ڈیجیٹل پاکستان سے نوجوان آبادی ہماری طاقت بن جائے گی، عمران خان

اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2019

ای میل

وزیر اعظم نے ڈیجیٹل پاکستان کو ملک کا مستقبل قرار دیا— فوٹو: :فیس بک
وزیر اعظم نے ڈیجیٹل پاکستان کو ملک کا مستقبل قرار دیا— فوٹو: :فیس بک

وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان ہمارا مستقبل ہے اور اس کے ذریعے دنیا کی دوسری سب سے بڑی نوجوان آبادی کا حامل ملک ہونے کی بدولت ہماری آبادی ہماری طاقت بن جائے گی۔

'ڈیجیٹل پاکستان ویژن' کے اجرا کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جہاں وزیر اعظم نے اس پروگرام کا آغاز کیا اور اس موقع پر ڈیجیٹل ویژن پاکستان کی سربراہ ڈاکٹر تانیہ ایدروس، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان، جہانگیر ترین اور وفاقی کابینہ کے اراکین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: 'نیاپے' پاکستان میں ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کو مزید وسعت دینے کیلئے تیار

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے ڈیجیٹل پاکستان پر پہلے توجہ دینی چاہیے تھی کیونکہ یہ ہمارے نوجوانوں کے لیے بہت اہم ہے، دنیا اس طرف جارہی ہے لیکن ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ہماری پوری توجہ ڈیجیٹل پاکستان منصوبے پر ہو گی جس کے ذریعے ہم نوجوانوں کی صلاحیتیں دنیا بھر کے سامنے لائیں گے اور اس ایک چیز سے ہماری نوجوان آبادی ہمارے لیے طاقت بن جائے گی کیونکہ ہمارے پاس دنیا میں دوسری سب سے بڑی نوجوان آبادی ہے، یہ ہمارے لیے بہت بڑا موقع ہے اور ہم اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔

'کامیاب لوگ مشکل فیصلے کرتے ہیں'

وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے اوورسیز پاکستانیوں کا اندازہ ہے کہ ان کے بیرون ملک جانے کی کیا وجہ ہوتی ہے، ان کی پہلی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے خاندان کو پالیں، انہیں اچھی تعلیم دیں لیکن پھر وہ اپنی زندگی میں عجیب مخمصے کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان آنا چاہتے ہیں لیکن ان کے بچے وہاں کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ پاکستان آنا نہیں چاہتے، لہٰذا اس صورت میں وہ وہیں پھنس جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'میں نے انگلینڈ میں پاکستانیوں کی کئی نسلیں دیکھیں اور ان کے مسائل بھی دیکھے'۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان پوسٹ نے الیکٹرانک منی آرڈر سروس متعارف کروادی

وزیر اعظم نے خصوصی طور پر اوورسیز پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو زندگی میں ایک فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے، یہ آپ اپنے آپ سے سوال پوچھتے ہیں اور جو اس کا صحیح جواب دیتے ہیں وہی لوگ دنیا میں اوپر بھی جاتے، ہیں عزت بھی ہوتی ہے، ان کے دل میں سکون بھی ہوتا ہے لیکن جو لوگ غلط فیصلہ کر لیتے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آتی کہ زندگی کا کیا مقصد ہے تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وزیر اعظم نے گورنر اسٹیٹ بینک اور تانیہ ایدروس کو مثال قرار دیا

عمران خان نے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی سربراہ تانیہ ایدروس اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تانیہ گوگل کے لیے کام کر رہی تھیں اور پتہ نہیں کتنے پیسے لے رہی تھیں، مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ ان کی تنخواہ کے چیک میں زیرو کتنے تھے جبکہ رضا باقر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے لیے کام کر رہے تھے جہاں ان کی ریٹائرمنٹ زیادہ دور نہیں تھی اور انہیں آئی ایم ایف کی پنشن بھی ملتی لیکن ان دونوں نے مشکل فیصلے کیے۔

واضح رہے کہ تانیہ ایدروس دنیا کی مشہور ٹیک کمپنی گوگل کے سنگاپور آفس میں سینئر پاکستانی ایگزیکٹو تھیں لیکن انہوں نے اس نوکری کو چھوڑتے ہوئے پاکستان آ کر کام کرنے ترجیح دی اور اب وہ 'ڈیجیٹل پاکستان ویژن' پروگرام کی سربراہی کریں گی۔

تانیہ اس وقت گوگل میں پراڈکٹ اینڈ پیمنٹس فار نیکسٹ بلین یوزر کی ڈائریکٹر تھیں جہاں ان کا کام نئے ابھرتے ہوئے رجحانات کے لیے پراڈکٹ اور سروسز کے مواقع پیدا کرنے اور تیزی سے ترقی کرتی مارکیٹ کی ضروریات پر توجہ دینا تھا۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ دنیا میں جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں وہ مشکل فیصلے کرتے ہیں کیونکہ آپ بوڑھے ہی تب ہوتے ہیں جب زندگی سے مزاحمت اور چیلنجز ختم ہو جاتے ہیں، جس دن چیلنج ختم، اس دن زندگی ختم ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: برصغیر کی تاریخی دستاویزات کو ڈیجیٹل کرنے کا آغاز

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پاکستان جانے کا فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ انہیں دکھ رہا ہوتا ہے کہ یہاں مشکل حالات ہیں، کرپشن ہے، کام کرنے جاؤں گا تو اس سسٹم میں کیسے چلوں گا اور وہاں آسان زندگی ہوتی ہے لہٰذا اکثر لوگوں نے پاکستان واپس آنے کی کوشش کی لیکن جب مشکلات آئیں تو وہ چھوڑ کر واپس چلے گئے۔

اس موقع پر عمران خان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پیغمبر کی زندگی آسان نہیں تھی، ان سب نے مشکل راستہ اختیار کیا، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامیاب بزنس مین تھے لیکن آخر انہیں کیا ضرورت تھی کہ وہ مشکل راستہ اختیار کریں کہ جس میں لوگ ان پر طنز کریں، جسمانی تشدد کریں اور انہوں نے 13سال مشکل وقت برداشت کیا جس کی انہیں ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ کامیاب بزنس مین کی حیثیت سے ایک مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔

انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں اور پاکستان کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آسان راستہ ڈھونڈتے ہیں وہ آپ کی بہتری کا راستہ نہیں ہوتا، جن لوگوں نے بڑے کام اور بڑے فیصلے کیے ہیں انہوں نے آسان کے بجائے مشکل راستہ چنا اور بڑا فیصلہ وہ ہوتا ہے جس میں خطرہ اور رسک ہوتا ہے ورنہ ہر کوئی یہ کام کر لے لہٰذا جو لوگ بھی اوپر پہنچے ہیں انہوں نے بڑے فیصلے کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل نے پاکستان کو ڈیجیٹل دنیا میں تیزی سے ابھرتا ہوا ملک قرار دیدیا

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے گورنر اسٹیٹ بینک اور تانیہ ایدروس کی ہمت بندھاتے ہوئے کہا کہ وقت ثابت کرے گا کہ یہ آپ کی زندگی کا بالکل درست فیصلہ اور ٹرننگ پوائنٹ تھا۔

'بڑا مشکل وقت ملا ہے، آپ یہ 5 سال تک سنتے رہیں گے'

اس موقع پر انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ آپ سب مجھ سے یہ سب سن کر تنگ آ گئے ہوں گے کہ 'بڑا مشکل وقت ملا ہمیں' اور آپ یہ مجھ سے 5 سال تک سنتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آپ پانچ سال تک یہ سنتے رہیں گے کہ ہمیں کتنا بڑا خسارہ ملا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کتنا تھا، ہمیں تمام ادارے خسارے میں ملے اور ہمارا روپیہ دباؤ کا شکار تھا اور اس تمام تر خسارے کا سب سے بڑا اثر روپے پر پڑتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا روپیہ 200، ڈھائی سو اور تین سو تک جاسکتا تھا اور ہمارے پاس اسے روکنے کے لیے پیسے بھی نہیں تھے لیکن ہم نے اس کو ایک حد تک روک دیا، ہم نے اپنی تمام تر توجہ معاشی بہتری پر مرکوز رکھی اور ہماری معاشی ٹیم نے اس استحکام کے لیے بہت محنت کی۔

ای گورننس سے کرپشن کا خاتمہ ممکن

اس موقع پر انہوں نے ای گورننس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ای گورننس بہت ضروری ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں کرپشن نیچے تک سرائیت کر چکی ہے، کرپشن ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتی ہے، جنہوں نے اوپر سے کرپشن کی وہ تو باہر جا چکے ہیں لیکن یہ اب نیچے تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ ای گورننس سے ہم کرپشن کو ختم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہ کرپشن کے خاتمے اور لوگوں کی زندگی آسان بنانے کا واحد ذریعہ ہے۔

ویڈیو دیکھیں: پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل پن بجلی گھر

انہوں نے کہا کہ ای گورننس عوام کی زندگی آسان بنانے کا ذریعہ ہے، جب حکومت کے ساتھ عوام کا تعلق ہوتا ہے تو ان کی زندگی آسان ہو جاتی ہے، انہیں قطاروں میں کھڑا نہیں رہنا پڑتا اور آخر میں آپ کے موبائل فون پر ہی سب کچھ ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم شوکت خانم میں 19 سال قبل ای گورننس لے کر آئے جس کا فائدہ یہ ہوا کہ پرچیاں ختم ہو گئیں، جتنی بھی چھوٹی موٹی چوری و کرپشن کے ذرائع تھے، وہ سب ختم ہو گئے اور میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک ادارے میں جیسے ہی ای گورننس آئی تو پورا ادارہ تبدیل ہو گیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اسی ای گورننس کو حکومتی اداروں میں بھی لاگو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاہم آپ دیکھیں گے کہ آنے والے دنوں میں ہماری حکومت ڈیجیٹل پاکستان کے لیے پورا زور لگائے گی۔

انقلاب کیلئے تیار ہیں، ہم سب کو عہد کرنا ہوگا، تانیہ ادریس

ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی سربراہ تانیہ ایدروس نے ڈیجیٹل پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'میں کسی کو جانتی ہوں جنہوں نے وزیراعظم کو کچھ ماہ پہلے ای میل بھیجی کہ اگر آپ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹائزیشن کی جانب جارہے ہیں تو تانیہ سے بات کریں'۔

انہوں نے مزید بتایا 'وزیراعظم نے یہ ای میل اصلاحاتی ٹیم کو آگے بھیج دی، جس نے مجھ سے رابطہ کیا اور وہاں میرا رابطہ جہانگیر ترین سے ہوا جنہوں نے مجھے پاکستان واپسی کے لیے قائل کیا، میرے خیالات سنے، پلیٹ فارم دیا اور حکومتی عہدیداران سے ملوایا اور وزیراعظم کے پاس لے کر گئے تاکہ میں اپنی تجاویز سے انہیں آگاہ کرسکوں، پہلی ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ یہاں مسائل بہت ہیں، تو گھبرانا نہیں'۔

واضح رہے کہ تانیہ ایدروس پاکستان سے 20 سال پہلے بیرون ملک چلی گئی تھیں اور انہوں نے پہلے امریکا کی برانڈیز یونیورسٹی سے بائیولوجی اور اکنامکس میں بی ایس کی ڈگری لی اور پھر میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی سے ایم بی اے کیا۔

بعد ازاں انہوں نے ایک اسٹارٹ اپ کلک ڈائیگنوسٹک کی بنیاد رکھی اور اس کی ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا۔

بعد ازاں گوگل کی جنوبی ایشیا کی کنٹری منیجر کے طور پر 2008 سے 2016 تک کام کیا اور پھر انہیں گوگل کے پراڈکٹ، پیمنٹ فار نیکسٹ بلین یوزر پروگرام کی ڈائریکٹر بنادیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ٹیکنالوجی کے شعبے سے فارغ التحصیل طلبہ کی اکثریت آج عالمی سطح پر مقابلہ نہیں کرسکتی کیونکہ ہمارا نصاب قدیم ہے اوریہ ہمارے طلبہ کو جدید مہارتوں پر نظر رکھنے سے روکتا ہے۔

تانیہ ایدروس نے کہا کہ آج ہم سب کو یہ عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم انقلاب کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں اور اسے آگے بڑھانے کے لئے مل کر کام کریں گے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ یہ پاکستان میں ہوسکتا ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کتنی جلدی شروعات کرسکتے ہیں؟