عدالت کی آغا سراج درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 14 دسمبر 2019

ای میل

عدالت نے آغا سراج درانی کی گرفتاری، ان کے گھر کی تلاشی کو بلاجواز قرار دیا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
عدالت نے آغا سراج درانی کی گرفتاری، ان کے گھر کی تلاشی کو بلاجواز قرار دیا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی ہدایت کردی۔

صوبائی عدالت عالیہ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست ضمانت پر سماعت کی اور وزارت داخلہ کو مذکورہ ہدایت جاری کردیں۔

مزید پڑھیں: سراج درانی کی درخواست ضمانت پر سماعت سے ایک اور جج کی معذرت

علاوہ ازیں بینچ نے ضمانت کی مد میں آغا سراج درانی کو ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دے دیا۔

دوران سماعت بینچ نے آغا سراج درانی کی گرفتاری پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے اقدام پر سوال اٹھایا اور اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری اور ان کے گھر کی تلاشی کو بلاجواز قرار دیا۔

اس ضمن میں دو رکنی بینچ نے امید ظاہر کی کہ چیئرمین نیب افسران کی تربیت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کو مزید بڑھانے، تلاشی اور گرفتاری کے طریقہ کار میں بہتری لانے سے متعلق ہدایت جاری کریں۔

بینچ نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار ضمانت کی رعایت کے مستحق ہیں کیونکہ مذکورہ معاملے میں بہت سے پہلو توجہ طلب ہیں اور اس میں مزید انکوائری کی جانی چاہیے۔

مزیدپڑھیں: آغا سراج درانی کی اہلیہ اور بچوں کے وارنٹ گرفتاری جاری

عدالتی حکم نامے میں ریمارکس دیے گئے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے کسی شخص کے گھر کی تلاشی کے لیے قانون میں طریقہ کار موجود ہے، تاہم انتہائی افسوسناک کے ساتھ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آغا سراج درانی کے گھر کی تلاشی سیکشن 103 سی آر پی سی میں طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے جس میں غیر پیشہ ورانہ انداز نمایاں ہے۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ تفتیشی افسر نے اعتراف کیا کہ وہ فوجداری ضابطہ اخلاق کی دفعہ 103 کے بارے میں نہیں جانتے۔

خیال رہے کہ جولائی 2018 میں نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف کرپشن کے مختلف الزامات پر انکوائری کی منظوری دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر کامران مائیکل کو گرفتار کرلیا

نیب کے ریجنل ڈائریکٹر نے پیپلز پارٹی کے رہنما کے خلاف 3 الگ الگ تحقیقات کا آغاز کیا تھا، جس میں پہلی تحقیقات میں آغا سراج درانی پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام تھا۔

اس کے علاوہ ان پر دوسرا الزام 352 غیر قانونی تقرریوں کا الزام تھا جبکہ ان کے خلاف تیسری تحقیقات ایم پی اے ہوسٹل اور سندھ اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے مخصوص فنڈ میں خورد برد سمیت ان منصوبوں کے پراجیکٹ ڈائریکٹرز کی تقرریوں سے متعلق تھی۔