اقوام متحدہ کے رکن ممالک امریکی امن منصوبے کو مسترد کردیں، فلسطین

اپ ڈیٹ 11 فروری 2020

ای میل

انہوں نے کہا 'آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ دوزمینوں کا الحاق کر دیں، محمود عباس — فائل فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے کہا 'آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ دوزمینوں کا الحاق کر دیں، محمود عباس — فائل فوٹو: اے ایف پی

فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ دنیا کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لیے متنازع امن منصوبے کو 'بیرونی تسلط' قرار دیتے ہوئے مسترد کر دینا چاہیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے مابین امریکی صدر کا متنازع امن منصوبہ پائیدار امن نہیں لاسکتا۔

رواں برس 28 جنوری کو امریکی صدر کے امن منصوبے کے تناظر میں اسرائیل اور فلسطین کے ایک بڑے نقشے کو اٹھا کر محمود عباس نے کہا کہ ٹرمپ کا امن منصوبہ ایک 'سوئس پنیر' کی مانند ہے جو فلسطینیوں کی خود مختاری محدود کردے گا۔

مزید پڑھیں: امن منصوبے سے انکار پر اسرائیل فلسطین کو ریاست تسلیم نہ کرے، امریکی عہدیدار

فلسطینی صدر نے سلامتی کونسل سے کہا کہ 'میں ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان کا پیش کردہ منصوبہ امن اور سلامتی حاصل نہیں کرسکتا کیونکہ اس سے بین الاقوامی قانونی جواز ختم ہو جاتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے متنازع امن منصوبے سے فلسطینیوں کے تمام حقوق منسوخ کر دیے گئے اور اس سے دو ریاستی حل کی امنگوں کو پورا نہیں کیا جاسکتا ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے ٹرمپ کو مخاطب کرکے کہا کہ 'اگر آپ امن منصوبہ مسلط کرنا چاہتے ہیں تو یہ قائم نہیں رہ سکتا، یہ ہرگز قائم نہیں رہ سکتا'۔

انہوں نے کہا کہ 'آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ دو زمینوں کا الحاق کردیں'۔

محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن 'قابل حصول' رہا اور میں شراکت دار قائم کرنا چاہتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطین نے امریکا اور اسرائیل سے تمام تعلقات ختم کردیے

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ 'یہ متنازع امن معاہدہ بین الاقوامی شراکت نہیں ہے اور یہ تجویز ایک ریاست کی تھی جسے مسلط کرنے کے لیے دوسری ریاست کی حمایت حاصل تھی'۔

فلسطینی صدر نے کہا کہ 'فلسطینی اس منصوبے کے خلاف بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں'۔

محمود عباس نے کہا کہ 'مجھے نہیں معلوم کہ ٹرمپ کو یہ مشورہ کس نے دیا اور جس امریکی صدر سے میں نے ملاقات کی تھی وہ ایسا نہیں تھا'۔

خیال رہے کہ چند ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یروشلم، اسرائیل کا 'غیر منقسم دارالحکومت' رہے گا جبکہ فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم میں دارالحکومت ملے گا اور مغربی کنارے کو آدھے حصے میں نہیں بانٹا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے میں مغربی پٹی میں اسرائیلی آباد کاری کو تسلیم کرلیا گیا ہے اور ساتھ ہی مغربی کنارے میں نئی بستیاں آباد کرنے پر 4 سال کی پابندی لگادی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: فلسطینی آخر جائیں تو جائیں کہاں؟

اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ہمراہ واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ 'اس طرح فلسطینیوں کے زیر کنٹرول علاقہ دوگنا ہوجائے گا'۔

اس منصوبے میں امریکا نے اسرائیل کو اسٹریٹجک اہمیت کی حامل وادی اردن کو ضم کرنے کی بھی منظوری دی جو مغربی کنارے کا 30 فیصد علاقہ ہے جبکہ دیگر یہودی بستیوں کے الحاق کی اجازت بھی شامل ہے۔

منصوبے کے جواب میں فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو اوسلو معاہدے کے تحت سلامتی تعاون سے دستبردار ہونے کا پیغام بھیجا تھا۔

محمود عباس نے اسرائیلی وزیراعظم کو خبردار کیا تھا کہ اب فلسطین، اوسلو کے معاہدے پر عمل درآمد سے آزاد ہے۔