سشانت سنگھ راجپوت خودکشی، سنجے لیلا بھنسالی کے اہم انکشافات

اپ ڈیٹ 06 جولائ 2020

ای میل

سنجے لیلا بھنسالی نے 6 جولائی کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا—فائلف وٹو: فیس بک
سنجے لیلا بھنسالی نے 6 جولائی کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا—فائلف وٹو: فیس بک

بولی وڈ اداکار 34 سالہ سشانت سنگھ راجپوت نے گزشتہ ماہ 14 جون کو اپنی رہائش گاہ پر ملازموں اور دوست کی موجودگی میں خودکشی کرلی تھی۔

اداکار کی خودکشی سے بھارت بھر میں غم کی لہر دوڑ گئی تھی اور بولی وڈ میں بھی ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا تھا۔

اگرچہ پولیس نے سشانت سنگھ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 15 جون کو بھی بتایا تھا کہ اداکار نے ممکنہ طور پر خودکشی کی تھی اور 25 جون کو اداکار کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی اداکار کی موت کا سبب خودکشی بتایا گیا تھا۔

تاہم پولیس نے ان کی اچانک خودکشی کے بعد ممکنہ طور پر ان کے قتل کی تفتیش شروع کردی تھی اور 5 جولائی تک پولیس نے 30 افراد کے بیانات ریکارڈ کرلیے تھے۔

پولیس تفتیش کے دوران یہ دیکھنا چاہ رہی ہے کہ وہ کیا عوامل تھے جن کی وجہ سے سشانت سنگھ راجپوت ڈپریشن کا شکار ہوئے اور وہ اتنے مجبور ہوگئے کہ انہوں نے اپنی زندگی ہی ختم کردی۔

یہ بھی پڑھیں: بولی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کرلی

اب تک پولیس نے سشانت سنگھ راجپوت کے ملازمین، ان کی سابق گرل فرینڈ اداکارہ ریا چکربورتی، فلم ساز مکیش چھابڑا سمیت 30 افراد کے بیانات ریکارڈ کر چکی ہے۔

اور 6 جولائی کو معروف فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروادیا۔

بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق سنجے لیلا بھنسالی نے اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے دوپہر ساڑھے 12 بجے اپنے کچھ عملے کے ساتھ پولیس تھانے پہنچے اور انہوں نے پولیس کے سوالوں کے جوابات دیے۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ فلم ساز نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے سشانت سنگھ راجپوت کو چند فلموں کی پیش کش کی تھی مگر وہ ان کے ساتھ کام نہ کر سکے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ فلم ساز کے مطابق بدقسمتی سے جب انہوں نے سشانت سنگھ راجپوت کو فلموں کی پیش کش کی تھی، اس وقت وہ کسی اور پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ بھی کام کر رہے تھے اور دوسرے پروڈکشن ہاؤس نے اداکار کو ان کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دی۔

اسی حوالے سے ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سنجے لیلا بھنسالی نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے سشانت سنگھ راجپوت کو 2016 کی فلم گلیوں کی راس لیلا- رام لیلا میں کام کرنے کی پیش کش کی تھی مگر بدقسمتی سے اس وقت اداکار دوسرے پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سنجے لیلا بھنسالی نے مجموعی طور پر سشانت سنگھ راجپوت کو 4 بڑی فلموں میں کام کرنے کی پیش کش کی تھی مگر دونوں نے ایک ساتھ کام نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: خودکشی کرنے والے سشانت سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جس وقت سنجے لیلا بھنسالی نے اداکار کو فلموں کی پیش کش کی، اس وقت اداکار دوسرے بڑے پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ ایک فلم میں کام کر رہے تھے اور اس پروڈکشن ہاؤس نے اداکار کو دوسروں کے ساتھ کام کرنے سے روک رکھا تھا، جس وجہ سے وہ سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ کام نہیں کر سکے۔

اسی رپورٹ کے حوالے سے ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جس وقت سنجے لیلا بھنسالی نے سشانت سنگھ راجپوت کو فلم میں کام کرنے کی پیش کش کی تھی، اس وقت اداکار یش راج فلمز کے ساتھ کام کر رہے تھے اور اس پروڈکشن ہاؤس نے اداکار کو دوسروں کے ساتھ کام کرنے سے روک رکھا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ییش راج فلمز نے جس فلم کے لیے سشانت سنگھ راجپوت کو کاسٹ کر رکھا تھا، بعد ازاں اس فلم کو ریلیز بھی نہیں کیا گیا۔

مذکورہ تفتیش کے سلسلے میں یش راج فلمز پہلے ہی پولیس کو سشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کی تفصیلات جمع کرا چکا ہے جب کہ پولیس نے یش راج فلمز کے ڈائریکٹر شیکھر کپور کو بھی بیان ریکارڈ کروانے کے لیے سمن جاری کر رکھا ہے۔

شیکھر کپور نے سشانت سنگھ راجپوت کی یش راج فلمز کے بینر تلے شوٹ کی گئی فلم پانی کی ہدایات دی تھیں، جسے بعد میں ریلیز بھی نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سشانت سنگھ راجپوت کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نئے انکشافات

سوشل میڈیا پر یہ افواہیں بھی چل رہی ہیں کہ یش راج فلمز نے سشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ فلم کا معاہدہ کرکے اسے ایک تو دوسروں کے ساتھ کام نہ کرنے کا پابند کردیا تھا اور دوسری جانب ان کا وقت ضائع کرکے ان کی فلم کو بھی ریلیز نہ کیا۔

یہ افواہیں بھی چل رہی ہیں کہ سنجے لیلا بھنسالی نے جن 4 فلموں کی پیش کش سشانت سنگھ راجپوت کو کی تھی، ان ہی فلموں میں بعد میں رنویر سنگھ کو کاسٹ کیا گیا اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ رنویر سنگھ نے بھی اس وقت یش راج فلمز کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا لیکن اس کے باوجود انہیں سنجے لیلا کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی گئی۔

تاہم اس حوالے سے پولیس نے واضح طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں پولیس تفتیش کے حوالے سے مکمل تفصیلات کا اعلان کرے گی۔