بلدیہ فیکٹری کیس:ایم کیو ایم نے تحقیقات روکنے کیلئے پولیس پر دباؤ ڈالا، پراسیکیوٹر

اپ ڈیٹ فروری 04 2020

ای میل

کیس کا ٹرائل سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں کیا جارہا ہے — فائل فوٹو / اے ایف پی
کیس کا ٹرائل سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں کیا جارہا ہے — فائل فوٹو / اے ایف پی

بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں سندھ رینجرز کی نمائندگی کرنے والے خصوصی پبلک پراسیکیوٹر نے انسداد دہشت گردی عدالت کو بتایا ہے کہ خوفناک واقعے کے ایک ہفتے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنماؤں نے پولیس پر واقعے کی تحقیقات بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

خصوصی پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ نے کراچی کی اے ٹی سی عدالت کو بتایا کہ واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ بلدیہ فیکٹری میں آگ جان بوجھ کر لگائی گئی، تاہم پولیس نے اعلیٰ افسران نے مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے دباؤ میں آکر کیس کے تفتیشی افسر کو تبدیل کر دیا۔

انہوں نے یہ بات انسداد دہشت گردی عدالت 7 کے جج کے سامنے اپنے حتمی دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہی۔

کیس کا ٹرائل سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ 11 ستمبر 2012 کو پیش آنے والے خوفناک واقعے میں علی انٹرپرائزز گارمنٹ فیکٹری میں آگ لگنے سے وہاں کام کرنے والے 260 سے زائد افراد جل کر جاں بحق ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری: ایم کیو ایم کو کروڑوں روپے بھتہ دینے کا کہا گیا، مالک

ایم کیو ایم کے سابق رکن سندھ اسمبلی اور اس وقت کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت عبدالرؤف صدیقی، ایم کیو ایم کے سابق سیکٹر انچارچ عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چَریا سمیت 9 افراد کو فیکٹری کے 4 چوکیداروں شاہ رخ لطیف، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد کی مدد سے وہاں آگ لگانے کا ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔

خصوصی پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ نے کیس کے پہلے تفتیشی افسر انسپکٹر ظفر اقبال سمیت پراسیکیوشن کے تقریباً 370 گواہوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کا ابتدائی مؤقف کہ فیکٹری میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی غلط تھا۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ تفتیشی افسر ظفر اقبال کو واقعے کے ایک روز بعد اس کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی جنہوں نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے کے اندر ہی تفتیشی افسر یہ بات سامنے لائے تھے کہ فیکٹری میں آگ جان بوجھ کر لگائی گئی، ملزم زبیر عرف چَریا کو واقعے کے روز فیکٹری میں دیکھا گیا جس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے وہاں آگ لگائی تھی۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری: 7 سال بعد زمینی حقائق اب بھی وہی ہیں

ساجد محبوب شیخ نے ظفر اقبال کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ایک روز بعد تفتیشی افسر نے زبیر عرف چریا کی گرفتاری کے لیے اس کے گھر پر چھاپہ بھی مارا، تاہم ان سے کیس کی تفتیش واپس لے کر دوسرے افسر کو سونپی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ظفر اقبال نے گواہی دی تھی کہ پولیس کے اعلیٰ افسران نے مبینہ طور پر ایم کیو ایم کی قیادت کے دباؤ میں آکر ان سے کیس کی تحقیقات واپس لی تھیں۔

پراسیکیوٹر کے مزید دلائل 14 فروری کو ریکارڈ کیے جائیں گے۔