرا جی چاہا کہ دونوں چیزیں لے کر جاؤں اور مقبول کے منہ پر کھینچ کر دے ماروں، آخر اس نے کیا مجھے بھکاری سمجھ رکھا ہے؟ ابھی تو میرے ہاتھ سلامت ہیں سلائی کڑھائی کرلیتی ہوں لیکن پھر رُستم کا ہنستا مسکراتا چہرہ سامنے آگیا۔ وہ یہ دونوں چیزیں حاصل کرکے بہت خوش تھا۔ بہت دنوں بعد میں نے اسے اتنا خوش دیکھا تھا اور ویسے بھی میں روز جھوٹ بول بول کر اب تھک چکی تھی اسی لیے دونوں چیزیں رکھ لیں۔

معلوم نہیں یہ شادیوں کا سیزن کب آئے گا؟

مقبول دکان دار

آج زلیخا کا مالک مکان اس سے گھر خالی کرانے کا مطالبہ لے کر آیا تھا۔ وہ تو اچھا ہوا مقبول دکان دار وہاں موجود تھا، اس نے فوراً 3 ماہ کا کرایہ ادا کیا اور بات رفع دفع ہوگئی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ شام کو رشتہ کرانے والی خاتون اس کی دکان پر آئی اور کہا کہ منہ میٹھا کراؤ، زلیخا نے ہاں کردی ہے۔

بیوہ کی ڈائری

آخر میں کیا کرتی؟

مالک مکان گلی میں کھڑا شور مچا رہا تھا۔ میں رستم کو لے کر کہاں جاتی؟ ایک اکیلی عورت کی ساری دنیا دشمن بن جاتی ہے۔ مجھے مقبول بے حد بُرا لگتا ہے لیکن اگر آج اس نے کرائے کی رقم ادا نہ کی ہوتی تو ہمیں یہ مکان خالی کرنا پڑتا۔ پھر وہ ہمیں کئی ماہ سے گھر کا راشن بھی دے رہا تھا۔

رشید میرے پیارے، میں مجبور تھی۔ شادیوں کا سیزن آنے میں ابھی بھی کچھ ماہ رہتے ہیں اور یہاں حالت یہ ہے کہ پچھلے 2 ہفتوں سے ایک جوڑا بھی سِلنے کے لیے نہیں آیا اور برسات کا موسم شروع ہوچکا ہے۔ کل رات اتنی بارش ہوئی کہ اس کمرے کی چھت کے 3 کونوں سے پانی بہنے لگا اور ہم ماں بیٹے نے چوتھے کونے پر بیٹھ کر ساری رات آنکھوں میں گزار دی۔ مقبول دکاندار نہ ہوتا تو شاید ہمارے پاس کل یہ چوتھا کونا بھی نہ ہوتا۔ آج شام کو رشتہ کرانے والی خاتون آئیں تو میں نے ہاں کہہ دی اور میں نے رُستم کو بھی کافی سمجھایا ہے کہ اب میں اس کے انکل مقبول سے شادی کرنے لگی ہوں۔

آہ! زندگی بھی کیسا وقت دکھاتی ہے۔ انسان کو کیا کیا کرنا پڑتا ہے، اگرچہ مقبول دکان دار مجھے اب بھی بہت بُرا لگتا ہے لیکن یہ پیٹ کی آگ ...