جرمنی میں ’اپ اسکرٹنگ‘ جرم قرار

اپ ڈیٹ 03 جولائ 2020

ای میل

جرمنی سے قبل برطانیہ بھی ایسا قانون بنا چکا ہے—فائل فوٹو: ڈیلی مرر
جرمنی سے قبل برطانیہ بھی ایسا قانون بنا چکا ہے—فائل فوٹو: ڈیلی مرر

یورپی ملک جرمنی نے نئی قانون سازی کرتے ہوئے ’اپ اسکرٹنگ’ کو جرم قرار دے دیا اور اب جرم کرنے والے کو جیل اور جرمانے کی سزا سنائی جاسکے گی۔

’اپ اسکرٹنگ’ ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب کسی بھی شخص اور خصوصی طور پر خواتین کی رضا مندی کے بغیر ان کے جسم کے مخصوص حصوں کی تصاویر کھینچنا یا ویڈیوز بنانا ہے۔

مذکورہ اصطلاح کو سب سے زیادہ یورپی ممالک میں استعمال کیا جاتا ہے۔

’اپ اسکرٹنگ’ کی اصطلاح اگرچہ ابتدائی طور پر پُشت کے نچلے حصے اور نازیبا انداز میں ٹانگوں کی تصاویر یا ویڈیو بنانے کے لیے استعمال ہوتی تھی لیکن بعد ازاں اسے خواتین کے جسم کے دیگر حصوں کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا۔

’اپ اسکرٹنگ’ کی طرح خواتین کی چھاتی کے لیے’برسٹ لائن’ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے اور یہ اصطلاح بھی اس وقت ہی استعمال کی جاتی ہے جب کسی بھی شخص کی جانب سے مجرمانہ ذہنیت کے تحت خواتین کی خفیہ طور پر نیم عریاں حالت میں تصاویر اور ویڈیوز بنائی گئی ہوں۔

جرمنی، فرانس، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ سمیت یورپ کی متعدد خواتین ’اپ اسکرٹنگ’ کا شکار رہ چکی ہیں اور ان کی خفیہ طور پر نیم عریاں حالت میں ویڈیوز اور تصاویر بنا کر انہیں انٹرنیٹ پر وائرل کیا جا چکا ہے یا انہیں فروخت کرکے فحش ویب سائٹس پر ڈال دیا گیا ہے۔

یورپ کے متعدد ممالک میں سیڑھیوں، لفٹس، شاپنگ مالز سمیت دیگر تفریحی جگہوں پر انتہائی چھوٹے مگر طاقتور خفیہ کیمرے چھپائے گئے ہوتے ہیں جو اسکرٹ پہنی ہوئی چلتی خواتین کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بناتے ہیں۔

جرمنی سے قبل برطانیہ نے بھی گزشتہ برس کے آغاز میں ’اپ اسکرٹنگ’ کو جرم قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث مجرمان کو 2 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا کا قانون بنایا تھا۔

واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے فروری 2019 میں ’اپ اسکرٹنگ’ کو جرم قرار دیا تھا۔

متعدد یورپی ممالک میں سیڑھیوں میں خفیہ کیمرے نصب کیے جاتے ہیں تاکہ خواتین کی نازیبا تصاویر یا ویڈیوز بنائی جاسکیں—فوٹو: دی انڈیپینڈنٹ
متعدد یورپی ممالک میں سیڑھیوں میں خفیہ کیمرے نصب کیے جاتے ہیں تاکہ خواتین کی نازیبا تصاویر یا ویڈیوز بنائی جاسکیں—فوٹو: دی انڈیپینڈنٹ

جرمنی نے اب ’اپ اسکرٹنگ’ کو جرم قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث مجرم کو 2 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا منظور کرلی ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کے مطابق جرمنی کے ایوان زیریں نے 3 جولائی کو بھاری اکثریت سے طویل عرصے بعد ’اپ اسکرٹنگ’ کے مجوزہ قانون کی منظوری دے دی۔

’اپ اسکرٹنگ’ کے قانون کی منظوری کے باوجود خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کہا ہے کہ قانون منظور ہونے کے باوجود خواتین کے خلاف اس طرح کے گھناؤنے اور جنسی استحصال کے جرائم میں کمی کی امید نہیں ہے۔

نئے قانون کے مطابق خواتین کی مرضی کے بغیر ان کے جسم کے مخصوص حصوں کی نازیبا تصاویر یا ویڈیوز بنانے والے شخص کے خلاف مجرمانہ دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

’اپ اسکرٹنگ’ میں ملوث شخص کو بھاری جرمانے سمیت بیک وقت دو سال قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں جرمن پارلیمینٹ نے روڈ حادثات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کو بھی جرم قرار دینے کا قانون منظور کیا ہے، اب حادثات میں ہلاک افراد کی تصاویر یا ویڈیوز نہیں بنائی جا سکیں گی۔

یورپی ممالک میں اسکرٹ عام استعمال ہوتا ہے اور اسکول یونیفارم کا حصہ بھی ہے، اس وجہ سے خواتین کی ویڈیوز وہاں زیادہ بنائی جاتی ہیں—فوٹو: اسکائے نیوز
یورپی ممالک میں اسکرٹ عام استعمال ہوتا ہے اور اسکول یونیفارم کا حصہ بھی ہے، اس وجہ سے خواتین کی ویڈیوز وہاں زیادہ بنائی جاتی ہیں—فوٹو: اسکائے نیوز