سال 2019: بچوں کو سہیل ایاز جیسے درندوں سے بچانے کیلئے عملی اقدامات کب ہوں گے؟

حکومت کی جانب سے خاطر خواہ سنجیدگی نظر نہیں آئی، نونہالوں کو اس عفریت سے بچانے کیلئے والدین کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

اپ ڈیٹ جنوری 24, 2020 10:45am

'میرا نام سہیل ایاز ہے ... اور میں پورنوگرافی مواد برآمد ہونے پر برطانیہ اور اٹلی میں سزا کاٹ چکا ہوں جس کے بعد انہوں نے مجھے پاکستان ڈی پورٹ کردیا تھا اور میں یہاں خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مشیر کی حیثیت سے کام کررہا تھا '۔

یہ انکشافات صوبہ خیبر پختونخوا پر حکومت کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مشیر اور چارٹرڈ اکاؤٹنٹ سہیل ایاز کے ہیں جو انہوں نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم کے ڈپارٹمنٹ کے حکام کے سامنے گرفتاری کے بعد تفتیش کے دوران کیے تھے۔

ملزم نے بتایا تھا کہ 'میرا نام سہیل ایاز ہے اور میں بحریہ ٹاؤن کے عوامی ولاز ٹو فیز ایٹ کا رہائشی ہوں، میں ہم جنس پرست ہوں، مجھے لڑکوں میں دلچسپی ہے جبکہ متعدد لڑکوں کے ساتھ سیکس کرچکا ہوں، اس کے علاوہ برطانیہ میں مجھے پورنوگرافی مواد برآمد ہونے پر مجرم قرار دیا گیا تھا'۔

اس تفتیش کی منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ ملزم کا مزید کہنا تھا کہ 'برطانیہ میں بھی سزا کاٹی ہے اس کے علاوہ اٹلی میں بھی سزا کاٹ چکا ہوں جس کے بعد مجھے پاکستان ڈی پورٹ کردیا گیا تھا'۔

تفتیش کے دوران ملزم سہیل ایاز نے ایف آئی اے حکام کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ‘برطانیہ میں مجھ سے چائلڈ پورنوگرافی کا مواد برآمد ہوا تھا جس کی وجہ سے مجھے 4 سال قید کی سزا ہوئی تاہم قانون کے مطابق مجھے 19 ماہ کی سزا مکمل کرنے کے بعد برطانوی حکام نے اطالوی پولیس کے حوالے کردیا تھا’۔

اٹلی میں کیس کے حوالے سے 46 سالہ سہیل ایاز نے بتایا تھا کہ ان کا کیس 8 ماہ تک ٹرائل میں ہی تھا جس کے بعد ملزم کو اٹلی سے پاکستان ڈی پورٹ کردیا گیا تھا۔

خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اور چارٹرڈ اکاؤٹنٹ سہیل ایاز کی جانب سے گرفتاری کے بعد کیے جانے والے مذکورہ انکشافات نے جہاں ایک جانب سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے کام کرنے والے اداروں کو ہلا کر رکھ دیا وہیں ملک کی سول سوسائٹی اور عوام میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر سہیل ایاز کے حوالے سے بات کرنے سے پہلے ہم آپ کو ماضی کے جھروکوں میں لیے چلتے ہیں جہاں 1999 میں بھی ایک ایسا کیس سامنے آیا تھا جس کی وجہ سے پاکستانیوں اور خاص طور پر والدین کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

100 بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا مجرم جاوید اقبال

وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ صدی کی آخری دہائی کے اختتام پر سال 1999 میں لاہور میں ایک پولیس عہدیدار کے دفتر میں جاوید اقبال نامی ایک شخص نے آکر بتایا تھا کہ وہ متعدد بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرچکا ہے، اس موقع پر پولیس حکام کو اس معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ تفتیش کرنا چاہیے تھی لیکن ہوا اس کے برعکس! اور پولیس نے ہوشربا انکشافات کرنے والے شخص کو ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے دفتر سے جانے کو کہا۔

بعد ازاں مذکورہ شخص نے روزنامہ جنگ لاہور کو طویل خط بھیجا جس کے ساتھ اس نے بچوں کے زیادتی کے بعد قتل کا اعتراف کرتے ہوئے 74 بچوں کی تصاویر کو بھی اس کا حصہ بنایا۔

لاہور جنگ کے ایڈیٹر نے وہ تحریر کرائم رپورٹرز کے حوالے کر کے کہا کہ اس آدمی کا پتہ لگائیں اور سچائی جاننے کی کوشش کریں جس پر رپورٹرز پولیس کو آگاہ کیے بغیر ہی خود سے تحقیقات کرنے کے لیے خط میں درج متعلقہ پتے پر پہنچے، جس مکان کا پتہ بتایا گیا تھا اس کے دروازے پر تالا لگا دیکھ کر انہوں نے دیوار پھلانگی اور مکان میں پہنچ گئے۔

مکان میں پہنچنے کے بعد ان کے سامنے وہ سب تھا جس سے خط میں تحریر کیے گئے انکشافات پر یقین کیا جاسکتا تھا، یعنی بچوں کی تصاویر، کپڑے اور جوتے جبکہ تیزاب کا ڈرم بھی موجود تھا۔

اس کے علاوہ دیوار پر خون کے چھینٹے تھے اور وہ زنجیریں تھیں جن سے وہ بچوں کا گلا دبا کر انہیں قتل کردیا کرتا تھا، جس کے بعد نومبر 1999 کے آخری ہفتے میں 100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال مغل کی لرزہ خیز داستان اخبار میں چھپی تو پورے ملک میں تہلکہ مچ گیا۔

مذکورہ خبر میڈیا میں شہ سرخیوں کی زینت بننے کے بعد پولیس ملزم جاوید اقبال کی تلاش سرگرم ہوگئی، اسی دوران لاپتہ بچوں کے والدین راوی روڈ تھانے آتے تھے اور اپنے بچوں کی تصویر پہنچاتے جبکہ اخبارات روزانہ شہ سرخیاں لگاتے، جس نے حکومت اور پولیس پر ملزم کی گرفتاری کے لیے دباؤ بڑھا دیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ واقعے کے ایک ماہ بعد 30 دسمبر کو ملزم جاوید اقبال جنگ کے کرائم رپورٹر رئیس انصاری سے ملنے خود ان کے دفتر میں پہنچ گیا، جہاں رپورٹر نے ملزم کا طویل انٹرویو کیا اور ساتھ ہی پولیس کو جاوید اقبال کی موجودگی کا بتایا گیا جنہوں نے وہاں پہنچ کر اسے گرفتار کرلیا۔

ملزم جاوید اقبال نے جنگ کو انٹرویو کے دوران بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ درباروں اور ایسے ہی دیگر مقامات پر گھر سے بھاگے ہوئے بچوں سے دوستی کرتا تھا، انہیں بہلا پھسلا کر اپنے مکان میں لاتا اور ان کے ساتھ زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کردیتا تھا، بعد ازاں ثبوت مٹانے کے لیے وہ بچوں کے اعضا کاٹ کر انہیں تیزاب کے ڈرم میں ڈال کر گلا دیتا تھا۔

ملزم نے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ زیادتی کے بعد قتل کیے جانے والے بچوں کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔

جس وقت پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا تھا اس موقع پر اس کی تلاشی بھی لی گئی تھی اور اس کے پاس سے زہر ملا جو اس نے خودکشی کے لیے اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔

پولیس نے ملزم جاوید اقبال کو عدالت میں پیش کیا اور فروری 2000 میں سماعت شروع ہوئی، اور اس دوران جاوید اقبال نے متعدد مرتبہ اپنے بیانات تبدیل کیے، کبھی کہا کہ تمام بچے زندہ ہیں، کبھی کہا کہ اس نے اپنے ساتھ ناانصافیوں کا بدلہ لیا، بعد ازاں ملزم پر فرد جرم عائد ہوئی تو اس نے الزامات کا اعتراف کرلیا اور آخر کار 16 مارچ 2000 کو عدالت نے اسے 100 مرتبہ سزائے موت کا حکم سنایا۔

ٹرائل کورٹ سے سزا ہونے کے بعد جاوید اقبال نے اس کے خلاف اپیل دائر کی لیکن فیصلے کی نوبت نہیں آئی اور گرفتاری کے دو سال بعد 9 اکتوبر 2001 کو جاوید اقبال لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مردہ پایا گیا، پولیس کے مطابق مجرم نے خودکشی کی تھی۔

بعد ازاں رواں سال اپریل میں یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ اداکار شمعون عباسی اس وقت ایک ویب سیریز پر کام کررہے ہیں جو سلسلہ وار قاتل جاوید اقبال مغل کی کہانی سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہے، اس ویب سیریز کا نام ’جاوید اقبال اینڈ دی ہنڈریڈ اسمائلز‘ (javed iqbal and the hundred smiles) رکھا گیا۔

قصور میں بچوں سے زیادتی اور ویڈیوز بنانے کے واقعات

مجرم جاوید اقبال کی جیل میں پراسرار موت کے طویل عرصے بعد پنجاب کے علاقے قصور میں اس سے ملتا جلتا ایسا ہی ایک اور واقعہ سامنے آیا۔

2015 میں یہ رپورٹس منظر عام پر آئیں تھیں کہ قصور سے پانچ کلو میٹر دور قائم حسین خان والا گاؤں کے 280 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اس گھناؤنے جرم کے دوران ان کی ویڈیو بھی بنائی گئی جبکہ ان بچوں کی عمریں 14 سال سے کم بتائی گئی تھیں۔

رپورٹس کے مطابق ان بچوں کے خاندانوں کو ویڈیو دکھا کر بلیک میل بھی کیا جاتا تھا اور ان کے بچوں کی ویڈیو منظر عام پر نہ لانے کیلئے لاکھوں روپے بھتہ طلب کیا جاتا تھا۔

بعد ازاں پولیس کی جانب سے گرفتار کیے جانے والے ایک ملزم نے بتایا تھا کہ یہ جرائم اکیڈمی کے کلاس روم میں اس کی موجودگی میں ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ قصور میں بچوں کے ساتھ ہونے والی بد فعلی، جنسی زیادتی اور اس کی فلم بندی کے واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد سات متاثرہ بچوں کے عزیزوں کی جانب سے ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی۔

قصور اسکینڈل کے حوالے سے 19 مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کیے گئے تھے جن میں 4 مقدمات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے دیگر عدالتوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 18 اپریل 2016 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قصور میں بچوں کے ساتھ بدفعلی اور زیادتی میں ملوث دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، عدالت نے مجرم حسیم عامر اور فیضان مجید کو 25، 25 سال قید کی سزا سنائی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں 3 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی بھی سزا سنائی گئی تھی۔

بعدِازاں 13 فروری 2018 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے قصور ویڈیو اسکینڈل کیس میں تین مجرموں کو عمر قید اور تین تین لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی تھی۔

24 فروری 2018 کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے قصور ویڈیو اسکینڈل کے 12 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ 15 مارچ 2018 کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قصور ویڈیو اسکینڈل کے ایک اور کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم حسیم عامر کو عمر قید کی سزا سنادی تھی۔

اسی طرح لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے قصور ویڈیو اسکینڈل کے ایک اور کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 3 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

23 جولائی 2017 کو ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پنجاب میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اچانک ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور گذشتہ 6 ماہ کے دوران صرف قصور شہر میں 5 سے 10 سال کی عمر کے 10 کم سن بچوں کو ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

زینب قتل کیس

قصور کی رہائشی 6 سالہ زینب 4 جنوری 2018 کو لاپتہ ہوئی تھی اور 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ان کی لاش ملی جس کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لیا تھا، اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزم کی فوری گرفتاری کی ہدایات جاری کی تھیں۔

پولیس نے 13 جنوری کو ڈی این اے کے ذریعے ملزم کی نشاندہی کی اور ملزم کو گرفتار کیا جس کے بعد 23 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں زینب کے والد محمد امین کی موجودگی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملزم عمران علی کی گرفتاری کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ زینب زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد ملک کے معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے ایک پروگرام میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ملزم عمران کا تعلق ایک ایسے گروہ کے ساتھ ہے جو بچوں کے ساتھ زیادتی کے علاوہ چائلڈ پورنو گرافی کے حوالے سے کام کررہا ہے تاہم وہ عدالت میں طلب کیے جانے پر اس کے ثبوت فراہم کرنے سے قاصر تھے۔ (اس کی مزید تفصیلات رپورٹ میں نیچے فراہم کردی گئی ہیں)

6 فروری 2019 کو قصور میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی زینب کے کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم عمران کو مزید 7 بچیوں کے ریپ اور قتل کیسز میں نامزد کیا تھا۔

بعد ازاں 9 فروری کو عدالت نے گرفتار ملزم عمران علی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا تھا۔

ٹرائل کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم عمران کو زینب قتل کیس میں ڈی این اے میچ ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا جس کے بعد ملزم عمران کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا تھا۔

6 سالہ بچی زینب کے کیس میں لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے 17 فروری 2018 کو عمران علی پر جرم ثابت ہونے پر انہیں 4 مرتبہ سزائے موت، تاحیات اور 7 سالہ قید کے علاوہ 41 لاکھ روپے جرمانے کا فیصلہ سنایا تھا۔

زینب سمیت دیگر بچیوں کے قاتل عمران علی کو مجموعی طور پر 21 مرتبہ سزائے موت، عمر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

عدالت نے دوسرے مقدمے کائنات بتول کیس میں مجرم کو 3 بار عمر قید اور 23 سال قید کی سزا سنائی تھی، ساتھ ہی عدالت نے مجرم کو 25 لاکھ جرمانہ اور 20 لاکھ 55 ہزار دیت ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

اس سے قبل عدالت نے 5 سالہ تہمینہ، 6 سالہ ایمان فاطمہ، 6 سالہ عاصمہ، عائشہ آصف، لائبہ اور 7 سالہ نور فاطمہ کے ساتھ زیادتی اور قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم کو 5 مقدمات میں 21 مرتبہ سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا۔

مجرم عمران علی نے انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی لیکن لاہور ہائی کورٹ نے مجرم عمران کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

بعد ازاں مجرم عمران نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور عدالت عظمیٰ سے بھی مجرم عمران علی کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا اور 17 اکتوبر 2018 کو اس سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا۔

لاہور میں مجرم عمران علی کو تختہ دار پر لٹکائے جانے کے بعد زینب کے والد محمد امین انصاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج انصاف کے تقاضے پورے ہوئے تاہم سرعام پھانسی دی جاتی تو مجرم عمران عبرت کا نشان بن جاتا۔

تاہم جاوید اقبال، قصور ویڈیو اسکینڈل اور زینب زیادتی اور قتل کیس جیسے واقعات سے بھی ہمارے مقتدر حلقوں نے کچھ نہ سیکھا اور نہ ہی ان واقعات کے بعد حکومت بچوں کو ایسے جنسی درندوں سے بچانے کے لیے کوئی سنجیدہ نوعیت کے اقدامات اٹھاسکی۔

ایسے میں بچوں سے زیادتی اور ان کے قتل کا ایک اور افسوس ناک واقعہ رونما ہوا اور قصور ہی کے علاقے چونیاں سے 3 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

چونیاں سے 3 بچوں کی لاشیں برآمد

17 ستمبر 2019 کو صوبہ پنجاب کے شہر قصور سے لاپتہ ہونے والے 3 بچوں کی لاشیں تحصیل چونیاں کے انڈسٹریل اسٹیٹ کے علاقے سے برآمد ہوئی تھیں، جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی تھی۔

ابتدائی طور پر مقتول بچوں کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ دو بچوں کی باقیات اور ایک بچے کی لاش چونیاں انڈسٹریل اسٹیٹ کے علاقے سے ملی اور ساتھ ہی خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بچوں کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کر کے ان کی لاشیں پھینکی گئیں۔

پولیس نے لاشیں تحویل میں لے کر شواہد اکٹھے کیے تھے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی تھی۔

پولیس نے واقعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ دو بچے بالترتیب 2 اگست اور 8 اگست کو غائب ہوئے تھے اور ان کی ایف آئی آر درج کر کے معاملے کی تفتیش شروع کی گئی تھی جبکہ ایک بچہ 16 ستمبر کو لاپتہ ہوا تھا جس کی لاش بعد ازاں 17 ستمبر کو ملی۔

واقعے کے دوسرے ہی روز قصور میں 3 بچوں کے قتل پر شہریوں نے متعلقہ پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاج کیا تھا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا، 20 ستمبر 2019 کو یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے پولیس نے قصور شہر کے تمام افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا۔

21 ستمبر کو متاثرہ بچوں کے اہلخانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے قصور کی تحصیل چونیاں میں 3 بچوں کے قاتل کے سر کی قیمت 50 لاکھ مقرر کی تھی۔

یکم اکتوبر 2019 کو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ سانحہ چونیاں میں بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والے ملزم کی شناخت سہیل شہزاد کے نام سے ہوئی جسے گرفتار کر لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سانحہ چونیاں میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کرنے والے ملزم سہیل شہزاد کا ڈی این اے بچوں کے کپڑوں سے ملنے والے ڈی این اے سے میچ کر گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 'واقعے کی تحقیقات میں ایک ہزار 649 ریکارڈ یافتہ ملزمان کی جیوفینسنگ کی گئی اور ایک ہزار 543 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے جس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی اور انہیں قتل کرنے والا سیریل کلر یہی ہے'۔

وزیراعلیٰ نے مزید بتایا تھا کہ '27 سالہ ملزم رانا ٹاؤن کا رہائشی اور لاہور میں تندور پر روٹیاں لگاتا تھا، جون، اگست اور ستمبر میں بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی اور انہیں قتل کیا گیا جبکہ ملزم کو رحیم یار خان سے گرفتار کیا گیا'۔

دوسرے ہی روز لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پنجاب کے علاقے چونیاں میں 4 بچوں کے قتل کے ملزم کو تفتیش کے لیے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

بعد ازاں 2 دسمبر 2019 کو بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کے واقعات پر مقدمات کی سماعت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں شروع ہوئی تھی جبکہ ملزم سہیل شہزاد پر فرد جرم عائد کیے جانے سے متعلق بتایا گیا تھا کہ 9 دسمبر کو عائد کردی جائے گی۔

17 دسمبر 2019 کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے چونیاں میں بچوں سے زیادتی کے بعد انہیں قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم سہیل شہزاد کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے تین دفعہ سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔

ملزم سہیل ایاز کی گرفتاری

یہ وہ بڑے واقعات ہیں جو منظر عام پر آئے اور انہوں نے شہریوں اور سوسائٹی کی نا صرف تشویش میں اضافہ کیا بلکہ معاشرے میں ہونے والے گھناؤنے جرم سے بھی پردہ ہٹایا، ان کیسز کے سامنے آنے کے بعد جہاں حکومت سے ملوث ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا وہیں حکومت کے نمائندوں کی جانب سے شہریوں کو یہ باور کرایا جاتا رہا کہ اسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت سے سخت قانون سازی کی جائے گی لیکن ان سب کے باوجود سال 2019 میں ایک نیا واقعہ سامنے آیا۔

یہ واقعہ تھا خیبرپختونخوا کے مشیر سہیل ایاز کی گرفتاری کا، رپورٹ کے ابتدا میں ملزم کا مختصر ذکر کیا گیا ہے تاہم آپ کو اس حوالے سے مزید تفصیلات سے آگاہ کررہے ہیں کہ نا صرف ملزم خود بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں ملوث رہا بلکہ وہ ان سے زیادتی کے دوران بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ کے ایک ایسے مقام پر جہاں ہر کسی کو رسائی حاصل کرنا آسان نہیں یعنی 'ڈارک ویب' تک پہنچاتا تھا۔

سہیل ایاز کی گرفتاری کیسے ہوئی؟

12 نومبر 2019 کو راولپنڈی پولیس نے بچوں سے بدفعلی کر کے ان کی ویڈیو بنانے کے الزام میں سہیل ایاز نامی شخص کو گرفتار کیا تھا، اس حوالے سے پولیس افسر فیصل رانا نے ڈان کو بتایا تھا کہ روات پولیس اسٹیشن میں ایک 13 سالہ لڑکے کی ماں کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سی پی او کے مطابق شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا قہوہ فروخت کرتا ہے جسے ملزم زبردستی اپنی گاڑی میں بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں موجود ایک مکان میں لے گیا اور اسے منشیات دے کر 4 روز تک ریپ کرتا رہا۔

درج کیے گئے مقدمے کے مطابق ملزم نے لڑکے کے ریپ کی ویڈیو بھی بنائی اور اس واقعے کے بارے میں کسی کو بتانے کی صورت میں ویڈیو جاری کرنے کی دھمکی بھی دی۔

ملزم کے خلاف درج مقدمے میں اغوا، زہر دینے، کسی کو نقصان پہنچانے، غلام بنانے اور غیر فطری عمل کی دفعات لگائی گئیں۔

اس حوالے سے رانا فیصل کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ ملزم انٹرنیشنل ڈارک ویب کا سرغنہ ہے اور اس نے پاکستان میں 30 بچوں کو ریپ کرنے کا اعتراف کیا ہے، پولیس افسر کا مزید کہنا تھا کہ ملزم سہیل ایاز بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کے جرم میں برطانیہ میں جیل کی سزا بھگت چکا ہے جہاں سے اسے ڈی پورٹ کردیا گیا تھا جبکہ ملزم کے خلاف اٹلی میں بھی بچوں سے بدفعلی کا مقدمہ چلایا گیا تھا جس کے بعد اسے وہاں سے بھی ڈی پورٹ کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) صدر رائے مظہر نے بتایا کہ ملزم سہیل ایاز اسلام آباد کے علاقے نیلور کا رہائشی ہے جس کی 9 سال قبل شادی ختم ہوگئی تھی اور اس کے اہلخانہ بھی اس سے اظہار لاتعلقی کر چکے ہیں، انہوں نے مزید بتایا تھا کہ ملزم چارٹرڈ اکاؤٹننٹ ہے اور انتہائی ذہین اور ڈارک ویب کو استعمال کرنے کا ماہر ہے۔

مزید پڑھیں: اگر ’سہیل ایاز‘ کل اسکول کھول لے تو؟

ان کا کہنا تھا کہ ملزم خیبرپختونخوا کے سول سیکرٹریٹ پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کو کنسلٹینسی دے رہا تھا اور سرکار سے ماہانہ 3 لاکھ روپے تنخواہ بھی لے رہا ہے اس کے علاوہ ملزم برطانیہ میں بین الاقوامی شہرت کے حامل فلاحی ادارے میں بھی ملازمت کرچکا ہے۔

دوسرے ہی روز راولپنڈی پولیس نے بچوں سے بدفعلی کر کے ان کی ویڈیو بنانے والے ملزم سہیل ایاز کو عدالت میں پیش کرکے ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا تھا۔

اعترافی بیان دباؤ کے تحت دلوایا گیا، والد ملزم

ملزم سہیل ایاز کے والد ایاز نے بتایا تھا کہ پولیس نے ان کے بیٹے پر بے بنیاد الزامات لگائے ہیں جبکہ ملزم کے اہلخانہ کا اس سے اظہار لاتعلقی کے پولیس کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے ملزم کے والد کا کہنا تھا کہ 'میں نے اپنے بیٹے کو عاق نہیں کیا ہے، جو ایف آئی آر دی گئی وہ جھوٹی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سہیل ایاز نے اعترافی بیان دباؤ کے تحت دیا ہے، اس کے علاوہ بیرون ملک جو کیسز سہیل ایاز پر بنے وہ معمولی نوعیت کے تھے'۔

ملازمت سے فارغ

اسی روز خیبرپختونخوا حکومت نے ملزم سہیل ایاز کو سیکریٹریٹ پلاننگ ڈپارٹمنٹ میں بطور کنسلٹنسی کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ سہیل ایاز 2017 سے کے پی حکومت کے ساتھ عالمی بینک کے ترقیاتی منصوبے میں بطور کنسلٹنٹ خدمات انجام دے رہا تھے۔

ملزم کی نشاندہی پر ایک اور بچہ برآمد

15 نومبر 2019 کو راولپنڈی پولیس نے انٹرنیشنل ڈارک ویب کے ملزم سہیل ایاز کی نشاندہی پر 12 سالہ بچے کو برآمد کیا تھا، پولیس افسر فیصل رانا نے تصدیق کی تھی کہ سہیل ایاز کے ہاتھوں اغوا ہونے والے 12 سالہ عدیل خان کو برآمد جبکہ ایک ملزم خرم کالا کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس افسر کے مطابق انٹرنیشنل ڈارک ویب کے ملزم سہیل ایاز نے بچے کو ’آئس‘ پلا کر بدفعلی کی، ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق سہیل ایاز نے بچے کو 2 ماہ تک اپنے پاس رکھا تھا۔

بیرون ملک سزائیں

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق سہیل ایاز کو 2009 میں ایک برطانوی عدالت نے ایک 14 سالہ بچے کے ریپ کے اعتراف کے بعد چار سال قید کی سزا سنائی تھی، اس کے علاوہ ملزم نے عدالت میں اس بچے کی تصاویر تقسیم کرنے اور 397 دیگر غیر اخلاقی تصاویر اپنے پاس موجود ہونے کا بھی اعتراف کیا تھا۔

یاد رہے کہ وہ بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے سابق ملازم بھی ہیں جبکہ سہیل ایاز کے تعلقات رومانیہ کے ایک ایسے گروہ سے بھی ہیں جو بچوں سے زیادتی میں ملوث پائے گئے تھے۔

سنہ 2008 میں برطانیہ میں ورک ویزا کے ذریعے داخل ہونے والے سہیل ایاز کو فروری 2009 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اٹلی کے شہر روم کی پولیس نے ایک بچوں سے زیادتی کرنے والے ایک اطالوی شخص کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔

پولیس کو معلوم ہوا تھا کہ سہیل ایاز نے اطالوی ملزم کو 15 رومانیئن بچوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، سہیل مبینہ طور پر بچوں سے زیادتی کرنے والے ایک سوئیڈش شخص کے مڈل مین تھے جن کا کہنا تھا کہ وہ زیادتی کرنے کے لیے رومانیئن بچے فراہم کر سکتے ہیں۔

اطالوی پولیس نے برطانوی پولیس کو خبردار کیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف برطانیہ میں تحقیقات شروع ہوئیں، جس کے بعد برطانوی پولیس نے کارروائی کی اور سہیل ایاز کے فلیٹ سے 2000 سے زائد غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز برآمد کی گئیں، جن میں نہایت کم عمر بچوں اور زیادتی کا نشانہ بنائے گئے بچوں کی تصاویر بھی شامل تھیں۔

جس کے بعد پولیس حکام کے مطابق برطانوی حکومت نے سہیل ایاز کو جولائی 2009 میں اٹلی کی حکومت کے حوالے کیا تھا۔

تھانہ روات کے ایس ایچ او کاشف محمود نے بتایا تھا کہ ملزم سہیل ایاز نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ وہ اب تک پاکستان میں 30 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا چکا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ملزم کے ساتھ دیگر افراد بھی کام کر رہے تھے اور اس گینگ میں شامل دیگر افراد کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ تفتیش کے دوران ہونے والی پیش رفت کے بعد کیا جائے گا۔

بچوں سے زیادتی اور ویڈیو بنانے والے دیگر گرفتار ملزمان

سہیل ایاز کی گرفتاری سے قبل 2017 میں ایک ایسا ملزم گرفتار ہوا تھا کہ جس کے انکشافات نے تعلمی اداروں میں اپنے بچوں کو حصول تعلیم کے لیے بھیجنے والے والدین کو اس اقدام سے قبل کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 12 اپریل 2017 کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے سرگودھا سے بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر فروخت کرنے والے شخص کو گرفتار کرکے اس کا لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر قبضے میں لے لیا تھا۔

گرفتار ہونے والے 45 سالہ ملزم سعادت امین نے تفتیش کاروں کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کمپیوٹر کی تعلیم کے نام پر اس نے 25 بچوں کو جھانسہ دے کر اس گھناؤنے کام میں استعمال کیا تھا۔

سائبر کرائم ونگ کے ہیڈ ڈپٹی ڈائریکٹر شاہد حسن کا کہنا تھا کہ ایجنسی کی جانب سے ملک میں پکڑا جانے والا یہ اسکینڈل اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔

تفتیش کے دوران سعادت امین نے انکشاف کیا تھا کہ وہ گزشتہ چند سالوں سے بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز انٹرنیٹ پر فروخت کررہا ہے، امین بچوں کو کمپیوٹر کی تعلیم دینے کا جھانسہ دے کر اس کام میں استعمال کرتا تھا۔

تفتیش کار اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال نے ڈان سے گفتگو میں بتایا تھا کہ ملزم نے متاثرہ بچوں کے والدین کو یہ کہہ کر 3 ہزار سے 5 ہزار روپے بھی ادا کیے کہ وہ اپنے ایک کمرے کے گھر میں انہیں کمپیوٹر سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر سکھائے گا۔

واضح رہے کہ ملزم کی گرفتاری ناروے کے سفارت خانے کی جانب سے ایک خط کے ذریعے موصول ہونے والی اطلاع کے بعد عمل میں آئی تھی جس کے بعد ایف آئی اے نے معاملے کی تحقیقات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس خط میں سائبر کرائم ونگ کو آگاہ کیا گیا تھا ناروے کی پولیس نے بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے کے معاملے پر ایک شخص کو حراست میں لیا ہے جبکہ سعادت امین بھی اس شخص کے ساتھیوں میں سے ایک ہے۔

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) کے ٹیکسلا کیمپس سے گریجویشن کرنے والا سعادت امین منڈی بہاؤالدین کے علاقے ملکوال کا رہائشی ہے، بعد ازاں سعادت ملکوال سے سرگودھا روانہ ہوا، جہاں اس نے اس گھناؤنے کام کا آغاز کیا۔

تفتیش کے دوران ملزم کا مزید کہنا تھا کہ ناروے سے تعلق رکھنے والے جیمز نامی شخص سے اس کا پہلا رابطہ انٹرنیٹ کے ذریعے ہوا اور اسی شخص نے اسے ’چائلڈ پورن انڈسٹری‘ سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

سعادت امین نے کہا کہ ’جیمز نوجوان لڑکوں کی ویڈیوز کے عوض 100 سے 400 ڈالر ادا کیا کرتا تھا جبکہ وہ نہ صرف اپنی بنائی ہوئی ویڈیوز بلکہ روسی اور بنگلادیشی پورن ویب سائٹس کے سرورز سے چرائی گئی ویڈیوز بھی ناروے اور سویڈن کے خریداروں کو فروخت کیا کرتا تھا‘۔

تفتیش کار آصف اقبال کا کہنا تھا کہ اب تک ایف آئی اے ملزم کی تحویل سے 65 ہزار نازیبا ویڈیوز برآمد کرچکا ہے جو اس نے غیر ملکی ویب سائٹس سے ہیک کی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ملزم ہیکنگ کے عمل سے اچھی طرح واقف ہے جبکہ اپنے مجرمانہ ریکارڈ کو خفیہ رکھنے کے لیے اس نے سرگودھا کے پولیس اہلکاروں سے بھی تعلقات قائم کر رکھے تھے‘۔

علاوہ ازیں دوران تفتیش بنائی گئی ملزم کی ایک ویڈیو میں ملزم کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیوز بنا کر یورپی ممالک میں اپنے کلائنٹ کو فروخت کرتا تھا جس کے عوض اسے 100 سے 200 یورو (10 ہزار سے 20 ہزار پاکستانی روپے) ادا کیے جاتے تھے۔

بین الاقوامی گروہ کا ایک اور رکن گرفتار

30 نومبر 2019 کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی آے) کے سائبر کرائم سرکل نے خیبرپختونخوا کے علاقے ایبٹ آباد میں کارروائی کرتے ہوئے بچوں کی غیراخلاقی ویڈیوز بنانے والے بین الاقوامی گروپ کے رکن کو گرفتار کیا تھا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم وقار احمد کے واٹس ایپ نمبر کی معلومات انٹرپول اسپین نے فراہم کی تھیں، مزید بتایا گیا تھا کہ تربیلا میں ملزم وقار احمد کے گھر پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے حکام نے دعویٰ کیا کہ ملزم غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے والے بین الاقوامی گروپ سے رابطے میں تھا اور وہ ملزم بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتا تھا۔

حکام کے مطابق گرفتاری کے وقت ملزم سے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات برآمد کیے گئے اور موبائل فون اور دیگر آلات سے غیر اخلاقی ویڈیوز بھی برآمد کی گئی تھیں۔

کراچی سے ملزم گرفتار

اسی روز ایف آئی اے نے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی کے علاقے میٹروول سے ایک نوجوان کو مبینہ طور پر بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے کے گھناونے عمل میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا، ایف آئی اے سائبر کرائم کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالغفار کے مطابق ایجنسی کو ایک شہری کی جانب سے 27 نومبر کو شکایت موصول ہوئی تھی جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے بعد ان کے قبضے سے مختلف تصاویر اور بچوں کی غیر اخلاقی چند ویڈیوز بھی برآمد کی گئی تھیں جبکہ ملزم سے ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ مشتبہ نوجوان نے 10 اور 13 سال کے عمر کے بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز بناتا تھا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالغفار نے کہا کہ انہوں نے فیس بک اور انسٹا گرام کے کئی جعلی اکاؤنٹس بنا رکھے تھے اور وٹس ایپ پر بھی گروپ بنائے تھے جہاں وہ کم سن لڑکوں کو شامل کرتا تھا، ملزم کم سن لڑکوں کی فحش ویڈیوز بنانے کے بعد انہیں بلیک میل کرنے اور ان کے خاندان کو پیسے جمع کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔

گوجرانوالہ سے ایک اور ملزم گرفتار

13 نومبر 2019 کو گوجرانوالہ میں احمد نگر تھانے کے علاقے دلاور چیمہ میں سی آئی اے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بچوں کے ریپ اور اس کی ویڈیوز بنانے والے ملزم کو گرفتار کیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم ندیم درجنوں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور دیگر جرائم میں پولیس کو مطلوب تھا، انہوں نے بتایا کہ چھاپے کے دوران پولیس نے ملزم کے قبضے سے لیپ ٹاپ اور بد فعلی کی ویڈیوز برآمد کرکے قبضے میں لے لیں تھی۔

— فائل فوٹو: ڈان نیوز
— فائل فوٹو: ڈان نیوز

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) سی آئی اے عمران عباس کا کہنا تھا کہ ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ وہ بچوں کو ویڈیو گیم کھلانے کی لالچ دے کر بلاتا تھا اور ان کے ساتھ بدفعلی کرتا اور اس کی ویڈیوز بھی بنایا کرتا تھا۔

دوران تفتیش ملزم نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وہ عرصہ دراز سے اس کام میں ملوث ہے اور درجنوں بچوں کے ساتھ زیادتی کرچکا ہے۔

سہیل ایاز کی گرفتاری کے ساتھ ڈارک ویب کا نام بھی ملزم سے جوڑا گیا تھا اور ایک مرتبہ پھر زینب قتل کیس کے دوران معروف صحافی اور اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کے ڈارک ویب کے حوالے سے انکشافات لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہوگئے، جنہیں لوگ تقریباً بھول چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کی پرورش اور والدین کی ذمہ داریاں

ڈارک ویب سے متعلق ڈاکٹر شاہد مسعود کے انکشافات

ملک میں 'ڈارک ویب' کے حوالے سے سب سے پہلے معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشافات کیے تھے اور اس رپورٹ میں ان کا ذکر اسی حوالے سے ضروری بھی سمجھا گیا، شاہد مسعود سے ان کے دعوؤں سے متعلق مزید معلومات کے حصول کے لیے کوشش کی گئی تاہم وہ دستیاب نہ ہوسکے، لیکن ہم اس رپورٹ میں ان کے وہ انکشافات شامل کررہے ہیں جن کے ثبوت وہ اس وقت تو پیش نہیں کرسکے تھے لیکن سہیل ایاز کی گرفتاری کے بعد وہ سب دعوے اب حقیقت میں بدل گئے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل نیوز ون کے اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ڈارک ویب تک رسائی میں کامیاب ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے سامنے متعدد ایسی معلومات سامنے آئی ہیں جو نا قابل بیان ہیں۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کیا تھا کہ قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی معصوم 6 سالہ بچی زینب کے کیس میں گرفتار ملزم عمران کے 37 بینک اکاؤنٹس ہیں جن میں ڈالرز، یورو اور پاؤنڈز میں لین دین کی جاتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ عمران کی پشت پناہی ایک گینگ کر رہا ہے جس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک وفاقی وزیر اور ملک کی اہم شخصیت شامل ہے۔

اس دعوے کے بعد چیف جسٹس نے نوٹس لیا تھا اور انہیں سپریم کورٹ میں طلب کیا تھا، جہاں ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت کو ملزم کے 37 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کراتے ہوئے ایک پرچی پر کچھ شخصیات کے نام لکھ کر دیئے تھے۔

بعد ازاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے قصور میں ریپ کے بعد قتل ہونے والی 6 سالہ بچی زینب کے قتل کی تفتیش کرنے والے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مرکزی ملزم کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔

جس پر ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان نے پریس کانفرنس میں اسٹیٹ بینک کی رپورٹ موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی رپورٹ بے بنیاد اور من گھڑت ہے اور ہم اس رپورٹ کے پیچھے چھپے محرکات سمجھنے سے قاصر ہیں جو انہوں نے نتائج کو دیکھے بغیر چلائی ہے'۔

بعد ازاں اینکر کی جانب سے ایکسپریس نیوز کے ایک پروگرام میں کہا گیا تھا کہ تفتیش کرنا ان کی ذمہ داری نہیں ہے اور یہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خبر کی صداقت کو جانچیں، ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے یہ خبر کسی غلط ارادے سے نہیں دی'۔

یکم مارچ 2018 کو زینب ریپ اور قتل کیس پر سپریم کورٹ کی جانب سے لیے گئے ازخود نوٹس کیس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کے ٹی وی پروگرام میں کیے گئے دعوؤں اور انکشافات کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی تھی، جس میں دعوؤں کو جھوٹ قرار دے دیا گیا تھا۔

— فائل فوٹو: ڈان
— فائل فوٹو: ڈان

7 مارچ کو سپریم کورٹ نے زینب قتل از خود نوٹس کیس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے ملزم عمران کے بین الاقوامی گروہ سے رابطے سے متعلق دعوؤں پر ان کی معافی کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب معافی کا وقت نکل گیا اور انصاف ہوگا جو سب کو نظر آئے گا۔

10 مارچ کو سپریم کورٹ میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے قصور میں 6 سالہ بچی زینب کے قتل میں مجرم عمران علی سے متعلق کیے گئے انکشافات پر اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جس میں انہوں نے اپنے الزامات ثابت نہ کرنے پر معافی مانگے بغیر آئندہ محتاط رہنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

شاہد مسعود کے اس تحریری جواب کے 10 روز بعد یعنی 20 مارچ کو سپریم کورٹ نے معروف اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود پر 3 ماہ کے لیے ٹی وی پروگرام کرنے پر پابندی عائد کردی تھی جبکہ ان سے تحریری معافی نامہ بھی طلب کیا گیا تھا۔

یہ ڈارک ویب کیا ہے؟

اس حوالے سے انٹرنیٹ ایکسپرٹ ہارون بلوچ نے ایک انٹر ویو میں بتایا کہ ڈارک ویب بہت اہم موضوع ہے اس حوالے سے ہمیں یقینا ً بہت زیادہ بات کرنے کی ضرورت ہے عموماً پاکستانیوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ڈارک ویب صرف غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ جہاں پر اس کا استعمال غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے کیا جاتا ہے وہاں پر اس کا استعمال بہت سے مثبت مقاصد کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

ڈارک ویب اور چائلڈ پورنوگرافی

انٹرنیٹ ایکسپرٹ کا کہنا تھا کہ چائلڈ پورنوگرافی ایک حقیقت کے طور پر پوری دنیا میں ایک انڈسٹری کی شکل میں موجود ہے جس پر پابندی عائد ہے، کوئی بھی ملک بچوں کو اس قسم کے جنسی معاملات میں استعمال کرنے اور پھر ان کی فلمنگ اور فلمنگ کے بعد ڈارک ویب کو استعمال کرتے ہوئے ان کی تشہیر کرنا وغیرہ کی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ ڈیپ ویب پر اس کی آڈیئنس موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پوری دنیا میں اس پر پابندی ہے لیکن ڈیپ ویب کی ویب سائٹس کے اوپر اس کی اشاعت کرکے لوگ اس کو دیکھتے ہیں اور باقاعدہ اس کے لیے ادائیگی کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ادائیگیاں کیسے ہوتی ہیں ظاہر سی بات ہے جو عام روایتی اکاؤنٹس ہیں اس کے ذریعے یہ ادائیگی نہیں ہوتیں، اس کے لیے ڈیپ ویب یا ڈارک ویب کے اندر ایک اور ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے جسے ہم کرپٹو کرنسی یا ڈیجیٹل کرنسی کہتے ہیں، اس کا استعمال کیا جاتا ہے، بنیادی طور پر وہ کرنسی اس قسم کی ویب سائٹس تک رسائی کے لیے، پورنوگرافی کے مواد تک رسائی کے لیے اور اگر پورنوگرافی سے ہٹ کر ایسی چیزوں یا سروسز کی خریداری کرنا چاہیں جو مختلف ممالک میں جرم سمجھی جاتی ہیں یا قانون جن کی اجازت نہیں دیتا تو بھی اس کے لیے ایسی ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کرنسی کی اپنی ایک 'ویلیو' ہے جیسے کہہ لیں کہ اگر بٹ کوائن کے ایک کوائن کی مالیت 20 ہزار ڈالر کے قریب طے کرلی گئی ہے تو آپ 20 ہزار ڈالر کی چیز یا سروسز کو صرف ایک بٹ کوائن کے ساتھ آن لائن خرید سکتے ہیں۔

ہارون بلوچ نے کہا کہ اس قسم کی ٹیکنالوجیز دستیاب ہیں جو ڈارک ویب کو اِن ایبل کرتی ہیں، اس ڈارک ویب کے اوپر بہت بڑی انڈسٹری آپریٹ ہوتی ہے جو مختلف اچھے یا برے دونوں کاموں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان چائلڈ پورنوگرافی کا حب ہے یہ قطعاً غلط ہے ہرگز ایسی بات نہیں ہے، ڈارک ویب یا ڈیپ ویب ایسا پلیٹ فارم ہے جس تک رسائی کے لیے خاص ٹیکنالوجیز اور سافٹ ویئرز کو استعمال کیا جاتا ہے تو پاکستان اس کا حب نہیں ہے ہاں پاکستان جیسے ممالک جہاں اس قسم کے جرائم کو روکنے کے لیے قوانین کا اطلاق اتنا سخت نہیں ہے تو وہاں پر اس قسم کا ماحول ضرور پیدا ہوجاتا ہے جہاں پر لوگ بچوں کو جنسی معاملات میں استعمال کرتے ہیں نہ صرف استعمال کرتے ہیں بلکہ اس کی فلمنگ کرتے ہیں اور اس کو شوٹ کرکے ڈارک ویب پر فروخت کرتے ہیں لیکن اس کے صارفین دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈارک ویب پر بہت سے ایسے پلیٹ فارمز موجود ہیں جو چائلڈ پورنوگرافی کے مواد کو فروخت کرتے ہیں اور بدقسمتی سے پاکستان سے ایسے بہت سے کیسز سامنے آنا شروع ہوئے ہیں جیسے حال ہی میں سہیل ایاز کا کیس سامنے آیا قصور اور چنیوٹ میں بھی ایسے کیسز سامنے آئے ہیں تو یہ ایک بڑھتا ہوا اور خطرناک رجحان ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ سائبر کرائم قانون میں ایسے سیکشنز موجود ہیں جو ایسے جرائم کا تدارک کرنے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں، اس کے لیے اہم بات یہ ہے کہ سائبر کرائم قانون پر عملدرآمد کرنے والی اتھارٹی جیسا کہ ایف آئی اے اور ان کا سائبر کرائم ونگ کے پاس تکنیکی طور پر ایسی استطاعت ہونی چاہیے کہ اس کی کھوج لگانے کے لیے ٹیکنالوجی کو موثر طریقے سے استعمال کرسکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ بہت غلط ماحول ہے کہ اس قسم کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا ضرور آتا ہے لیکن منفی طریقوں میں ہمارے ادارے استعمال کرتے ہیں جرائم کو روکنے کے لیے اس کا بہت کم استعمال کیا جاتا ہے میں اکثر ایسے سیمینارز ایسی میٹنگز کا حصہ رہا ہوں جہاں پر بار بار یہ چیز دہرائی جاتی ہے کہ ایف آئی اے کی صلاحیت کے بہت مسائل ہیں، ان کے پاس شاید ابھی تک فرانزک لیب نہیں ہے جو سائبر کرائم کا قانون اس کے قیام کی اجازت دیتا ہے اور حکومت نے اس کے لیے فنڈز مختص کرنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بہت سے پہلو ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ایف آئی اے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

ہارون بلوچ کا کہنا تھا کہ ڈارک ویب کو سمجھنے کے لیے میں ایک مثال دیتا ہوں، آپ تصور کریں کہ انٹرنیٹ ایک گہرا سمندر ہے اس کی مختلف تہیں ہیں اور ایک تہہ جس کو ہم کہتے ہیں کہ سطحی تہہ، وہ ساحلِ سمندر کی طرح ہے اور میں کہوں کہ اگر آپ ایک جال لیں اور جال میں سے سمندر میں سے جو کچھ بھی ہے وہ پکڑ کر باہر نکال دیں تو یہاں ظاہر سی بات ہے جب جال پھینکیں گے تو سطح کے اوپر یا ساحلِ سمندر کے اوپر جہاں تک جال کی رسائی ہوگی اس کو ڈال کر جب آپ باہر نکالیں گے تو جو کچھ بھی اس ساحل سمندر پر موجود ہے وہ اتنا ہی نکل کر آئے گا لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ جو سمندر کے اندر باقی چیزیں اور مواد تھا یا جتنی بھی حیات ہے وہ ساری کی ساری اس جال کے اندر نکل کر آگئی ہے ایسا ہرگز نہیں ہے سمندر بہت بڑا ہوتا ہے اسی طریقے سے انٹرنیٹ بھی بہت وسیع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس انٹرنیٹ پر ہم براؤزرز کی مدد سے رسائی حاصل کرتے ہیں جیسا کہ گوگل کروم یا اوپرا یا موزیلا یا انٹرنیٹ ایکسپلورر وغیرہ، یہ جتنے بھی براؤزر ہیں، یہ روایتی ہیں ان کی زیادہ رسائی نہیں ہے کہ ان کی انٹرنیٹ میں ہر چیز تک رسائی ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی دوسری تہہ ہے ڈیپ ویب، سطحی ویب کے بعد ایک اور تہہ ہے اسے کچھ گہرا انٹرنیٹ کہا جاسکتا ہے اس گہرائی کے اندر انٹرنیٹ کی ایک اور تہہ موجود ہے جسے ہم ڈارک ویب کہتے ہیں، ڈارک ویب وہ ویب ہے جہاں پر بہت ساری ایسی سرگرمیاں کی جاتی ہیں یا ہوتی ہیں جن کو اکثر ممالک غیر قانونی قرار دیتے ہیں اور ان تک رسائی بہت مشکل ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے عمومی استعمال میں انٹرنیٹ کے جتنے بھی ٹولز ہیں وہ اس تک رسائی حاصل کرنے میں اتنے کامیاب نہیں ہوتے اس کے لیے خاص قسم کے سافٹ ویئرز، ایپلی کیشنز یا دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ ٹور براؤزر وغیرہ۔

ہارون بلوچ نے کہا کہ ٹور براؤزر ایک خاص قسم کا برؤزر ہے جو ڈارک ویب کے اندر جتنی بھی چیزیں ہیں، جس قسم کی سرگرمیاں ہوتی ہیں، اس کو پرفارم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹور براؤزر کیسے کام کرتا ہے اس کے لیے میں ایک پیاز کی مثال دیتا ہوں، پیاز کو کاٹیں تو اس کی مختلف تہیں دیکھی جاسکتی ہیں، عموما جب ہم انٹرنیٹ پر کسی چیز تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو وہ براہ راست اس چیز کو، اس مواد کو نکال کر لے آتا ہے، لیکن ٹور براؤزر اس عام طریقے سے کام نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹور براؤزر ٹنلز کے اندر کام کرتا ہے کہ اگر آپ نے کوئی چیز نکال کر لانی ہے تو وہ پہلے ایک ٹنل سے گزرے گا پھر دوسری ٹنل سے گزرے گا اور پھر وہ تیسری ٹنل سے گزرے گا اور یہ ٹنلز کیا ہیں؟ یہ بنیادی طور پر نامعلوم کمپیوٹرز ہیں دنیا کے مختلف ممالک میں جن کے تحت انٹرنیٹ کی ٹریفک ٹریول کرتی ہے اور آپ کے جو فوٹ پرنٹس ہیں کہ کہاں سے آپ رسائی حاصل کررہے ہیں عموما ً یہ آئی پی ایڈریسسز ہوتے ہیں جو ڈیوائسسز کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں لیکن جب ٹنل کے ذریعے کسی چیز تک رسائی حاصل کی جاتی ہے تو آئی پی ایڈریسسز کا ٹریس بیک نہیں رہتا، آپ اس کو دوبارہ سے دیکھ نہیں سکتے کہ کہاں سے یہ ٹریفک ایکسس کیا جارہا ہے، کہاں سے یہ چیز سامنے آئی ہے تو بنیادی طور پر یہ ٹریفک کو اینانومائز (گمنام) کردیتا ہے اور جو متعلقہ مواد آپ ڈیپ ویب سے نکالنا چاہتے ہیں یا ڈارک ویب سے یہ ایکسس کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ہارون بلوچ کا کہنا تھا کہ دنیا یہ کہتی ہے یا خصوصاً پاکستانی یہ کہتے ہیں کہ ڈارک ویب صرف اور صرف چائلڈ پورنوگرافی کے لیے استعمال ہوتی ہے تو یہ قطعاً غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو ڈارک ویب کا سائز ہے وہ سطحی انٹرنیٹ سے کئی گنا زیادہ ہے، ایک تحقیق کے مطابق 4 ہزار سے 5 ہزار گنا زیادہ بڑا ڈارک ویب کا سائز ہے اور چائلڈ پورنوگرافی ایک چھوٹا سا جزو ہے دیگر بہت ساری ایسی سرگرمیاں ہیں جیسے منشیات کی خریداری، اسمگلنگ کی چیزیں، ہتھیاروں کی خریداری اور دیگر بے تحاشا چیزیں اس ڈارک ویب میں ہوتی ہیں لیکن اتنا ہی نہیں اس سے بھی بڑھ کر چیزیں ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ممالک اور ان کے مختلف ادارے خصوصاً قانون نافذ کرنے والے ادارے وہ بھی ڈارک ویب کو استعمال کرتے ہیں ایسی مجرمانہ سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے، نگرانی کے لیے، اب نگرانی کا مقصد کیا ہے؟ ارادے کیا ہیں؟ کچھ بھی ہوسکتے ہیں اچھے بھی اور برے بھی، یہ اس ملک کو ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کررہے ہیں لیکن ریاستیں بھی اس قسم کی ٹیکنالوجی جو ڈارک ویب سے متعلقہ ہوں اسے استعمال کرتی ہیں تاکہ وہ مجرمانہ سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے کام کیے جاتے ہیں، ایکٹوزم کیا ہے؟ بہت سارے اداروں کی کمیونیکیشن حساس ہوتی ہیں تو ان حساس کمیونیکیشنز تک کسی کی رسائی نہ ہو جسے ہم پرائیویسی کہتے ہیں اس کے تحفظ کے لیے بھی ایسی ٹیکنالوجیز استعمال کی جاتی ہیں جو انفارمیشن کو انکرپٹ کردیتی ہیں کہ وہ کمیونیکیشن جو میں اپنے ذاتی کانٹیکٹ کے ساتھ کررہا ہوں اس تک کسی تیسرے یا چوتھے بندے کی رسائی نہ ہو کوئی باہر سے آکر میری کمیونیکیشن دیکھ نہ سکے، اس کے لیے بھی اس قسم کی ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے جس میں آپ اپنی کمیونیکیشن کو محفوظ بناسکتے ہیں اور کوئی اسے پڑھ نہیں سکتا۔

ہارون بلوچ کا مزید بتانا تھا کہ یہ ٹیکنالوجیز بھی اس مارکیٹ میں موجود ہیں جس میں آپ واٹس ایپ کی مثال دیکھ لیں، واٹس ایپ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کی کمیونیکیشن اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہوتی ہے تو اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ کا مطلب یہی ہے کہ بھیجنے والے کی ڈیوائس سے کوئی چیز نکلے گی اور دوسرا بندہ جس کو بھیج رہے ہیں اس تک پہنچے گی تو درمیان میں کوئی اور فرد اس کی کمیونیکیشن کو پڑھ نہیں سکتا نہ ہی دیکھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح کی ٹیکنالوجیز کو استعمال کرکے ڈارک ویب یا ڈیپ ویب تک رسائی حاصل کی جاتی ہے تو اس کے اچھے استعمال بھی ہیں برے استعمال بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈارک ویب کے استعمال میں خطرات ہوسکتے ہیں کیونکہ اس کے مثبت استعمال بھی ہیں اور منفی بھی، اگر آپ اس کے استعمال سے ایسے ایکشنز کرنا چاہتے ہیں جو معاشرے میں قابل قبول نہیں ہیں خصوصا ً اگر قانون انہیں جرم مانتا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ ان کا نقصان موجود ہے۔

2017-18 ریپ کیسز

پاکستان میں 2017 کے مقابلے میں 2018 میں بچوں کے استحصال میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جبکہ ملک میں روزانہ 10 سے زائد بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف بھی کیا گیا تھا۔

3 اپریل 2019 کو ڈان نیوز کی رپورٹ میں بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل کی رپورٹ کے اعداد و شمار پیش کیے گئے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ سال 2018 میں ملکی اخبارات میں چاروں صوبوں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہونے والے بچوں کے استحصال کے 3 ہزار 832 واقعات رپورٹ ہوئے۔

دوسری جانب جنوری 2017 سے دسمبر 2017 تک اس طرح کے 3 ہزار 445 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

بچوں کے استحصال کے ان 3 ہزار 832 واقعات میں سے 55 فیصد واقعات لڑکیوں کے ساتھ جبکہ 45 فیصد واقعات لڑکوں کے ساتھ بدسلوکی کے تھے۔

کل تعداد میں سے اغوا کے 932، بدفعلی کے 589، ریپ کے 537، بچوں کی گمشدگی کے 452، ریپ کی کوشش کے 345، اجتماعی بدفعلی کے 282 واقعات، اجتماعی ریپ کے 156 اور کم عمری کی شادی کے 99 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

سال 2018 میں رپورٹ ہونے والے کل واقعات میں سے 72 فیصد دیہی علاقوں جبکہ 28 فیصد شہری علاقوں میں رونما ہوئے۔

ملک بھر میں پیش آنے والے واقعات کے نصف سے زائد یعنی 63 فیصد پنجاب، 27 فیصد سندھ، 4 فیصد خیبرپختونخوا، 3 فیصد اسلام آباد، 2 فیصد بلوچستان میں پیش آئے جبکہ آزاد کشمیر میں 34 اور گلگت بلستان کے 6 واقعات رونما ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی کیسز میں نصف سے زائد یعنی 2 ہزار 32 واقعات بچوں کے جنسی استحصال کے تھے جس میں سے 51 فیصد واقعات میں لڑکیوں جبکہ 49 فیصد میں لڑکوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان اعدادو شمار کے مطابق ملک میں روزانہ 10 بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے، یوں 2017 میں درج ہونے والے واقعات کے مقابلے میں بچوں کے جنسی استحصال میں 33 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

دوسری جانب اگر عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پیدائش سے 5 سال کی عمر اور 16 سے 18 سال کی عمر کی لڑکیاں جبکہ 6 سے 15 برس کی عمر میں لڑکے جنسی استحصال کا سب سے زیادہ نشانہ بنے تھے۔

اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ اس سال بھی بچوں پر تشدد کرنے والوں میں زیادہ تعداد ان افراد کی ہے جو بچوں سے وافقیت رکھتے تھے جو مجموعی واقعات کا 47 فیصد تھے۔

اس سے قبل جنسی استحصال یا تشدد کے شکار ہونے والے بچوں سے متعلق 2016 سے متعلق ساحل کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ پاکستان میں یومیہ 11 بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے تھے جبکہ اس صورتحال میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔

2019 کے ریپ کیسز

بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے اعدادوشمار جمع کرنے والی تنظیم ساحل کے مطابق 2019 کے پہلے 6 ماہ میں ملک بھر سے ایک ہزار 304 بچوں کے خلاف مختلف نوعیت کے جرائم کے واقعات رپورٹ ہوئے، ساحل نے باوجود اسرار کے جولائی سے دسمبر 2019 کے اعدادوشمار فراہم کرنے سے معذرت کی، جو وہ مارچ 2020 میں اپنی سالانہ رپورٹ میں پیش کریں گے۔

فراہم کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2019 کے پہلے 6 ماہ کے دوران یومیہ 7 بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 378 بچوں کو اغوا، 186 بچے لاپتہ، 153 کو غیر فطری طریقے سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، 139 کے ساتھ ریپ، 106 کے ساتھ ریپ کی کوشش کی گئی، 65 کو غیر قطری طریقے سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، 92 کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور اجتماعی بد فعلی جبکہ 40 بچوں کے چائلڈ میرج کے رپورٹ ہوئے۔

ساحل کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس دوران 35 کیسز ایسے بھی رپورٹ ہوئے جن میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد انہیں قتل کردیا گیا۔

اس میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ 6 ماہ میں رپورٹ ہونے والے ایسے 1304 کیسز میں متاثرین 729 (%56) لڑکیاں اور 575 (44%) لڑکے تھے جن کی عمریں 11 سے 15 اور 6 سے 10 سال کے درمیان تھیں۔

دوسری جانب ملک میں بچوں اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق یکم جنوری 2019 سے 15 نومبر 2019 تک پاکستان پھر میں 98 بچیوں (کم عمر لڑکیوں) کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 63 پنجاب، 33 سندھ، خیبرپختونخوا سے 2 جبکہ بلوچستان سے ایک بھی ایسا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

'میرا بچہ الرٹ' خصوصی ایپلی کیشن تیار کرنے کی ہدایت

ملک میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات، اغوا اور گمشدگی کے کیسز کا موثر طریقے سے تدارک کرنے کے لیے یکم اکتوبر 2019 کو وزیر اعظم عمران خان نے 'میرا بچہ الرٹ' کے نام سے خصوصی ایپلی کیشن تیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 'میرا بچہ الرٹ' ایپلی کیشن دو ہفتوں میں تیار کر لی جائے گی، کسی بھی بچے کی گمشدگی کی صورت میں اس ایپلی کیشن پر کوائف کے اندراج کی صورت میں تمام تفصیلات صوبوں کے آئی جیز اور دیگر سینئر افسران تک فوری طور پر پہنچ جائیں گی۔

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

یہ ایپلی کیشن 'پاکستان سٹیزن پورٹل' سے منسلک ہوگی تاکہ کسی بھی واقعے میں بچے کی برآمدگی اور کیس میں پیش رفت پر نظر رکھی جا سکے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے بتایا تھا کہ بچوں کے ساتھ غیر اخلاقی اور ناخوشگوار واقعات کے کیس کی تحقیقات میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اس کامیابی کے نتیجے میں ایسے مکروہ فعل میں ملوث دیگر ملزمان تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ریپ کے شکار بچے

انہوں نے کہا کہ والدین کی جانب سے بچوں سے متعلق کئی ناخوشگوار واقعات کو معاشرتی و دیگر وجوہات کی بنا پر سامنے نہیں لایا جاتا، انہوں نے کہا تھا کہ موجودہ حکومت وہ تمام اقدامات اٹھائے گی جس سے معصوم بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور ایسے مکروہ اور بھیانک جرائم میں ملوث افراد کو سخت ترین سزائیں دلوائی جا سکیں۔

سول سوسائٹی، وکلا اور صحافی کیا کہتے ہیں؟

آئی ایچ ڈی ایف کے صدر رانا آصف حبیب


پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے کوششوں میں مصروف عمل انیشیئٹر ہیومن ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن (آئی ایچ ڈی ایف) کے صدر رانا آصف حبیب نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ یہ واقعات تو عرصہ دراز سے پاکستان میں ہوتے ہوئے آرہے تھے لیکن اب پاکستان انکار کے مرحلے سے رپورٹنگ کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پہلا واقعہ جو میڈیا میں آیا وہ 1999 میں جاوید اقبال کی جانب سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کے قتل کا تھا جبکہ ملزم کے جیل میں خود کشی کے بعد اس حوالے سے مزید تحقیقات نہیں کی گئیں۔

رانا آصف کا کہنا تھا کہ اس کے بعد 2015 میں قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور ان کی فلم بندی کے لاتعداد واقعات رپورٹ ہوئے مگر انہیں پولیٹیکل کارپیٹنگ کے ذریعے سے دبا دیا گیا۔

انہوں نے زینب زیادتی اور قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ دیکھیں تو منظرنامے پر ٹی وی اینکرز ڈارک ویب کا ذکر کرتے رہے مگر اس پر بھی کسی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے توجہ نہیں دی۔

آئی ایچ ڈی ایف کے صدر نے ملزم سہیل ایاز کے حوالے سے کہا کہ حال ہی میں جب ایک عالمی ادارے کا سابق ملازم گرفتار ہوا تو اس کے لیپ ٹاپ سے 5 لاکھ تصاویر ملیں تو پھر معلوم ہوا کہ پاکستان چائلڈ پورنوگرافی کا بہت بڑا حب ہے جہاں سے ٹرانزٹ بھی ہوتا ہے اپ لوڈنگ بھی ہوتی ہے اور جہاں سے دنیا میں یہ تمام چیزیں ہوتی ہیں اور یہ واقعات زیادہ تر اس وقت سامنے آئے جب ایک سیاسی حوصلہ افزائی والے خاندان کی بیٹی زینب کا کیس سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ ظاہر سی بات ہے جو سیاسی کارکن ہوتے ہیں ان کا میڈیا میں ایک رجحان بھی ہوتا ہے وہ توجہ بھی حاصل کرلیتے ہیں ایک عام آدمی توجہ حاصل نہیں کرپاتا۔

رانا آصف کا مزید کہنا تھا کہ زینب کا واقعہ ہوجائے تو اس کا ایک بل آجاتا ہے کسی اور بچی کا واقعہ ہوجائے تو اس کے نام پر ہم بل تو بڑے لے آتے ہیں لیکن نظام کی خامیوں کو نہیں دیکھتے جس کی وجہ سے یہ چیزیں فلٹر ہو کر نہیں آرہی یہ چیزیں بے ہنگم طریقے سے سامنے آرہی ہیں اور جس کا جو دل چاہتا ہے وہ یہاں پاکستان میں کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے چائلڈ پورنوگرافی اور بچوں کی فروخت سے متعلق اقوام متحدہ کمیشن کے آفیشل پروٹوکول پر بھی دستخط کیے ہیں لیکن اس کے باوجود بچوں کی فروخت بھی ہورہی ہے اور چائلڈ پورنوگرافی بھی لیکن ریاست اس وقت اس پر انکار کے مرحلے میں ہی ہے۔

آئی ایچ ڈی ایف کے صدر کا کہنا تھا کہ بوٹ بیسن کی ایک ایف آئی آر کا ذکر کررہا ہوں اور یہ کیس میں نے فالو کیا تھا، کیس کا نمبر ہے 2014/28 جس میں ایک 6 سالہ بچی سے ماموں بھانجے نے ریپ کیا تھا جب وہ کیس بالکل عروج پر پہنچ گیا تو انہوں نے ایک مسجد میں بیٹھ کر صلح نامے پر دستخط کردیے اور وہ کیس اگر آپ آج بھی بوٹ بیسن تھانے میں جائیں گے تو آپ کو اسی طرح زیر التوا نظر آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ کسی کے ساتھ جب بھی ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو سب سے بڑا مسئلہ جو ایک متاثرہ فرد کو برداشت کرنا پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ 'آپ کی عزت چلی گئی' ہے جو روایتی اور ثقافتی استحصال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے جو مسئلہ سامنے آتا ہے وہ یہ کہ متاثرہ بچہ یا بچی اپنے والدین سے اس واقعے کو شیئر نہیں کرتے، کیونکہ ہمارے یہاں ایسا ماحول نہیں ہے کہ بچے اپنی تمام چیزیں والدین سے شیئر کریں اور والدین اپنی تمام چیزیں بچوں سے شیئر کریں۔

رانا آصف حبیب کا کہنا تھا کہ اس کے بعد بڑا چیلنج وکیل کا ہوتا ہے یعنی پروسیکیوشن کی بالکل ٹریننگ نہیں ہوتی کہ وہ ایسے کیسز کو کس طرح 'ڈیل' کریں اور 'وکٹم کو مزید وکٹمائز' کرتے ہیں، اس کے بعد ہمارا میڈیا اور دیگر اداروں کی بھی صلاحیت نہیں ہے کہ کس طرح آپ نے متاثرہ افراد کا چہرہ دھندلا کرنا ہے کس طرح آپ نے ان کی شناخت ظاہر نہیں ہونے دینی اور کس طرح ہم نے متاثرہ فرد کو تحفظ دینا ہے کہ شواہد ریکارڈ ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کی شناخت پریڈ کا طریقہ بھی دقیانوسی اور پرانا ہے جس میں بہت سے مسائل ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایک 6 سالہ متاثرہ لڑکی کس طرح جج کے سامنے ان ملزمان کی شناخت کرے گی کیونکہ وہ پہلے ہی خوفزدہ ہوتی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا میں 'مرر تکنیک' استعمال کی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس کے بعد مرحلہ آتا ہے جج کا کہ جج کی کتنی صلاحیت ہے تو ججز کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے اکثر جج انہیں کہتے ہیں کہ آپ صلح ہی کرلیں ورنہ آپ کی بچی یا بچہ زیادہ بدنام ہوجائے گا'۔

رانا آصف کا کہنا تھا کہ 'تو یہ سب وہ دباؤ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے کیس گھٹنے گھٹنے ٹوٹ جاتا ہے اور عدالت کا جتنا عملہ ہے وہ متاثرہ فرد کے ساتھ توہین آمیز اور تضحیک پر مبنی رویہ رکھتا ہے کیونکہ ان پر ملزم پیسہ خرچ کررہا ہوتا، ملزم کے وکلا بڑے اور طاقتور ہوتے ہیں وہ پورے کیس میں جوڑ توڑ کررہے ہوتے ہیں یہ تمام وہ چیزیں ہیں کہ جس کی وجہ سے متاثرہ فرد، جس کے ساتھ ریپ ہوتا ہے، اسے بے تحاشا مسائل کا سامنا ہوتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی ہے تو سب سے پہلے اپنے والدین اور عزیز و اقارب سے شیئر کرنا چاہیے اور ان کا تعاون حاصل کرنا چاہیے اور اس کے بعد جو سب سے پہلا کام آپ نے کرنا ہے وہ واقعے کے خلاف تھانے میں رپورٹ کرنی ہے اور تھانے میں رپورٹ سے ایم ایل او کا لیٹر لینا ہے اور میڈیکل لیگل سے ثبوت اکٹھا کرنا ہے تاکہ عدالت میں ملزمان کو سزا دلوائی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مرحلہ ذہن میں رکھنا ہے کبھی بھی اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے بعض دفعہ 2 سے 3 مہینے بعد ثبوت ضائع ہوجاتا ہے اس پر ملزمان کو سزا نہیں دلوائی جاسکتی۔

آئی ایچ ڈی ایف کے صدر کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ جو انسانی حقوق کی ہیلپ لائن ہے، جیسے آئی ایچ ڈی ایف کا نمبر 1091 ہے، اس پر بھی کال کرکے مفت قانونی مشورے لیے جاسکتے ہیں، کراچی میں وار اگینسٹ ریپ کے دفاتر موجود ہیں وہاں سے بھی ریپ متاثرین کو رہنمائی دی جاتی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ سب آپ کو مشاورت ضرور دیں سکتے ہیں لیکن اس پر عمل آپ نے خود کرنا ہے اور آپ نے خود فیصلہ کرنا ہے کہ 'گلی میں اگر کسی کو کوئی کتا کاٹ لے تو گلی میں نکلنا نہیں بند کردیتے, آپ نے اس نظام کو ٹھیک کرنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے چیزیں بہتر ہوں'۔

متاثرین کہاں رابطہ کریں!

رانا آصف حبیب نے بتایا کہ اگر کوئی بھی فرد اس قسم کے واقعے کا سامنا کرے تو اس کے لیے سب سے پہلے وفاقی وزارت انسانی حقوق کی ہیلپ لائن 1099 موجود ہے جہاں رابطہ کرکے 24 گھنٹے مفت مشورہ لیا جاسکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ صوبوں کی اپنی بھی ہیلپ لائنز ہے اگر بچوں کا مسئلہ ہے تو صوبہ سندھ میں 1121 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے جبکہ 1121 کے لیے بھی یہی نمبر پنجاب میں استعمال ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح اگر خواتین کا مسئلہ ہے تو اس کی بھی الگ وزارت موجود ہے اور دونوں صوبوں میں بچوں اور خواتین کے مسائل کو دیکھنے کے لیے ہیومن رائٹس کمیشن موجود ہیں، سندھ میں سندھ ہیومن رائٹس کمیشن ہے، اسی طرح پنجاب میں باقاعدہ وومن پروٹیکشن سیلز بنے ہوئے ہیں وہاں پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی کی بھی ہیلپ لائنز موجود ہیں، جس میں کراچی کی سطح پر 1098 مددگار کے نام سے ہے، اسی طرح ملک کے باقی حصوں میں اے جی ایچ ایس ہیلپ لائن کا اپنا ایک نظام موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن ہے، پروونشل کمیشن آن اسٹیٹس آف وومن ہے، اسی طرح ڈپٹی انسپکٹر جنرل کی سطح پروومن اینڈ چلڈرن پولیس اسٹیشن بنے ہوئے ہیں وہاں بھی جاسکتے ہیں، کراچی میں گورا قبرستان پر ہے اسی طرح ڈی آئی جی ویسٹ کے پاس گلبرگ میں ہے، نیو ٹاؤن کے ڈی آئی جی ایسٹ کے پا س ہے یہاں بھی جایا جاسکتا ہے او ر وومن اینڈ چلڈرن اسٹیشن سے مدد لی جاسکتی ہے۔


صحافی لبنیٰ جرار نقوی


ملک میں بچوں کے ساتھ ہونے والے ریپ واقعات پر سینئر خاتون صحافی لبنیٰ جرار نقوی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب قصور میں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے ساتھ پورنوگرافی کی ویڈیوز بنیں اور بچے ہراساں تھے اور بول رہے تھے کسی نے ان پر توجہ نہیں دی، نہ ہی میڈیا نے کوئی خاص کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے وہ کیس سامنے آیا اور چلا گیا اور اعداد وشمار بن گیا، اس کے بعد زینب کا کیس ہوا اس وقت دوبارہ ایک شور مچا اور اس کیس پر بہت آواز اٹھائی گئی، جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی اور ملزم گرفتار ہوگیا۔

لبنیٰ جرار نقوی نے کہا کہ قصور پر ہم اگر آوازیں اٹھاتے اور اگر اس وقت ہم کچھ کرتے جو آج تک میرے خیال میں یا میرے علم میں تو نہیں کہ وہاں کوئی چین پکڑی گئی ہو یا ان متاثرہ بچوں کو کوئی تھراپی دی جارہی ہو یا اس چیز کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہو، تو جب قصور واقعے پر ہی نہیں دیا تو پھر بعد میں آپ کسی کو کیا کہیں گے، ہاں زینب کے بعد کہہ سکتے ہیں کہ اب ایسے واقعات زیادہ رپورٹ ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زینب کے بعد ہم نے دیکھا کافی کیسز آئے اور صرف لڑکیاں نہیں بچے بھی اور لڑکے بھی (پہلے لوگ یہ قبول ہی نہیں کرتے تھے کہ لڑکوں کو بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے)، تو بنیادی مسئلہ ہمارے معاشرے میں ہم ہی لوگ شروع کرتے ہیں کہ ہم اس چیز پر 'بلائنڈ اسپاٹ' ہوجاتے ہیں کہ نہیں ایسا نہیں ہورہا جبکہ اگر ایسا ایک آدھ دفعہ ہوا بھی تو ہم نے اس پر زیادہ ردعمل ہی نہیں دیا یا تو ہم اندر سے بے حس ہیں یا ہم اس چیز کو سنجیدگی سے نہیں لیتے یا ہمیں اسے قبول ہی نہیں کرنا۔

خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ خاندانوں میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سب چاہتے ہیں کہ اپنے بچے تمیز دار ہوں، وہ شائستہ انداز اپنائیں لیکن شائستگی ایک حد تک ہوتی ہے جہاں تک آپ کا بچہ محفوظ ہے وہاں تک میں تو کم از کم قبول کروں گی، میں اگر یہ دیکھوں کہ میرا بچہ کسی بھی رشتہ دار سے یا عزیز سے کترا رہا ہے یا ڈر رہا ہے تو یہ میرا کام ہے کہ میں اس سے پوچھوں کہ بیٹا کیا مسئلہ ہے؟ لیکن دوسری جانب ہم کیا کرتے ہیں 'بدتمیز ہو تم جاؤ فلاں بلا رہے ہیں فلاں بلا رہے ہیں اور فلاں جو بھی ہے اس کی گود میں بیٹھو پیار کرواؤ'۔

انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ رہے کہ بچہ واضح طور خوفزدہ ہے یا جس طرح بھی بچہ ردعمل دیتا ہے ہم اس چیز کو نوٹ ہی نہیں کرتے، ہم انہی رسم و رواج میں رہتے ہیں کہ سسرال والے کیا کہیں گے؟ میکے والے کیا کہیں گے؟ میاں کیا کہیں گے؟ ابا کیا کہیں گے؟ میں نہیں سمجھتی کہ کوئی بھی چیز اہم ہے لیکن وہ بچہ آپ کی ذمہ داری ہے اور وہ بچہ سب کی ذمہ داری ہے اگر ماں نہیں آواز اٹھا پارہی تو کوئی اور گھر کا آدمی آواز اٹھائے گا، مگر کیوں نہیں اٹھا پا رہے اس لیے کہ ہم بچے کو یا متاثرہ فرد کو قصور وار ٹھہراتے ہیں اور اس کو اتنا خوفزدہ کردیتے ہیں کہ وہ آواز اٹھانے کے بجائے خاموش ہوجاتے ہیں اور مجرم کو طاقتور بنا دیتے ہیں۔

لبنیٰ جرار نقوی کا کہنا تھا کہ ہم سیاست کی بات کررہے ہیں ہم دنیا میں ہر چیز پر بات کررہے ہیں سوائے اس چیز کہ جو مجھے متاثر کررہی ہے، اگر ہم بہت بولتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل ہمارے بچے ہیں تو اس مستقبل کو مضبوط کریں اس کو محفوظ کریں ناکہ مجرم ان کے دماغوں سے ان کی شخصیت سے کھیلیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر دنیا میں خودکشی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے تو اس کی مختلف وجوہات بھی ہیں، لوگ کہتے ہیں سوشل میڈیا، حالات، منشیات اس کی وجہ ہیں لیکن یہ بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔

سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ مجھے بہت زیادہ افسوس ہوا تھا کہ لوگ اس بات سے آگاہ نہیں کہ سائبر ورلڈ کے ذریعے آپ کے بچے بھی متاثر ہورہے ہیں، انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کیا کہ وہ حال ہی میں ایک اسکول میں گئیں، جہاں بچوں سے عام سے طریقے سے بات کی کہ دیکھوں اگر گھر میں کچھ ہورہا ہو تو یہ نمبرز ہیں یا کسی ایسے سے بات کرو جس پر آپ اعتماد کرتے ہو۔

انہوں نے کہا کہ میں ان بچوں سے کبھی نہیں ملی نہ میں انہیں جانتی تھی ان میں سے کئی بچے ان سیشنز کے بعد میرے پاس آئے اور کہا کہ میری امی کو ابا مارتے ہیں آپ کچھ مدد کرسکتی ہیں، دوسرے بچے نے کچھ آکر بتایا، کچھ بچوں نے کچھ نہیں کہا لیکن ان کی آنکھوں نے سب بتادیا کہ وہ بات نہیں بتاسکتے، جو ان کے دل پر گزر رہی ہے تو میں نے ان کی ٹیچرز سے کہا کہ کچھ بچے مسائل کا شکار ہیں آپ ان سے بات کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اسکول کے ایک بچے کا مسئلہ حل ہوا معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ کچھ ہورہا تھا گھر میں کوئی کزن تھا تو میں نے کہا اپنے ماں باپ کو جا کر بتاؤ تو بچے نے کہا کہ نہیں میرے ابا ڈانٹیں گے۔

سینئر خاتون صحافی نے کہا کہ میری صرف یہ گزارش ہے کہ ماں باپ کچھ کریں کیونکہ ان کا بچہ تو بول ہی نہیں سکتا تو وہ مجھ سے کیوں بولے گا؟

انہوں نے کہا کہ جب جاوید اقبال کا واقعہ ہوا تھا تو لوگ بہت مذاق اڑا رہے تھے کیونکہ اس کی شدید نوعیت سمجھ نہیں آئی تھی مجھے بھی یاد ہے کہ لوگ ہنس رہے تھے لیکن اس وقت اس شخص کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا، اس کے جرم کے باعث بچے متاثر ہوئے تھے اور وہ ان بچوں کو اٹھاتا جو کم آمدن والے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے، کسی نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا اور پھر آخر کار ان صاحب نے قید میں شاید خودکشی کرلی۔

خاتون صحافی نے کہا کہ اگر ہم چاہیں کہ یہ جرم دنیا سے ختم ہوجائے تو یہ بہت مشکل کام ہے کیونکہ ہم ہر کسی کو نہیں روک سکتے، ہمیں نہیں معلوم کیا ہورہا ہے مگر ہم یہ ضرور کرسکتے ہیں کہ وہی پہلی ذمہ داری ماں اور باپ پر ہے پھر آپ کے بڑوں پر ہے پھر خاندان پر اور اساتذہ پر کہ وہ بچوں سے رابطے میں رہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کے اساتذہ بھی ان چیزوں کو نوٹ کرتے ہیں لیکن ہر آدمی ڈرتا ہے کہ اگر میں کسی کے والدین سے جاکر کہوں کہ آپ کا بچہ!۔۔۔۔ تو وہ مجھے شاید سنادیں کہ ایسا ہوہی نہیں سکتا کیونکہ ہم قبول نہیں کرنا چاہتے کہ ہمارے بچے کے ساتھ کچھ ہوا ہوگا، دیکھیں والدین کی زندگی کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو تحفظ دیں لیکن وہ اس چیز کو قبول نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ سماجی طور پر اتنی خوفناک بات تصور کی جاتی ہے کہ ہم اس پر سوچنا بھی نہیں چاہتے۔

خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ والدین دنیا کے تاریک رخ کی جانب نہیں جانا چاہتے کہ ہمارے بچے کے ساتھ کچھ ہوسکتا ہے مگر ہورہا ہے اور ہمیں نظر آرہا ہے تو پہلی ذمہ داری والدین، پھر خاندان کی ہے اور پھر حکومت کو اس میں بڑا کردار ادا کرنا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ شخص جو کسی عورت، بچے یا کمزور انسان پر حملہ کررہا ہے اسے واپس معاشرے میں نہ بھیجیں اس کی ری ہیبلیٹیشن کریں اسے کہیں اور رکھیں کیونکہ ایک دفعہ آپ واپس بھیجیں گے تو وہ اسی چیز پر واپس آجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ جرائم کے حوالے سے پڑھیں تو اس میں نظر آتا ہے کہ بیرون ملک یہ ہوتا ہے کہ اچھے رویے کی وجہ سے ملزم کو واپس معاشرے میں بھیج دیتے ہیں جس کے بعد وہ دوبارہ جرم کا آغاز کردیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہر کسی کے لیے نہیں ہے کیونکہ ہم اسے 'اسٹیریوٹائپ' نہیں کرسکتے تو حکومت کو چاہیے کہ کوئی ایسا نظام بنایا جائے کہ جو اگر ایسا کوئی مجرم پکڑا جائے چاہے وہ مائنر (بچہ) ہی کیوں نہ ہو، اکثر یہ ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ بالغ فرد ہی کررہا ہو، ٹین ایج 18، 19 سال بچے بھی کررہے ہوتے ہیں تو آپ وہیں سے اسے روکیں اور آپ اس کی تشخیص کریں، علاج کریں اس کو تھوڑا ری ہیبیلیٹ کرنے کی کوشش کریں۔


مددگار ہیلپ لائن کے بانی ایڈووکیٹ ضیا اعوان


اس حوالے سے بانی مددگار ہیلپ لائن ایڈووکیٹ ضیا احمد اعوان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہمارے یہاں بچوں کی تعداد آبادی کا 50 فیصد ہے اور بچوں کی حفاظت کے لیے کبھی کوئی بڑا کام ہوا نہیں، اسے سیاسی طریقے سے لوگوں نے استعمال تو کیا لیکن اس طرح کے بہت سارے کیسز ملیں گے کہ جس میں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت تھی لیکن ہم نے اس سے سیکھا نہیں اور خاص طور پر زینب جو کیس تھا! زینب کیس کے بعد لوگوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے تو بہت کچھ کیا لیکن عملی طور پر اقدامات نظر نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ اب دنیا میں بڑی جدت آگئی ہے، سائنس نے ترقی کرلی ہے، لوگوں کو پکڑنا تفتیش کرنا ہم نے ابھی تک اس کو پوری طرح سے اپنایا نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ ہمارے 3 صوبوں میں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لیب ہی موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ گو کہ سندھ حکومت کے لوگ بیان دیتے ہیں کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لیب موجود ہے لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو وہ نہیں ہے، ابھی اس کو علمی طور پر سامنے آنے میں بہت وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے قوانین بھی اس سے مطابقت نہیں رکھتے، ڈی این اے ٹیسٹ کی نارمل رپورٹ 3 ماہ میں آتی ہے اور یہاں 14 دن میں چالان پیش کرنا ہوتا ہے تو یہ ہمارے کرمنل جسٹس سسٹم کے درمیان تضادات ہیں اور زینب کیس سے سیکھنا چاہیے تھا کہ ہمیں بچوں کے تحفظ کے لیے چیزیں کرنی چاہیئیں اور وہ ہم نے نہیں کیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے اس وقت، جب زینب کیس چل رہا تھا، تو وزیراعلیٰ نے اپنے طور پر یہ کوشش کی کیونکہ یہاں ایک چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے، چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کا کوئی کام ہمیں ابھی تک نظر نہیں آیا، میں خود 5 سے 6 سال اس کا ممبر رہا ہوں اس وقت کچھ نہیں ہوپایا اور اس کے بعد اب جو چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی ہے وہ بھی کچھ آگے نہیں بڑھ پائی اور یہ سب وزیراعلیٰ سندھ کو معلوم تھا تو انہوں نے ایک زینب کیس کے دوران ہی اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جب یہ سارے احتجاج چل رہے تھے تو سندھ میں وزیراعلیٰ نے ایک بہت اچھا قدم اٹھایا تھا کہ انہوں نے ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں 5 وزرا، ان کے سیکریٹریز، کچھ پولیس حکام اور سول سوسائٹی سے 4، 5 لوگوں کو، جن میں شہزاد رائے، مجھے اور دیگر لوگ شامل تھے، اس کا حصہ بنایا۔

مددگار ہیلپ لائن کے بانی نے کہا کہ اس وقت وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ میں ہر مہینے اجلاس کروں گا اور اس میں ہم دیکھیں گے کہ کیا اور کیسے کرسکتے ہیں، سال سے زیادہ ہوگیا وہ اجلاس آج تک نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ہم ان چیزوں سے سیکھ نہیں رہے، بچوں کے خلاف جرائم ہیں وہ بڑھ رہے ہیں یا جرم بڑھ رہا ہے یا رپورٹنگ بڑھ رہی ہے یہ تو محققین بتاسکتے ہیں، یہ تو میں دیکھ سکتا ہوں کہ رپورٹنگ بڑھ گئی ہے بچوں کے ساتھ جرائم اب میڈیا کی زینت بنتے ہیں اور اس میں ساری چیزیں آرہی ہوتی ہیں لیکن ہماری حکومت میں جو بیٹھے ہوئے لوگ ہیں میں صرف سندھ کی بات نہیں کررہا، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب کی بات بھی کررہا ہوں کیونکہ یہ سارے کیسز ہر جگہ رپورٹ ہورہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اسکور سیٹلنگ' ہوتی ہے کہ پنجاب میں یہ کیسز بڑھ گئے ہیں ایک زمانے میں یہ بھی ایک لہر چلی تھی کہ سندھ میں بڑھ گئے اور پنجاب میں کم ہیں ایسا نہیں ہے یہ جو بچوں کے خلاف جرائم ہیں یہ معاشرے کے تمام طبقات میں ہیں، مختلف جگہوں پر رپورٹنگ کا اسٹائل مختلف ہے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں رپورٹ نہیں ہوتے کیونکہ وہ قبائلی جاگیردارنہ سوسائٹی ہے اور وہاں ہمارا میڈیا بھی اتنا مضبوط نہیں جتنا سندھ اور پنجاب میں ہے لہذا وہاں سے رپورٹنگ زیادہ ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ زینب کیس سے ہمیں سیکھنا چاہیے تھا لیکن مقتولہ کے نام پر بننے والا ہمارا قانون بھی اب تک زیر التوا ہے اور وہ ہماری وفاقی حکومت کی ترجیح پر نہیں آرہا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سوسائٹی کوئی اتنی صاف ستھری نہیں ہے آج بھی ہمارے بہت سارے شہروں میں دیگر ممالک کی طرح 'پیڈوفائل' کی پریکٹس جاری ہے اور انہوں نے خود ہی بتایا کہ پیڈو فائل یہ ہوتا ہے کہ بڑی عمر کے لوگ بچوں کو جنسی تعلقات کے لیے اپنے پاس رکھتے ہیں اور باقاعدہ کئی ایسے شہر ہیں جہاں ہار پہنا کر اپنے ساتھ گھمارہے ہوتے ہیں۔

ضیا احمد اعوان کا کہنا تھا کہ ویسے تو آپ میڈیا پر پابندی لگا کر رکھیں لیکن اگر آپ سیٹیلائٹ پر چلیں جائیں، حال ہی میں ایک جگہ ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا تو وہاں سیٹیلائٹ پر سوائے سیکس کی باتوں کے، سیکس کی چیزیں بیچنے کے اور کچھ نہیں آرہا تھا، آپ ان کے لیے کیا کریں گے جو پاکستان میں کہتے ہیں ہرچیز دستیاب ہے اس کے لیے بس آپ کو ان سے رابطہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تو بچہ بھی دیکھ سکتا ہے، ہمارے بچے جس طریقے سے غیر محفوظ ہیں ماں باپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کس طرح انٹرنیٹ استعمال ہورہا ہے، معلوم نہیں کہ اسمارٹ فون کیسے استعمال ہورہا ہے لیکن بچے اسے استعمال کررہے ہیں اور وہ کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تعلیم ہمیں اسکولوں میں دینی چاہیے، عوامی سطح پر جاکر کمیونیٹیز میں دینی چاہیے موبائل اور انٹرنیٹ کا اتنا بڑا کھربوں روپے کا کاروبار ہے، 4 جی، 5 جی جیسی ٹیکنالوجی لا رہے ہیں تو ٹیکنالوجی لانے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ترقی کے لیے بھی پیسے مختص کرنے چاہیئیں لیکن وہ نہیں کررہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان ٹیکنالوجیز سے کھربوں روپے کما کر یہاں سے بیرون ملک بھیجنے والوں کو معاشرے کی اس حوالے سے ترقی کے لیے سول سوسائٹی، حکومت اور میڈیا کو پیسے فرہم کرنے چاہیے تاکہ لوگوں کو تعلیم دیں کہ کس طرح اپنے آپ کو اور بچوں کو محفوظ رکھنا ہے۔

ضیا احمد اعوان کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم کے قانون میں لکھا ہوا کہ حکومت اس کے لیے خصوصی قانون بنائے گی وہ کہاں ہے؟ اس میں حکومت کی دلچسپی کیوں نہیں ہے کہ ایک ایجنسی بنائی جائے، وہ پیسے لے کر کہاں ڈال رہے ہیں جبکہ حکومت 4 جی، 5 جی کے کھربوں روپے میں سے پبلک فنڈنگ کے لیے کیوں نہیں مختص کرتی؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سارے سوالات کرنے کا مقصد ہے کہ یہ بچوں کے خلاف جو جرائم میں اضافہ ہورہا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جرم کرنے والے کو معلوم ہے کہ وہ آرام سے نکل جائے گا، ہمارا نظام اسے پکڑ نہیں پائے گا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس قومی سطح پر مجرموں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، اب جیسے ڈارک ویب سے وابستہ ملزم سہیل ایاز کی گرفتاری کے بعد معلوم ہوا کہ وہ برطانیہ میں سزا کاٹ چکا تھا اور یہ سب تحقیقات کے بعد معلوم ہوا ورنہ ہمارے پاس کوئی ایسا نظام نہیں ہے کہ اگر ایک آدمی جو کراچی میں یہ کام کررہا ہو یا اس کو سزا ہوئی ہو یا وہ ملوث بھی رہا ہو تو پشاور میں کوئی کیس ہو تو یہ ڈیٹا بیس پر آجائے کہ فلاں شخص بھی ایسے ہی کیس میں گرفتار ہوچکا ہے، یہ اسمگلر ہے یا پیڈوفائل ہے یا ریپسٹ ہے تاہم ہمارے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کون بنائے گا یہ ریکارڈ؟ کہاں ہے پولیسنگ؟ جی یہ ماڈرن پولیسنگ ہورہی ہے نئی نئی گاڑیاں دے دو لیکن دراصل کام تو یہ ہے جو کرنا چاہیے ہمارے پاس مجرموں کا ریکارڈ ہونا چاہیے۔

ضیا احمد اعوان نے کہا کہ جو بھی مشکل ہوتی ہے سب سے زیادہ ریپ متاثرہ کو ہوتی ہے، آپ ریپ سے متاثرہ فرد کا حال دیکھیں، کسی کے ساتھ ریپ ہو تو والدین کہتے ہیں کہ بات ہی نہیں کرو حالانکہ یہ ہمارے قانون میں موجود ہے کہ متاثرہ فرد کی تصاویر اور اس کا نام، یہ چیزیں آپ منظر عام پر نہیں لائیں گے لیکن دوسری جانب لوگ ایسا کررہے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معاشرے میں تو مثبت اور منفی دونوں چیزیں نظر آئیں گی جو آپ ان کو دکھائیں گے، معاشرے نے زینب کے کیس میں کتنا بڑا احتجاج کیا معاشرہ ہی تھا نا؟ تو معاشرے نے بہت احتجاج کیا اور کئی ایسے کیسز ہیں جن میں معاشرہ لوگوں کو دوسری طرح دیکھ رہا ہوتا ہے تو اس کے لیے آگاہی کی ضرورت ہے، اس میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے جبکہ سول سوسائٹی اور حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

ضیا احمد اعوان کا کہنا تھا کہ معاشرے کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سائبر کرائم کیا ہے؟ لوگوں کو نہیں معلوم، کہاں رپورٹ کریں؟ ریپ پر کیا قوانین ہیں؟ ہمیں اپنی عدلیہ کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے، ان کی صلاحیت، پولیس کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے، صرف اقوام متحدہ کے 2، 4 منصوبوں سے تو صلاحیت پوری نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کبھی میں نے نہیں سنا کہ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی یا سینیٹ میں اس پر سوالات ہوئے ہوں، تو ہونا چاہیے یہ سوال کہ کیا کررہی ہے وزارت صحت؟ کیونکہ ڈی این اے کے سارے معاملات ناپید ہیں اور وہ اسی وزارت کے تحت آتے ہیں۔


خاتون وکیل آسیہ منیر


لیگل ایڈ اور وار اگینسٹ ریپ سے وابستہ خاتون وکیل آسیہ منیر نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ جب میں عدالت میں انسسٹ کا پہلا کیس لے کر گئی تو مجھے وہاں پر عجیب نظروں سے سب نے دیکھا کہ تم تو نعوذ بااللہ اسلام سے خارج ہو کہ تم سگے باپ پر الزام لگارہی ہو کہ سگے باپ نے اپنی بیٹی کے ساتھ ریپ کیا ہے، یہاں تک کہ بہت پڑھے لکھے افراد جس میں ہمارے وکلا بھی شامل تھے، ججز بھی تھے جن کے پاس میرا کیس بھی تھا انہوں نے خود مجھے جارحانہ الفاظ کہے لیکن میں نے ان سے یہی کہا کہ آپ اس کے شواہد سن لیں وہ بچی خود بتارہی ہے کیونکہ 11 سے 12 سال کی بچی کتنا فائٹ کرے گی لیکن 'بچے جو بول رہے ہوتے ہیں ہمیشہ سچ بول رہے ہوتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو متاثرین آتی ہیں وہ بہت ٹراما میں ہوتی ہیں بہت ڈپریشن کا شکار ہوتی ہیں بعض مائیں اپنی بیٹیوں کو مار بھی رہی ہوتی ہیں، جس پر ان کو یوں سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ حادثہ ہے جس طرح سڑک پر حادثات ہوجاتے ہیں جس میں ہاتھ پیر کٹ جاتے ہیں تو اس میں ریپ متاثرہ بچی کا کیا قصور ہے، اسے تو نہیں معلوم تھا کہ اس کے ساتھ یہ ہوجائے گا؟ اگر معلوم ہوتا تو وہ اس جگہ جاتی ہی نہیں اور گھر سے باہر ہی نہ نکلتی لیکن اب جو گھر میں ہورہا ہے وہ کون روکے گا۔

خاتون وکیل کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس جو کیس ہے ان میں ایسے عزیز و اقارب ملزمان ہیں جنہیں معلوم تھا کہ بچے کے والدین دونوں ہی جاب کرتے ہیں اور گھر میں کوئی نہیں ہوگا سوائے ایک چھوٹے بچوں کے۔

انہوں نے ایک واقعہ بتایا کہ کس طرح اسی چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک شخص نے دروازہ کھٹکھٹایا جبکہ بچی نے بتایا کہ گھر میں والدین نہیں ہیں تو اس نے کہا کہ مجھے واش روم استعمال کرنا ہے جس پر وہ بچی مجبور ہوگئی اور اسے گھر میں اندر بلایا بعد ازاں ملزم نے اس سے کہا کہ پانی پلادو بچی پانے لینے اندر گئی تو اس کے چھوٹے بھائی کو پیسے دے کر باہر چیز لینے کے لیے بھیج دیا اور وہ جب اندر گئی تو اس نے بچی کے ساتھ زیادتی کی۔

آسیہ مینر نے کہا کہ یہ چیزیں بھی ہیں جن سے ہم انکار نہیں کرسکتے کہ فیملی ممبر بھی اس طرح کے واقعات میں ملوث ہوسکتے ہیں، اس کے علاوہ پڑوسی اور جان پہچان والے بھی ہوسکتے ہیں جبکہ بہت کم کیسز میں ایسا ہو کہ راہ چلتے نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا لیکن زیادہ تر کیسز میں ہمارے اپنے جاننے والے ہی ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک پولیس کی بات ہے تو ایسے کیسز کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہیئیں، وہ ایک کچی پرچی کے چکر میں رہتے ہیں اگر متاثرہ فرد ان کے پاس جاتا بھی ہے تو گھر کے کسی مرد کے ساتھ! وہ انہیں بتاتی ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے تو اس پر پولیس والے کہتے ہیں اچھا ٹھیک ہے ابھی ہم نے لکھ لیا ہے وہ بس ایک پرچے پر لکھ دیتے ہیں جس کے بعد ملزم کے خاندان کو اطلاع کردی جاتی ہے اور پھر وہ متاثرہ فرد پر دباؤ ڈالتے ہیں۔

خاتون وکیل نے بتایا کہ متاثرہ فرد اور اس کے کاندان سے کہا جاتا ہے کہ بھئی آپ دیکھو کہ اگر کوئی بات بنتی ہے کوئی سمجھوتہ ہوتا ہے تو ہوجائے، اگر نہیں ہورہا ہوتا ہے تو پولیس کسی اور طریقے سے تاخیر کرتی ہے اور تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں کہ ابھی ہمارے پاس اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) نہیں ہیں، ابھی ہم آپ کی ایف آئی آر نہیں کاٹ رہے وغیرہ وغیرہ۔

آسیہ منیر نے ایک واقعے کی نشاندہی کی کہ وہ ایک کیس میں متاثرہ فرد کے ساتھ خود گئیں تھی اور ان کے ساتھ دفتر کے بھی کچھ لوگ تھے تو پولیس نے ہمیں صبح 11 بجے سے رات 8 بجے تک ہمیں وہاں بیٹھائے رکھا لیکن ریپ متاثرہ بچی کی کی ایف آئی آر کو درج نہیں کیا، اس دن جمعہ تھا، بعض اوقات پولیس والے خود متاثرہ فرد کو پریشان کررہے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ روز پہلے ایک کیس میں 15 سال سزا ہوئی جو انسسٹ کا کیس تھا سگے والد نے اپنی بیٹی کے ساتھ زیادتی کی تھی اس سے ایک بچی پیدا ہوئی، اس کا ڈی این اے مثبت آیا تھا، اس کی میڈیکل کی گئی تھی اور کیمیکل ٹیسٹ بھی مثبت تھے پھر اس کا بیان بھی اپنے والد کے خلاف موجود تھا ان سب چیزوں کے بعد حتمی دلائل ہوئے تو فیصلہ ہوا اور ملزم کو 15 سال سزا دی گئی۔

آسیہ منیر کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے اس کیس میں 15 سال کی سزا کم ہے کیونکہ ان کیسز کو تو عبرت ناک سزائیں ہونی چاہیئیں تھیں جیسا کہ ایک بیٹی جو مکمل طور پر اپنے والد پر انحصار کرتی ہے تو اگر باپ ہی اس طرح کا عمل کعے گا تو پھر اس کے لیے تو معاشرے میں جگہ ہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور کیس تھا اس میں 12 سال کے بچے کو 'سوڈومائز' کرکے بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا تھا، ملزم کا سوتیلا والد پولیس والا تھا، علاقے میں جب میں گئی تو مجھے کچھ فیملی والوں نے کہا کہ اب کوئی اعلان نہیں ہوتا مسجد میں کہ ہمارا بچہ گم ہوگیا جب سے وہ ملزم جیل میں بند ہے۔

خاتون وکیل نے پیروی کیے جانے والے ایک اور کیس کا ذکر کیا کہ ملیر کی معروف فیکٹری کے ایک مزدور کو گرفتار کیا گیا تھا وہ سڑکوں پر کھیلتے ہوئے بچوں کو بہلا پھسلا کر لے جاتا یا اس کا پیچھا کرتا تھا، اس کے بعد اس کا ٹارگٹ 6 سے 7 سال کی بچیاں ہوتی تھیں اور ان کو کہیں بھی جھاڑیوں میں لے جاتا ان کے ساتھ زیادتی کرکے چھوڑ دیتا تھا، اس ملزم کے 21 بچیوں کے ساتھ زیادتی کے کیس سامنے آئے تھے جن میں سے 2 کا قتل بھی کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ کیسز ہمارے پاس سامنے آجاتے ہیں جو بے چارے بہت غریب علاقوں کے ہوں، جہاں دیوار سے دیوار ملی ہوئی ہے تو اگر ایک گھر میں کچھ ہورہا ہے تو دوسرے کو معلوم ہوجاتا ہے لیکن آپ دیکھیں ہائی کلاس وہاں بھی یہی چیز ہے وہاں پر بھی یہ کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں لیکن وہاں پر وہ چھپالیے جاتے ہیں اور ان کے ہاں اگر بچی کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو اسے باہر پڑھنے بھیج دیا جاتا ہے یا کہیں اور منتقل کردیا جاتا ہے کیونکہ ان کے پاس وسائل ہیں رسائی ہے لیکن غریب شخص جو یومیہ مزدوری پر کام کررہا ہے جس کو معلوم ہے کہ میں صبح میں نکلا ہوں اور شام تک اتنے پیسے لاؤں کہ میری فیملی بمشکل گزر بسر کرپائے گی۔

خاتون وکیل نے بتایا کہ طبقے کے مطابق جو غریب علاقے ہیں وہ ہمارے پاس سامنے آجاتے ہیں لیکن میرے پاس ہائی کلاس کے بھی کیسز ہیں، ایک خاندان کے پاس کینیڈین شہریت تھی، والد نے اپنی ہی بیٹی کے ساتھ زیادتی کی اور 2 سال تک اسے مسلسل زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، بچی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ بتاتی لیکن بعد ازاں کسی طرح اس نے ہمت دکھائی اور اپنی والدہ کو بتا دیا، وہ 4 بچوں کی والدہ تھیں جو سب چھوڑ چھار کر وطن واپس آگئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس متاثرہ لڑکی عمر 10 سال تھی اور اس کے ساتھ اس کے سگے والد نے یہ سب کیا، جو ایک ہائر کلاس کا بندہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا، یہاں بہت بڑے بینک میں اچھی ملازمت پر تھا اور وہ بھی اس چیز میں ملوث تھا۔


سوشل ورکر فریحہ الطاف


انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی اور بچوں کی فلاحی تنظیم ساحل سے وابستہ اداکارہ فریحہ الطاف نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بچہ ریپ سے متاثر ہوجاتا ہے تو اس کے اہل خانہ پر سماجی اور معاشرے کا دباؤ ہوتا ہے اور وہ اسے عزت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور کیس کو رپورٹ نہیں کرتے اور نہ ہی وہ پولیس کے پاس اسے رپورٹ کرنے کے لیے جاتے ہیں اور اگر وہ کسی کیس میں پولیس کے پاس پہنچ بھی جاتے ہیں تو انہیں اسے ثابت کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے کیسز میں یہ ضروری ہے جیسے ہی بچے کو ہسپتال منتقل کیا جائے اس کے فوری طور پر فرانزک ثبوت حاصل کیے جائیں اور ڈی این اے ٹیسٹ ہوں تاہم دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا اور حال ہی میں بہت زیادہ کوششوں کے بعد حکومت، خاص طور پر پی ٹی آئی کی حکومت اس حوالے سے اقدامات اٹھا رہی ہے جبکہ سابقہ حکومتوں میں اس حوالے سے خاموشی دیکھی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ تاہم اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس قسم کے اقدامات کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے، یہاں انہوں نے زینب بل کا ذکر کیا جو 20 دسمبر کو قومی اسمبلی سے منظور کروایا گیا ہے اور ساتھ ہی کہا کہ اس قانون پر بھی عمل درآمد میں وقت درکار ہے، جی ہاں ان چیزوں کے سد باب کے لیے وقت درکار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں فریحہ الطاف نے بتایا کہ انہوں نے ڈارک ویب کے حوالے سے ڈاکٹر شاہد مسعود سے بات کی تھی جس کے حوالے سے انہوں نے متعدد انکشافات کیے تھے، بعد ازاں میں نے بھی ڈارک ویب پر بہت ریسرچ کی اور اس حوالے سے ہیومن رائٹس کانفرنس میں ایک پریزینٹیشن بھی دی، جس سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ڈارک ویب ایک حقیقت کے طور پر موجود ہے اور یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک شخص نے اوزلو میں 3 ہزار 500 بچوں کی ویڈیوز بنائیں اور بعد ازاں بچوں کے اہل خانہ کو بتایا گیا کہ وہ ویڈیو گیمز بنا رہے تھے اور انہیں رقم بھی ادا کی گئی جبکہ وہ بچوں کی پورنوگرافی ویڈیوز بنانے میں ملوث تھے، اس شخص نے بچوں کو یہاں تک ڈرایا ہوا تھا کہ اگر انہوں نے اس حوالے سے کسی کو بتایا تو وہ ان کے والدین کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

فریحہ الطاف نے مزید بتایا کہ ڈارک ویب وہ جگہ ہے جہاں لوگ پورنو گرافی مواد کو دیکھنے کے لیے پہنچتے ہیں یہاں تک یہ ایسے ذہنی مریض بھی موجود ہیں جو بچوں کی ریپ کی ویڈیوز اور اس دوران ان پر تشدد یہاں تک کہ قتل کرنے کی ویڈیوز کے لیے اتنی رقم ادا کرتے ہیں جو ایک مکان کو خریدنے کے لیے کافی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ایسے ذہنی معذور لوگ موجود ہیں، میں نے اس حوالے سے اپنی این جی او سے بھی بات کی اور انہیں بتایا کہ وہ اس پر کیوں بات کرنا چاہتی ہیں کیونکہ ایسے کیسز نہ صرف قصور میں سامنے آئے بلکہ یہ گجرات اور سوات میں بھی سامنے آئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان سب کے پیچھے کوئی بہت ہی طاقت ور لوگ موجود ہے جو اس منظم گروہ کو مالی معاونت فراہم کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں بہت زیادہ رقم ہے یعنی لوگ ڈارک ویب پر 20 یورو میں کسی بھی بچے کو ریپ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اسی طرح پاکستان میں بھی یہ برا کاروبار ہورہا ہے اور اس کی ایک مثال سہیل ایاز کا کیس ہے جسے برطانیہ اور اٹلی میں سزا ہوئی اور اسے پاکستان بے دخل کیا گیا لیکن یہاں اسے 3 لاکھ روپے کی سرکاری نوکری دے دی گئی اور اس نے اپنا گندہ دھندا یہاں بھی جاری رکھا اور پاکستان میں کبھی کبھی اس طرح کی افسوس ناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں فریحہ الطاف کا کہنا تھا کہ بلکل جب اس طرح کے کیسز میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جاتا ہے اور ان کے خلاف معقول کارروائی نہیں ہوتی، جیسا کہ میں پہلے کہہ چکی ہوں کہ ایسے کیسز کو ثابت کرنا ایک انتہائی مشکل کام ہوتا ہے، یہاں فریحہ نے زینب کیس میں ملوث مجرم عمران کا ذکر کیا کہ کس طرح اس نے 8 بچیوں کو ریپ کرنے کے بعد قتل کیا جن میں سے ایک زندہ تو ہے لیکن انتہائی تشویشناک حالت میں کہ اس ذہن مردہ ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران کو دیگر بچیوں کے کیسز میں کیوں سزا نہ ہوسکی؟ کیونکہ ہمارا عدالتی نظام بہت مشکل ہے اور والدین نے انہیں بتایا کہ ان کو اپنے خرچ پر گجرانوالہ اور قصور سے عدالت میں پیش ہونے کے لیے آنا پڑتا تھا اور ان کے پاس رقم نہیں تھی کہ وہ فرانزک اور ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے ادائیگی کرسکتے اور یہاں تک بھی حکومت نے انہیں سہولت فراہم نہیں کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس کے ساتھ ساتھ ان سب سے بھی بڑھ کر ایسے کیسز کی مستقل پیروی کرنا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے بچوں کے ساتھ ریپ میں ملوث ملزمان رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

اداکارہ نے ذکر کیا کہ ایک ایسا کیس بھی ہمارے سامنے آیا کہ ایک شخص پر 111 کیسز سامنے آئے لیکن وہ عدم توجہ اور ثبوت کی عدم فراہمی کے باعث ختم ہوگئے، یہ ہی وہ معاملات ہیں جن کا پاکستان کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فریحہ الطاف نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمیں دو چیزیں کرنے کی ضرورت ہے اپنے بچوں کو دو مقامات پر تعلیم دینے کی ضروری ہے پہلی یہ کہ انہیں گھر میں اور اسکول میں تعلیم دینی چاہیے، انہوں نے نشاندہی کی کہ نصاب میں حفاظتی تدابیر کو شامل کرنے کی ضرورت ہے اس حوالے سے ویڈیوز بھی ہونی چاہیے اس حوالے سے ہمیں اپنے بچوں سے بات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں بچایا جاسکے اس کے علاوہ ان کے ساتھ ایک اچھے رابطے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بچوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیسز پر ساحل کے ساتھ تقریبا 2 سال سے کام کررہی ہیں، 'جس سے مجھے لگاتا ہے کہ یہ مستقل اقدامات کا متقاضی ہے اور یہ روز مرہ کا معاملہ ہے اور سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ اس حوالے سے بات کرنے کی ضرورت ہے اور جس قدر آواز بلند کی جائے، کی جانی چاہیے اور اس حوالے سے احتجاج ریکارڈ کروایا جانا چاہیے اور سوشل میڈیا اس حوالے سے اہم ہے، انہوں نے کہا کہ اس صورت میں ہی انصاف ممکن ہے جب آپ اس پر بات کریں گے اور میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں اس پر بات کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر آپ بچوں کے لیے بات نہیں کریں گے تو معلوم نہیں یہ بچے کس طرح محفوظ رکھے جاسکتے ہیں'۔

فریحہ الطاف نے تجویز پیش کی کہ آپ اپنے بچوں سے بات کریں اور ان کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے رکھیں اور انہیں محفوظ کریں اور انہیں اچھے اور برے چھونے کے بارے میں بتائیں اور انہیں انجان افراد کے ساتھ نہ بھجیں اور انہیں ان سے بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ اکیلا بھی نہ چھوڑیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ آپ سے کچھ کہتے ہیں تو ان کی بات کا یقین کریں کیونکہ بچے جھوٹ نہیں بولتے اور انہیں بتائیں کہ اگر کوئی انجان انہیں چھونے کی کوشش کرے تو وہ آپ کو بتائیں۔

کلینیکل سائیکولوجسٹ کی آرا کیا ہے؟

ریپ متاثرین بچوں کی ذہنی حالت اور ان کے کردار پر آنے والے اثرات کو جاننے کے لیے کلینیکل سائیکولوجسٹ ڈاکٹر آشا بیدار سے رابطہ کیا گیا جنہوں نے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریپ متاثرین چاہے بچے ہوں یا خواتین ان میں واقعے کے بعد اثرات مختلف ہوسکتے ہیں کوئی ایک ایسی چیز یا شکل آپ کو نظر نہیں آتی، جس کو یکساں طور پر ریپ متاثرین میں نوٹ کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں یہ بات بھی سامنے رکھی جاتی ہے کہ ریپ کون کررہا ہے، بظاہر کوئی رشتہ دار ایسا کرنے والا ہے یا پھر کوئی اجنبی ہے؟ لیکن جو عموماً نظر آتا ہے جب جنسی زیادتی یا ریپ ہوتا ہے تو متاثرہ فرد کی جانب سے فوری طور پر جو ردعمل آتا ہے وہ حیرانی والا ہوتا ہے یا صدمے والا ہوتا ہے اب یہ بھی مختلف افراد میں مختلف ہوسکتا ہے جو آپ کو مختلف طریقوں سے نظر آئے گا، کچھ لوگ رو دھو کر، چیخیں مارکر، مار پیٹ کرکے رد عمل دیتے ہیں، جیسے کہتے ہیں ایک مکمل بریک ڈاؤن اور کچھ لوگ بالکل دستبردار ہوجاتے ہیں، بالکل چپ ہوجاتے ہیں اور پریشان رہتے ہیں۔

ڈاکٹر آشا بیدار نے کہا کہ میں ریپ متاثرہ کلائنٹس کے ساتھ ڈیل کرتی ہوں تو مجھے دونوں چیزیں نظر آتی ہیں کہ کئی مرتبہ کلائنٹس میرے پاس آتے ہیں جو بہت چیخنا چلانا اور رونا دھونا جبکہ بہت زیادہ غصہ اور گالیاں دیتے ہیں، دوسری جانب کچھ ہیں جو بالکل چپ ہو جاتے ہیں یا وہ اپنے آپ کو بہت زیادہ مورد الزام ٹھہرا رہے ہوتے ہیں، جن کے لیے ہم سائیکالوجی میں ایک اصطلاح استعمال کرتے ہیں 'انٹرنلائز' کرنا یعنی وہ سارا غصہ، غم، دکھ اور صدمہ بالکل اپنے اندر لے لیتے ہیں اور اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرارہے ہوتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں یہ ذمہ دار قرار دینے والا معاملہ بہت زیادہ ہے کیونکہ سوسائٹی بچے کو بھی یا عموما خاتون کو ذمہ دار قرار دیتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ذہنی امراض کی خاتون ماہر نے کہا کہ جب بچوں کا ریپ یا جنسی زیادتی ہوتی ہے تو اس میں اکثر ان کے قریبی عزیز ملوث ہوتے ہیں جو بچوں کے قریب آکر ان کے ساتھ تعلقات قائم کرکے ایسا کرتے ہیں تو جب بعد میں واقعہ رونما ہوجاتا ہے تو بچے اکثر یہ بھی سوچ رہے ہوتے ہیں کہ ہم ان کے پاس کیوں گئے تھے؟ ہمیں منع بھی کیا گیا تھا ہم دوبارہ کیوں گئے تو وہ اپنے آپ کو بس ذمہ دار قرار دے رہے ہوتے ہیں، وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ ان کا ہی قصور ہوگا، اس کے علاوہ ایسے واقعات کے ساتھ ہی بعض کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ غصہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور اکثر بچوں میں یہ دیکھا گیا ہے جبکہ خواتین میں بھی ہوتا ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے تو ان کے اندر غصہ بڑھتا ہے اور وہ پھر کبھی کبھی اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

آشا بیدار نے کہا کہ کئی دفعہ لڑکیوں کے ساتھ یہ ہوتا ہے اس کے بعد انہیں شادی میں بہت مسائل کا سامنا ہوتا ہے ان کے لیے اعتماد کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کئی مرتبہ وہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا صدمہ ہوتا ہے جسے ہم ٹراما کہتے ہیں، مشکل حالات ہر کسی کی زندگی میں آتے ہیں لیکن جنہیں ہم ٹراما کہتے ہیں اور وہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بہت زیادہ خوف محسوس ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی ہوں کہ ریپ متاثرین کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کی کونسلنگ بھی ہونی چاہیے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کتنی لمبی کاؤنسلنگ چاہیے کتنے سیشنز یا ادویات کی ضرورت ہے یا نہیں ہے اس کا انحصار کیس پر ہوتا ہے، اب کچھ لوگ آتے ہیں جو کاؤنسلنگ میں ایک یا 2 یا 3 سیشنز یا کچھ ہفتے یا مہینے آکر اپنے اندر سے پورا ٹراما نکال دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کے لیے ریکوری کا عمل تھوڑا لمبا ہوتا ہے اور یہ بہت سے عوامل پر انحصار کرتا ہے کہ آپ کا خاندان کتنا سپورٹ کررہا ہے، دوست کتنا سپورٹ کررہے ہیں یا طعنے مل رہے ہیں یا بہت منفی قسم کا رویہ مل رہا ہے تو ظاہر ہے ایسی صورت حال میں ریکوری کے عمل میں وقت لگ سکتا ہے وہ ادویات بھی ہوسکتی ہیں کونسلنگ بھی ہوسکتی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ باہر کے ممالک میں تو یہ معیار ہے کہ اگر کسی کے ساتھ ریپ ہوجائے تو سائیکولوجسٹ کے پاس ان کے ایک سے 2 سیشن لازمی کروائے جاتے ہیں جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ انہیں آگے چل کر کس قسم کے علاج کی ضرورت پیش آئے گی اور یہ صرف سائیکولوجسٹ ہی بتاسکتے ہیں۔

آشا بیدار نے بتایا کہ تھراپی میں ہمارا مقصد یہی ہوتا ہے کہ متاثرہ فرد سے اس پر بات کریں، یہ نہیں کہہ رہے کہ سب کے سامنے بات کریں لیکن بات ضرور کریں اور جو بھی اندر در یا خوف چل رہا ہے اسے باہر نکالیں اس کے علاوہ جو یادیں پھنسی ہوئی ہیں وہ بھی باہر نکلیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ بچوں کی بحالی کے دوران مختلف تکنیک استعمال ہوتی ہیں کیونکہ اس طرح سے ان کے پاس الفاظ نہیں ہوتے وہ 'کمیونیکیٹ' نہیں کرپاتے تو ان کے ساتھ 'آرٹ کی تکینیک' یا 'پلے تھراپی' استعمال کی جاتی ہے اور اکثر یہ دیکھا گیا ہے بہت تحقیق ہوئی ہے کہ بچے کا ٹراما کسی نہ کسی طرح سے نظر آتا ہے یا ان کے کھیل میں آئے گا یا ان کی ڈرائنگ میں آئے گا تو وہ اس کے ذریعے سے اسے باہر نکالتے ہیں۔

ڈاکٹر آشا بیدار نے کہا کہ بچوں کے معاملے پر کئی دفعہ اہل خانہ کی بھی کونسلنگ ہوتی ہے کہ بچے کو کیسے سپورٹ کرنا ہے۔


نوٹ: رپورٹ میں شامل کیے گئے انٹرویوز کے لیے ویڈیو منیجر کامران نفیس جبکہ انٹرویوز کو تحریر کرنے میں ڈان نیوز کی اسٹاف ممبر ایمن محمود نے معاونت کی۔


عبدالرشید ڈان نیوز ویب پر بطور نیوز ایڈیٹر کام کررہے ہیں۔ آپ ان سے ٹوئٹر پر بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔

Twitter Share
Facebook Count