امریکا، طالبان کے درمیان امن معاہدے پر جلد دستخط ہوں گے، ترجمان دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 20 فروری 2020

ای میل

اس معاہدے کے نتیجے میں انٹر افغان مذاکرات کا آغاز ہوگا، ترجمان — فائل فوٹو
اس معاہدے کے نتیجے میں انٹر افغان مذاکرات کا آغاز ہوگا، ترجمان — فائل فوٹو

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر جلد دستخط ہوں گے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔

دفتر خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں امن و استحکام دیکھنے کا خواہاں ہے جبکہ اس معاہدے کے نتیجے میں انٹر افغان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل طالبان نے افغانستان میں 7 دن کے لیے پرتشدد کارروائیوں میں کمی کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد امریکا نے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ جلد طے پانے کی امید ظاہر کی تھی۔

مزید پڑھیں: معاہدہ طے پانے کے امکانات روشن، طالبان کا عارضی جنگ بندی پر اتفاق

جنگ بندی پر رضامندی کا حالیہ اعلان ایک امریکی عہدیدار نے کیا، جس سے ایک روز قبل ہی افغان صدر اشرف غنی نے عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت میں ’قابل ذکر پیش رفت‘ ہونے کا اشارہ دیا تھا۔

افغان صدارتی انتخاب کے نتائج پر تبصرے سے گریز

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دفترخارجہ نے افغان صدارتی انتخاب کے نتائج پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ ہم نے افغانستان کے انڈیپنڈنٹ الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے اعلان کو نوٹ کیا ہے، ہم اس حوالے سے پیش رفت کی نگرانی کررہے ہیں اور مناسب وقت پر جواب دیں گے۔

خیال رہے کہ 18 فروری کو افغانستان کے الیکشن کمیشن نے 28 ستمبر کو ہونے والے انتخاب کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے صدر اشرف غنی کو 50.64 ووٹوں کے ساتھ فاتح جبکہ عبداللہ عبداللہ 39.52 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

انتخاب سے قبل چیف ایگزیکٹو کے عہدے کے حامل عبداللہ عبداللہ نے نتائج کو ’ غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے خود کو فاتح قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ چوتھا افغان صدارتی انتخاب تھا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکا، برطانیہ، روس اور ایران سمیت دیگر کئی ممالک اور اقوام متحدہ نے انتخاب کے نتائج پر تنازع کی وجہ سے اس پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔

'توقع ہے امریکی صدر دورہ بھارت میں مسئلہ کشمیر اٹھائیں گے'

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے، ہم توقع کرتے ہیں کہ ان کے دورہ بھارت کے دوران وہ کشمیر کا مسئلہ بھارتی قیادت کے سامنے اٹھائیں گے اور ان کی جانب سے مصالحت کی پیشکش ٹھوس عملی اقدامات کے ذریعے آگے بڑھے گی۔

عائشہ فاروقی نے امریکی سینیٹرز کی جانب سے امریکی سیکریٹری خارجہ کو تحریر کردہ خط کا خیر مقدم کیا، جس میں مقبوضہ کشمیر میں عوام کی مشکلات و مصائب کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کشمیری عوام کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور بھارتی حکومت سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بنیادی آزادی کی فراہمی، کالے قوانین کے خاتمے اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق تنازع کے منصفانہ حل کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار تنازع کشمیر میں ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں تاہم بھارت ہٹ دھری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کرتا آیا ہے، جبکہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل سے بھی انکاری ہے۔

'انتونیو گوتریس،ترک صدر کا دورہ پاکستان پر اعتماد کا اظہار'

ترجمان دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے حالیہ دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح پر یہ دورے عالمی برادری کا امن و استحکام میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار پر اعتماد کا اظہار ہے۔

چین میں کورونا وائرس کی تازہ صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ میں ہمارے مشن کے دو افسران پر مشتمل ٹاسک فورس کو چینی شہر ووہان میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہاں مقیم پاکستانی طلبا کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس نے پہلے ہی ووہان میں 7 جامعات کے دورے کیے ہیں اور ان طلبا سے فرداً فرداً اور ان جامعات کی انتظامیہ سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ترک صدر پاکستان کا دو روزہ دورہ مکمل کر کے وطن روانہ

سعودیہ میں صرف پاکستانی تارکین وطن کی گرفتاری کا تاثر مسترد

سعودی عرب میں پاکستانی شہریوں کی گرفتاری کے حوالے سے عائشہ فاروقی نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کیا کہ صرف پاکستانی تارکین وطن کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت ہر سال ماہ رمضان سے قبل تمام غیر قانونی تارکین وطن اور ورکرز کے خلاف آپریشن کرتی ہے، سعودی حکام نے اس مہم کے دوران دیگر ملکوں کے شہری بھی گرفتار کیے ہیں۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ جدہ میں ہمارا قونصلیٹ اس سلسلے میں سعودی حکام کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے اور پاکستانی برادری کے مفادت کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے۔