کراچی میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا مسافر طیارہ گرکرتباہ ہوا، جس میں ایک اندازے کے مطابق 99 افراد سوار تھے۔

رپورٹس کے مطابق طیارہ میں 91 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے۔

عینی شاہد شکیل احمد کا کہنا تھا کہ 'طیارہ پہلے موبائل ٹاور سے ٹکرایا اور پرگھر گھروں کے اوپر آگرا'۔

جائے قوع کی تصاویر میں دکھا جاسکتا ہے کہ کالا دھواں اٹھ رہا ہے اور فائربریگیڈ کے اہلکار آگ بجھانے میں مصروف ہیں جبکہ متاثرین کی تلاش جاری ہے۔

فائر فائٹرز نے مشکلات کے باوجود آگ کو جلد قابو کرنے کی کوششیں کیں—فوٹو:اے پی
فائر فائٹرز نے مشکلات کے باوجود آگ کو جلد قابو کرنے کی کوششیں کیں—فوٹو:اے پی
فائر فائٹرز نے جہاز کے ملبے سے آگ بجھا کر امدادی کام کے لیے راستہ صاف کیا—فوٹو:اے پی
فائر فائٹرز نے جہاز کے ملبے سے آگ بجھا کر امدادی کام کے لیے راستہ صاف کیا—فوٹو:اے پی
پی آئی اے کا جہاز رہائشی علاقے میں گرا اور گھروں میں بھی آگ لگی—فوٹو:اے ایف پی
پی آئی اے کا جہاز رہائشی علاقے میں گرا اور گھروں میں بھی آگ لگی—فوٹو:اے ایف پی
رضاکاروں نے زخمیوں کو ایمبولینس میں منتقل کردیا اور فوری طور پر ہسپتال پہنچادیا گای—فوٹو:اے ایف پی
رضاکاروں نے زخمیوں کو ایمبولینس میں منتقل کردیا اور فوری طور پر ہسپتال پہنچادیا گای—فوٹو:اے ایف پی
جائے وقوع پر امدادی کارکنوں کے علاوہ شہریوں کی بڑی تعداد بھی جمع ہوگئی—فوٹو:اے ایف پی
جائے وقوع پر امدادی کارکنوں کے علاوہ شہریوں کی بڑی تعداد بھی جمع ہوگئی—فوٹو:اے ایف پی
جہاز کے گرنے سے کئی گھر تباہ ہوگئے—فوٹو:رائٹرز
جہاز کے گرنے سے کئی گھر تباہ ہوگئے—فوٹو:رائٹرز
شہریوں نے بھی امدادی کام میں رضاکاروں کا ساتھ دیا—فوٹو:رائٹرز
شہریوں نے بھی امدادی کام میں رضاکاروں کا ساتھ دیا—فوٹو:رائٹرز
پی آئی اے کے جہاز کو پیش آنے والے حادثے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں—فوٹو:رائٹرز
پی آئی اے کے جہاز کو پیش آنے والے حادثے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں—فوٹو:رائٹرز
حادثے کے نتیجے میں گھروں کو بھی آگ لگی—رائٹرز
حادثے کے نتیجے میں گھروں کو بھی آگ لگی—رائٹرز
جہاز کے ٹکڑے گھروں کی چھتوں پر بکھرے پڑے ہیں—فوٹو:اے ایف پی
جہاز کے ٹکڑے گھروں کی چھتوں پر بکھرے پڑے ہیں—فوٹو:اے ایف پی
جہاز کے حادثے میں کئی گھر تباہ ہوئے—فوٹو:اے ایف پی
جہاز کے حادثے میں کئی گھر تباہ ہوئے—فوٹو:اے ایف پی

ای میل

ویڈیوز

سندھ میں دوسرے مرحلے میں اسکولز کھولنے کا فیصلہ مؤخر
سینیٹ اجلاس میں مشاہداللہ اور میاں عتیق شیخ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
ملک بھر میں کورونا کیسز کی تعداد میں دوبارہ اضافہ
حکومت کا آج سے 30 ستمبر تک پاک چین بارڈر کھولنے کا فیصلہ

تصاویر

جوڑوں کے تکلیف دہ امراض میں کمی لانے میں مددگار غذائیں
کامیڈی وائلڈ لائف فوٹوگرافی ایوارڈز میں منتخب ہونے والی تصاویر
پاکستان میں 6 ماہ بعد ایس او پیز کے ساتھ تعلیمی ادارے کھل گئے
دانتوں کو موتیوں جیسے سفید بنانے میں مددگار قدرتی ٹوٹکے

تبصرے (1) بند ہیں

علی May 23, 2020 08:49am
منظم امدادی کاروائیوں کی کمی ہر باد دیکھی جاتی ہے۔ ریسکیو اا۲۲ جیسے ادارے کیوں نہی قائم کیے جاتے کراچی جیسے بڑے شہر میں؟