زینب قتل ازخود نوٹس: ’ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوئی‘

اپ ڈیٹ 01 مارچ 2018

ای میل

اسلام آباد: صوبہ پنجاب کے علاقے قصور میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی معصوم بچی زینب پر سپریم کورٹ کی جانب سے لیے گئے ازخود نوٹس کیس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کے ٹی وی پروگرام میں کیے گئے دعوؤں اور انکشافات کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرادی، جس میں دعوؤں کو جھوٹ قرار دے دیا گیا۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوؤں کی تصدیق کے لیے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی، رپورٹ کے اہم مندرجات کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود کے تمام انکشافات کی تصدیق نہیں ہوئی، کمیٹی کی رپورٹ میں ڈاکٹر شاہد مسعود کے زینب قتل پر کیے گئے 18 انکشافات اور تحقیقاتی رپورٹنگ کو مسترد کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں ملزم عمران علی کے عالمی مافیا کے رکن ہونے کا الزام ثابت نہیں ہوا، اور نہ ہی ملزم کی سیاسی وابستگی کا ثبوت ملا۔

رپورٹ کے مطابق ملزم کے 37 بینک اکاونٹس کے الزامات ثابت نہیں ہوئے، اس کے علاوہ قصور میں وائلنٹ چائلڈ پورنوگرافی کے ثبوت بھی نہیں ملے۔

مزید پڑھیں: زینب قتل ازخود نوٹس: شاہد مسعود کو جے آئی ٹی کے سامنے ثبوت پیش کرنے کا حکم

رپورٹ میں کہا گیا کہ ملزم کے وی سی پی گروہ کے متحرک رکن ہونے کے الزامات بے بنیاد ہے جبکہ عمران علی کو بیرون ملک سے رقم وصول ہونے کی تحقیقاتی خبر کا کوئی بھی حصہ ڈاکٹر شاہد مسعود ثابت نہ کر سکے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ثبوت بھی نہیں ملے کہ کوئی ملزم کو ذہنی مریض ثابت کرنا چاہتا ہے، سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم غریب ہے، عمران علی کے پاس کروڑوں روپے کی رقم کا کوئی ثبوت نہیں، ملزم کے بااثر شخصیت سے روابط کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق شاہد مسعود ملزم کو وفاقی وزیر کا تعاون حاصل ہونے کے شواہد بھی فراہم نہیں کر سکے جبکہ ملزم عمران علی کو پولیس حراست میں مارنے کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔

رپورٹ میں یہ واضح بھی کیا گیا کہ یہ بھی ثابت نہیں ہوا کہ جرم سے قبل ملزم نے زینب کی تصویر بنائی اور اسے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: زینب قتل از خود نوٹس: سپریم کورٹ کا ملزم کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا حکم

رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے انکشافات کے شواہد پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئے۔

خیال رہے کہ 28 جنوری 2018 کو سپریم کورٹ میں زینب قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) بشیر احمد میمن کی سربراہی میں نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی ) بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر ملزم عمران کے 37 بینک اکاؤنٹس سے متعلق ثبوت فراہم کریں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حکم دیا تھا کہ محمد ادریس کی سربراہی میں جے آئی ٹی صرف زینب قتل کیس کی تحقیقاتی کرے گی جبکہ ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے زینب قتل کیس میں گرفتار ملزم عمران کے 37 بینک اکاؤنٹس کا دعویٰ کرنے والے سینئر اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود سمیت صحافتی تنظیموں آل پاکستان نیوز پیپز ایسوسی ایشن (اے پی این ایس)، پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے عہدیداروں، سینئر صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کے مالکان کو بھی عدالت میں طلب کیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ زینب قتل کیس میں پکڑا گیا ملزم عمران کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ اس کے 37 بینک اکاؤنٹس ہیں اور وہ ایک بین الاقوامی گروہ کا کارندہ ہے اور اس گروہ میں مبینہ طور پر پنجاب کے ایک وزیر بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: زینب قتل از خود نوٹس: عدالت کی تفتیشی اداروں کو 72 گھنٹے کی مہلت

اس دعوے کے بعد چیف جسٹس نے نوٹس لیا تھا اور انہیں سپریم کورٹ میں طلب کیا تھا، جہاں ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت کو ملزم کے 37 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کراتے ہوئے ایک پرچی پر ان شخصیات کا نام لکھ کر دیئے تھے۔

بعدازاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جے آئی ٹی کو رپورٹ پیش کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اینکر پرسن کے دعوے کے بعد تحقیقات کی گئی لیکن مرکزی ملزم کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ملا۔

جس کے بعد ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان نے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ ڈاکٹرشاہد مسعود کی رپورٹ بے بنیاد اور من گھڑت ہے اور ہم اس رپورٹ کے پیچھے چھپے محرکات سمجھنے سے قاصر ہیں جو انہوں نے نتائج کو دیکھے بغیر چلائی تھی۔

قصور میں 6 سالہ زینب کا قتل

صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں 4 جنوری کو 6 سالہ بچی زینب کو اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن جاتے ہوئے اغوا کرلیا گیا تھا۔

جس وقت زینب کو اغوا کیا گیا اس وقت ان کے والدین عمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب میں تھے جبکہ اہل خانہ کی جانب سے زینب کے اغوا سے متعلق مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

5 روز بعد 9 جنوری کو ضلع قصور میں شہباز خان روڈ پر ایک کچرے کے ڈھیر سے زینب کی لاش ملی تو ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: زینب قتل از خود نوٹس: سپریم کورٹ میں تمام تحقیقاتی ٹیمیں طلب

بعد ازاں پولیس کی جانب سے بچی کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا تھا، جس کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کردیا گیا تھا تاہم یہ بھی اطلاعات تھی کہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بچی کی لاش ملنے کے بعد قصور میں پُر تشدد مظاہروں کا آغاز ہوا اور میں شدت اس وقت دیکھنے میں آئی جب اہلِ علاقہ نے مشتعل ہو کر ڈی پی او آفس پر دھاوا بول دیا اور دروازہ توڑ کر دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تھی جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

10 جنوری کو بچی کے والدین عمرے کی ادائیگی کے بعد پاکستان پہنچے اور انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے ننھی زینب کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔

بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے زینب کے گھر کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے مجرموں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی تھی۔

مزید پڑھیں: زینب قتل: 227 افراد سے تفتیش، 64 ڈی این اے ٹیسٹ کا مشاہدہ

خیال رہے کہ 23 جنوری کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے زینب کے والد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ زینب کے قاتل کو گرفتار کرلیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز (24 جنوری کو) ملزم عمران کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جسے عدالت نے 14 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

بعد ازاں 25 جنوری کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ملزم عمران کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔