گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی تحلیل، میر افضل نگراں وزیراعلیٰ مقرر

24 جون 2020

ای میل

گلگت بلتستان اسمبلی اپنی 5 سالہ مدت کے بعد تحلیل ہوئی—فائل فوٹو: ڈان نیوز
گلگت بلتستان اسمبلی اپنی 5 سالہ مدت کے بعد تحلیل ہوئی—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم پاکستان اور گلگت بلتستان (جی بی) کونسل کے چیئرمین عمران خان نے میر افضل کو گلگت بلتستان کا نگراں وزیراعلیٰ مقرر کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی نے منگل کی درمیانی شب میں اپنی 5 سالہ مدت مکمل کرلی۔

محکمہ قانون اور پراسیکیوشن گلگت بلتستان کے جاری ایک نوٹیفکیشن کے مطابق گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019 کے آرٹیکل 56 (5) کے تحت 23 جون کی رات کو گلگت بلتستان اسمبلی اپنی 5 سالہ مدت پوری کرکے تحلیل ہوگئی۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان: مالی سال 21-2020 کیلئے 68 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش

خیال رہے کہ اس ریفارمز کو جی بی (انتخابات اور نگراں حکومت) ترمیمی آرڈر 2020 کے ذریعے پاکستان کے صدر کی جانب سے جی بی میں لاگو/بڑھایا گیا تھا۔

جی بی کونسل سیکریٹرٹ کی جانب سے منگل کو جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکومت گلگت بلتستان کے آرڈر 2018 کے آرٹیکل 48 اے (2) کے مطابق گلگت بلتستان کونسل کے چیئرمین نے موجودہ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور سبکدوش ہونے والی گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی اور وفاقی وزیر برائے کشمیر اموت اور گلگت بلتستان کی مشاورت سے میر افضل کو گلگت بلتستان کا نگراں وزیراعلیٰ منتخب کیا جاتا ہے۔

ضلع استور کے بنجی علاقے سے تعلق رکھنے والے میر افضل، ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس کے طور پر ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ نگراں وزیراعلیٰ آج (بدھ) کو اسلام آباد میں عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

دوسری جانب جب اس معاملے پر وفاقی وزیر برائے کشمیر امور اور گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور سے رابطہ کیا تو انہوں نے ڈان کو بتایا کہ جی بی کے کابینہ اراکین کے ناموں کا نوٹیفکیشن نگراں وزیراعلیٰ کے دفتر سنبھالنے کے بعد جاری کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کے وزیر زراعت حاجی جانباز خان کورونا وائرس سے انتقال کرگئے

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے وقت پر انتخابات منعقد کرانے کے لیے ایک عارضی شیڈول الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کو بھیج دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ قانون ک مطابق یہ ضروری ہے کہ 2 ماہ کے اندر انتخابات منعقد کیے جائیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ای سی پی اس حوالے سے فیصلہ کرے گا کہ آیا کووڈ 19 کی صورتحال کے دوران انتخاب منعقد کروانا ممکن ہے یا نہیں۔