زینب قتل ازخود نوٹس: شاہد مسعود کو جے آئی ٹی کے سامنے ثبوت پیش کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2018

ای میل

سپریم کورٹ میں قصور میں زینب کے ریپ اور قتل کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) بشیر احمد میمن کی سربراہی میں نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی ) بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر ملزم عمران کے 37 بینک اکاؤنٹس سے متعلق ثبوت فراہم کریں۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران مقتولہ کے والد امین انصاری، جے آئی ٹی کے سربراہ، انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس اور چیف سیکریٹری پنجاب، اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود سمیت طلب کرنے پر صحافتی تنظیموں کے عہدیدار اور سینئر صحافی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حکم دیا کہ محمد ادریس کی سربراہی میں جے آئی ٹی صرف زینب قتل کیس کی تحقیقاتی کرے گی جبکہ ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے جلد از جلد از تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے چالان جمع کرانے کی ہدایت کی اور کہا کہ پروسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر چالان کی خود نگرانی کریں۔

انہوں نے کہا کہ تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور زینب قتل کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ قصور کے متعلقہ دو ایس ایچ او اور ڈی ایس کی تعیناتی اور دیگر مکمل ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا جائے۔

چیف جسٹس اور شاہد مسعود کے درمیان مکالمہ

سماعت کے دوران چیف جسٹس اور اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کے درمیان مکالمہ بھی ہوا، جسٹس ثاقب نثار نے ٹی وی اینکر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ غیر متعلقہ باتیں نہ کریں بینک اکاونٹس کے ثبوت دیں، اگر آپ کی خبر سچی نکلی تو آپ کو نمبر ایک صحافی ہونے کا اعزاز دیا جائے گا لیکن اگر یہ خبر غلط نکلی تو آپ سوچ نہیں سکتے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوگا۔

سماعت کے دوران عدالتی حکم پر ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام کی از خود نوٹس سے قبل اور بعد کی فوٹیج چلائی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ شاہد مسعود نے جو دو نام اپنے ہاتھ سے لکھ کر دیے تھے وہ عدالتی نوٹس میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی جے آئی ٹی عدالتی نوٹس کے بعد بنائی گئی ، جو کچھ آپ نے کہا اسے ثابت بھی کرنا ہے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ رات کو آپ کا پروگرام دیکھا تو ازخود نوٹس لیا تاکہ اتنے الزامات کے بعد ملزم کو قتل نہ کردیا جائے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ مجھے اپنی بات مکمل کرنے کے لیے وقت چاہیے، مجھے کہا گیا کہ میں ڈی پی او قصور کے سامنے پیش ہوں۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم رات 8 بجے تک آپ کی بات مکمل ہونے تک بیٹھے ہیں۔

شاہد مسعود نے کہا کہ قصور سے پورنوگرافی کی 3 سو ویڈیوز منظر عام پر آچکی ہیں جبکہ بچی پر تشدد کیا گیا، اجتماعی زیادتی کی گئی مگر ایک ہی ملزم کو پکڑا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اس گینگ کو بچانا چاہتے ہیں جس کو انہوں نے پالا ہے، اگر میری بات پر یقین نہیں تو میں چلا جاتا ہوں۔

ٹی وی اینکر نے کہا کہ میں راؤ انوار کی طرح فرار ہوجاؤں گا اور نجی طیارے پر یہاں سے چلا جاؤں گا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کو جانے نہیں دیں گے جبکہ ہم آپ کا نام ای سی ایل میں بھی ڈال سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اندازہ نہیں کہ اتنے الزامات تفتیش کا رخ بدل سکتے ہیں، اب ہم نئی جے آئی ٹی بنا رہے ہیں، جس کے سامنے آپ کو پیش ہونا ہوگا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ڈاکٹر شاہد کی باتیں درست ہوئی تو انہیں سرٹیفکیٹ دیا جائے گا لیکن اگر غلط ہوئی تو تین طرح کی کارروائی کی جاسکتی ہے، جس میں انسداد دہشت گردی، توہین عدالت کی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

مقتولہ زینب کے والد کو پریس کانفرنس سے روک دیا گیا

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت کے دوران عدالت نے مقتولہ کے والد امین انصاری اور وکیل آفتاب باجوہ کے میڈیا سے بات چیت کرنے پر پابندی عائد کردی، ساتھ ہی عدالت نے دونوں افراد کو تفتیش میں شامل ہونے کا حکم بھی دیا۔

چیف جسٹس نے زینب کے والد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بحیثیت قوم اپنی بیٹی سے شرمندہ ہیں، ملزم کو ایسی سزا ملنی چاہیے کہ دوبارہ کوئی ایسا گھناؤنا جرم کرنے کا سوچے بھی نہیں۔

مزید پڑھیں: زینب قتل کا ملزم 14 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

اس موقع پر زینب کے والد آبدیدہ ہوئے، جس پر چیف جسٹس نے انہیں بیٹھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو میرا ذاتی نمبر دے دیا جائے گا کوئی بھی مسئلہ ہو تو مجھے آگاہ کریں۔

’شاہد مسعود غلط ثابت ہوئے تو ان کو معافی کا حق دینا چاہیے‘

زینب قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران طلب کیے گئے صحافتی تنظیموں کے نمائندوں اور چیف جسٹس کے درمیان مکالمہ بھی ہوا۔

کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر ( سی پی این ای) ضیاء شاہد نے کہا کہ اگر غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں تو ڈاکٹر شاہد مسعود کی باتیں حقیقت کے قریب جا پہنچیں گی۔

انہوں نے کہا کہ قصور سمیت پورنوگرافی کے کئی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔

سینئر صحافی عارف نظامی نے کہا کہ اگر ایجنڈے سے بالاتر ہو کر صحافت نہیں ہو رہی تو اس پر شرمندہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حقائق نہیں تو خبر دینا صحافت کا جنازہ ہے، اس حوالے سے میڈیا ہاوسز کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔

سماعت کے دوران سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ ایک اپیل میری بھی عدالت سے ہے کہ تین سزاوں کہ ساتھ چوتھی بھی شامل کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر شاہد مسعود غلط ثابت ہوئے تو ان کو معافی کا حق دینا چاہیے، صحافیوں سے غلطیاں ہوتیں ہیں، انہیں معافی کا حق دینا چاہیے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے زینب قتل کیس میں گرفتار ملزم عمران کے 37 بینک اکاؤنٹس کا دعویٰ کرنے والے سینئر اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود سمیت صحافتی تنظیموں آل پاکستان نیوز پیپز ایسوسی ایشن (اے پی این ایس)، پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے عہدیداروں، سینئر صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کے مالکان کو بھی عدالت میں طلب کیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ زینب قتل کیس میں پکڑا گیا ملزم عمران کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ اس کے 37 بینک اکاؤنٹس ہیں اور وہ ایک بین الاقوامی گروہ کا کارندہ ہے اور اس گروہ میں مبینہ طور پر پنجاب کے ایک وزیر بھی شامل ہیں۔

اس دعوے کے بعد چیف جسٹس نے نوٹس لیا تھا اور انہیں سپریم کورٹ میں طلب کیا تھا، جہاں ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت کو ملزم کے 37 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کراتے ہوئے ایک پرچی پر ان شخصیات کا نام لکھ کر دیئے تھے۔

بعدازاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جے آئی ٹی کو رپورٹ پیش کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اینکر پرسن کے دعوے کے بعد تحقیقات کی گئی لیکن مرکزی ملزم کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ملا۔

جس کے بعد ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان نے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ ڈاکٹرشاہد مسعود کی رپورٹ بے بنیاد اور من گھڑت ہے اور ہم اس رپورٹ کے پیچھے چھپے محرکات سمجھنے سے قاصر ہیں جو انہوں نے نتائج کو دیکھے بغیر چلائی تھی۔

قصور میں 6 سالہ زینب کا قتل

صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں 4 جنوری کو 6 سالہ بچی زینب کو اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن جاتے ہوئے اغوا کرلیا گیا تھا۔

جس وقت زینب کو اغوا کیا گیا اس وقت ان کے والدین عمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب میں تھے جبکہ اہل خانہ کی جانب سے زینب کے اغوا سے متعلق مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: زینب قتل:مرکزی ملزم کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں، اسٹیٹ بینک

5 روز بعد 9 جنوری کو ضلع قصور میں شہباز خان روڈ پر ایک کچرے کے ڈھیر سے زینب کی لاش ملی تو ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

بعد ازاں پولیس کی جانب سے بچی کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا تھا، جس کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کردیا گیا تھا تاہم یہ بھی اطلاعات تھی کہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بچی کی لاش ملنے کے بعد قصور میں پُر تشدد مظاہروں کا آغاز ہوا اور میں شدت اس وقت دیکھنے میں آئی جب اہلِ علاقہ نے مشتعل ہو کر ڈی پی او آفس پر دھاوا بول دیا اور دروازہ توڑ کر دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تھی جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

10 جنوری کو بچی کے والدین عمرے کی ادائیگی کے بعد پاکستان پہنچے اور انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے ننھی زینب کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔

بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے زینب کے گھر کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے مجرموں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی تھی۔

خیال رہے کہ 23 جنوری کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے زینب کے والد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ زینب کے قاتل کو گرفتار کرلیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز (24 جنوری کو) ملزم عمران کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جسے عدالت نے 14 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

بعد ازاں 25 جنوری کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ملزم عمران کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔