وزیراعظم کا پاکستان کیلئے برطانوی ٹریول ایڈوائزری کا خیر مقدم

24 جنوری 2020

ای میل

برطانوی ٹریول ایڈوائزری سے روزگار کی فراہمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے حل میں مدد ملے گی، وزیر اعظم — فائل فوٹو / ڈان نیوز
برطانوی ٹریول ایڈوائزری سے روزگار کی فراہمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے حل میں مدد ملے گی، وزیر اعظم — فائل فوٹو / ڈان نیوز

وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے لیے برطانوی ٹریول ایڈوائزری کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے بڑی خوشخبری قرار دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ 'بلاشبہ یہ ایک بڑی خوشخبری ہے جس سے پاکستان میں سیاحت اور سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی اور ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔'

انہوں نے کہا کہ 'برطانوی ٹریول ایڈوائزری سے پاکستان کو درپیش دو اہم ترین معاشی مسائل یعنی روزگار کی فراہمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے حل میں مدد ملے گی۔'

قبل ازیں ملتان میں میڈیا سے گفتگو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی برطانیہ کی جانب سے سفری پابندیوں میں نرمی کو ملکی معیشت اور سیاحت کے لیے خوش آئند قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ اچھی شروعات ہیں، اس سے روزگار اور سیاحت کے مواقع پیدا ہوں گے، جاپان نے بھی کیا اور اقوام متحدہ نے خود پاکستان کی صورت حال کو دیکھ کر دوبارہ فیملی اسٹیشن قرار دیا ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ نے پاکستان کیلئے سفری شرائط میں نرمی کردی

انہوں نے کہا کہ 'یہ پاکستان پر، پاکستان کی سیکیورٹی کی صورت حال پر پاکستان کی معیشت پر اعتماد کا اظہار ہے جو انہوں نے کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید ممالک اس کی تقلید کریں گے اور سفری ہدایات پر نظر ثانی کریں گے جس سے ملک کو فائدہ ہوگا۔'

واضح رہے کہ اسلام آباد میں قائم برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ‘برطانیہ نے آج سفری ہدایات تبدیل کردی ہے جو پاکستان میں سیکیورٹی کی صورت حال کی بہتری کا عکس ہے’۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘یہ اعلان برطانیہ کا پاکستان کے لیے سفری ہدایات کے تفصیلی جائزے کا نتیجہ ہے جو ملک میں سیکیورٹی صورت حال کا وسیع جائزے کی بنیاد پر کیا گیا’۔

برطانوی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ‘2015 کے بعد یہ پہلی اہم پیش رفت ہے’۔

پاکستان کے مختلف سیاحتی مقامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تبدیلیوں سے برطانوی شہریوں کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات بشمول کیلاش اور بمبورت وادیوں تک بذریعہ سڑک جانے کی اجازت ہو گی’۔

پاکستان کے لیے برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچین ٹرنر کا کہنا تھا کہ ‘دسمبر2019 میں پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سفری ہدایات کا جائزہ ترجیحی بنیادوں پر لیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ حکومتِ پاکستان کی گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امن و امان کو بہتر کرنے کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے’۔

برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ ‘مجھے خوشی ہے کہ اب برطانیہ کے شہری پاکستان میں خوبصورت سیاحتی مقامات سے زیادہ لطف اندوز ہوسکیں گے’۔