ایک آسان غذائی عادت ذیابیطس سے بچانے میں مددگار قرار

10 جولائ 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

ذیابیطس کو خاموش قاتل مرض کہا جاتا ہے کیونکہ یہ انسان کو اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کردیتا ہے اور متعدد جان لیوا پیچیدگیوں جیسے امراض قلب، گردوں کے امراض، بینائی متاثر ہونے اور دیگر کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

مگر روزمرہ کی زندگی میں ایک آسان عادت کو اپنا کر ذیابیطس ٹائپ ٹو 2 کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ زیادہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہونے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ذیابیطس کے لگ بھگ 10 ہزار جبکہ اس سے محفوظ 13 ہزار سے زائد افراد کے خون میں وٹامن سی اور کیروٹین کی مقدار کی جانچ پڑتال کی گئی۔

ان افراد کو ان کے خون کے حیاتیاتی نشانات یا بائیو مارکر کی سطح کے مطابق 5 گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔

سبزیاں اور پھلوں کو سب سے کم استعمال اوسطاً 274 گرام روزانہ کھانے والے افراد تھے جبکہ سب سے زیادہ 508 گرام مقدار کھانے والے افراد کا گروپ تھا۔

محققین نے دریافت کیا جو لوگ زیادہ پھلوں اور سبزیوں کا روزانہ غذا کا حصہ بناتے تھے ان میں ذیابیطس کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوگیا۔

اس کے مقابلے میں جو لوگ 508 گرام مقدار سے کم پھلوں اور سبزیوں کو اپنی روزانہ کی غذا کا حصہ بناتے تھے، ان میں بھی اس موذی مرض کے خطرے میں کمی دیکھی گئی۔

اس تحقیق کے نتائج برٹش میڈٰکل جرنل میں شائع ہوئے جس میں 8 یورپی ممالک کے رضاکاروں کو شامل کیا گیا تھا، جن کی عمریں 20 سے 79 سال کے درمیان تھیں۔

نتائج سے سابقہ اندازوں کی تصدیق ہوئی کہ طرز زندگی میں معمولی تبدیلیاں جیسے صحت بخش غذا کا استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ پھلوں اور سبزیوں کے اتعمال کے فوائد کے بارے میں عرصے سے بتایا جارہا ہے مگر ماضی میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کی روک تھام کے حوالے سے ان کے کردار پر یقینی رائے موجود نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ روزمرہ میں پھلوں اور سبزیوں کی مقدار میں معمولی اضافہ بھی ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ فائبر سے بھرپور پھلوں اور سبزیوں کا استعمال اس بیماری کا خطرہ کم کرتا ہے کیونکہ یہ دوران خون میں شکر کے جذب ہونے کی رفتار سست کرتا ہے، نظام ہاضمہ کی معاونت اور پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے کا احساس بڑھاتا ہے۔

متوازن اور صحت مند طرز زندگی موٹاپے کی روک تھام میں بھی مدد دیتا ہے جو ذیابیطس کا خطرہ بڑھانے والے بنیادی خطرہ ثابت ہوتا ہے۔