زیادہ چلنا موٹاپے سے بچانے میں مددگار نہیں، تحقیق

14 فروری 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

اگر تو آپ کو لگتا ہے کہ بہت زیادہ پیدل چلنا موٹاپے سے نجات میں مدد دے سکتا ہے تو اس خیال کو ذہن میں سے نکال دیں۔

درحقیقت دنیا بھر میں یہ عام خیال پایا جاتا ہے کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلنا صحت کو بہتر بنانے کے ساتھ جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔

مگر اب امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں اس تاثر کو مسترد کردیا گیا ہے۔

برگھم ینگ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ زیادہ چلنا سست طرز زندگی کے دورانیے میں کمی لاسکتا ہے مگر اس سے جسمانی وزن میں اضافے کی روک تھام نہیں ہوتی۔

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ روزانہ 10 بلکہ صرف ساڑھے 7 ہزار قدم چلنا بھی جسمانی صحت کے فائدہ مند ہے مگر جسمانی وزن میں کمی کے لیے یہ کوئی کارآمد طریقہ نہیں۔

اس تحقیق کے دوران 120 طالبعلموں کا جائزہ 6 ماہ تک لیا گیا۔

ان افراد کو 24 ہفتے تک ہر ہفتے 6 دن 10، 12 یا 15 ہزار قدم چلنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی غذائی عادات اور وزن کو ٹریک کیا گیا۔

اس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ تجویز کردہ 10 ہزار قدم روزانہ چلنا کس حد تک وزن اور چربی میں اضافے میں کمی لاسکتا ہے۔

مگر نتائج سے معلوم ہوا کہ چاہے لوگ روزانہ 15 ہزار قدم چلنا ہی عادت کیوں نہ بنالیں، ان کے وزن میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوتا ہے اور اس دورانیے کے دوران طالبعلموں کے جسمانی وزن میں اوسطاً ڈیڑھ کلو تک اضافہ ہوا۔

محققین کا کہنا تھا کہ صرف ورزش ہی جسمانی وزن میں کمی کا موثر ترین ذریعہ نہیں، زیادہ چلنا جسمانی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے مددگار ہے مگر ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جسمانی وزن کو برقرار رکھنے یا اضافے کی روک تھام کے لیے موثر نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ زیادہ چلنے سے وزن پر تو اثرات مرتب نہیں ہوئے مگر جسمانی سرگرمیوں کے رجحان پر مثبت اثر ضرور دیکھنے میں آیا جو ذہنی اور جسمانی صحت میں مجموعی بہتری کا باعث بن سکتا ہے۔

ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا ذیایبطس، موٹاپے اور امراض قلب سمیت متعدد طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔