طویل عرصے بعد کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں کیا کچھ دلچسپ ہوا؟

اپ ڈیٹ 15 جولائ 2020

ای میل

اگر ہم محض 5 ماہ پیچھے جائیں تو یہ یاد کرنا مشکل نہیں کہ کس طرح کرکٹ بورڈز سخت شیڈول اور بہت زیادہ کھیل ہونے پر اپنے کھلاڑیوں کی فٹنس سے متعلق پریشان نظر آتے تھے، اور اسی زیادتی کی وجہ سے کئی ٹیموں نے کھلاڑیوں کو آرام دینے سے متعلق حکمت عملی پر عمل شروع کردیا تھا۔

یہ اسی شیڈول کی زیادتی تھی جس نے تینوں طرز کی کرکٹ کے لیے مختلف ٹیموں کا رجحان بھی پروان چڑھایا، تاکہ کھلاڑیوں کو آرام مل سکے اور وہ زیادہ بہتر کھیل پیش کرسکیں۔

لیکن پھر آمد ہوئی کورونا وائرس کی جس نے تو جیسے دنیا کا پورا نظام ہی تلپٹ کرکے رکھ دیا۔ سیاست سے معیشت اور کھیل سے سیاحت تک ہر شعبہ اس قدر بُری طرح متاثر ہوا کہ اب یہ اندازہ لگانا بھی مشکل ہے کہ اس وبا کے بعد دنیا کی نئی شکل کس طرح کی ہوگی۔

دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اب بھی کورونا وائرس سے روزانہ ہزاروں افراد متاثر ہو رہے ہیں لیکن یورپ کے متعدد ممالک میں اس بیماری کی شدت میں نمایاں کمی آئی ہے اور ان ممالک میں دیگر سرگرمیوں کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیاں بھی بحال ہو رہی ہیں۔

یورپ میں فٹبال کی مختلف لیگز بھی ایک طویل تعطل کے بعد شروع ہوچکی ہیں جبکہ کرکٹ کا کھیل بھی خوش قسمتی سے بحالی کے سفر کی جانب گامزن ہے۔

ویسٹ انڈیز اور پاکستان کی ٹیموں نے انگلینڈ کے دورے کی ہامی بھر کر بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی راہ ہموار کی اور اس سلسلے کا آغاز ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے مابین ساؤتھمپٹن کے مقام پر کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ سے ہوا جو 8 جولائی سے 12 جولائی تک کھیلا گیا جس میں حیران کن طور پر مہمان ویسٹ انڈیز نے کامیابی حاصل کرلی۔

شائقین سے خالی میدان میں کھیلے جانے والے اس ٹیسٹ میچ میں کچھ ایسے دلچسپ واقعات بھی ہوئے جو منفرد اور انوکھے تھے، اور شاید ماضی میں کبھی ایسا کرکٹ کے میدان میں نہیں دیکھا گیا۔ ایسے ہی چند دلچسپ عناصر قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

کرکٹ کی 117 روز بعد واپسی

19ویں صدی کے آخر میں جب ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز ہوا تو محدود ٹیمیں ہونے کی وجہ سے پورے سال بمشکل چند روز ہی بین الاقوامی کرکٹ کا انعقاد ہوا کرتا تھا۔

پھر جب ہوائی سفر کی سہولت میسر نہیں تھی یا بہت کم میسر تھی تو ان دنوں میں ٹیموں کو ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرنے کے لیے بحری جہاز پر سفر کرنا پڑتا تھا اور یہ مشکل سفری حالات بھی کرکٹ کے مقابلوں کے مسلسل انعقاد میں رکاوٹ تھے۔

لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف اس کھیل میں شرکت کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھتی گئی بلکہ سہولیات میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور یوں اس کھیل کی مصروفیات بڑھتی گئیں۔

غرض ان 3 فارمیٹ اور درجن بھر ٹیموں کی موجودگی میں سال بھر کا کرکٹ شیڈول مصروف ترین ہوگیا۔ سال میں شاید ہی کوئی ایسا حصہ ہوتا تھا جب کہیں کوئی سیریز نہیں کھیلی جارہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کرکٹ شائقین و ناظرین کی عادت اس قدر خراب ہوچکی تھی کہ بقول شخصے میچ دیکھے بغیر تو ان کا کھانا بھی ہضم نہیں ہوتا تھا۔

اس صورتحال میں کرکٹ کے مقابلوں کی 117 دن تک بندش کرکٹ کے چاہنے والوں کے لیے کس قدر مشکل اور تکلیف دہ عمل ہوگا اس کا بیان کم از کم الفاظ میں تو ممکن نہیں۔

اس لیے اب امید یہی ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کے بعد جلد ہی ایک روزہ اور ٹی20 کرکٹ بھی واپس آجائے گی۔

نسلی تعصب کا مسئلہ اجاگر کرنے کی کوشش

میچ شروع ہونے سے قبل انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ میں شامل افراد نے ایک گھٹنے پر بیٹھ کر Black Lives Matter مہم کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر سمیت مختلف کھلاڑیوں کا نسل پرستی کے خلاف احتجاج کے دوران ایک انداز — فوٹو: رائٹرز
ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر سمیت مختلف کھلاڑیوں کا نسل پرستی کے خلاف احتجاج کے دوران ایک انداز — فوٹو: رائٹرز

دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اور امپائرز سمیت گراؤنڈ میں موجود تمام افراد نے نسل پرستی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا— فوٹو: اے ایف پی
دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اور امپائرز سمیت گراؤنڈ میں موجود تمام افراد نے نسل پرستی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا— فوٹو: اے ایف پی

نسل پرستی کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے دونوں ٹیموں کے کالر پر 'بلیک لائیوز میٹر' لکھا ہوا ہے — فوٹو: اے ایف پی
نسل پرستی کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے دونوں ٹیموں کے کالر پر 'بلیک لائیوز میٹر' لکھا ہوا ہے — فوٹو: اے ایف پی

کپتانوں کا ٹاس کے بعد مصافحہ نہ کرنا

ساؤتھ ہیمپٹن ٹیسٹ میں ٹاس کے بعد ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے جب انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس سے مصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو بین اسٹوکس کچھ جھینپ سے گئے اور انہوں نے مصافحہ کرنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھانے کے بجائے اپنی کہنی جیسن ہولڈر کی طرف کردی۔

عام حالات میں تو بین اسٹوکس کی یہ حرکت خاصی معیوب سمجھی جاتی لیکن اس وقت دنیا ایسے حالات کا شکار ہے جہاں مصافحہ کرنے کی ہر مقام پر حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔

اس ٹیسٹ میچ کے لیے طے کیے گئے قواعد و ضوابط میں یہ بات شامل تھی کہ ٹاس کے بعد کپتان مصافحہ نہیں کریں گے۔ شاید جیسن ہولڈر یہ بات بھول گئے تھے جس کے سبب ٹاس کے بعد یہ دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی۔

کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے والوں کو خراج تحسین

انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلی جانے والی موجودہ ٹیسٹ سیریز کی ایک اور انفرادیت یہ ہے کہ اس ٹیسٹ سیریز کے دوران انگلینڈ کے کھلاڑی ٹریننگ سیشن کے دوران استعمال ہونے والی اپنی قمیضوں پر ان ڈاکٹروں، نرسوں اور اساتذہ کے نام لکھوا کر میچ کھیلیں گے جنہوں نے کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اس مقصد کے لیے جن لوگوں کے ناموں کا انتخاب کیا گیا تھا ان کا نام ان کے دوستوں اور خاندان کے افراد نے نامزد کیا تھا۔ ان اہم لوگوں میں ڈرہم کاؤنٹی کے ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر وکاس ورما ایک اہم نام تھا جن کا نام انگلینڈ کے ٹیسٹ میچ کے لیے نامزد کپتان بین اسٹوکس کی قمیض پر جسپاں تھا۔

اسی طرح اور بھی متعدد لوگوں کے نام انگلینڈ کی ٹیم میں موجود تمام ہی کھلاڑیوں کی ٹریننگ شرٹ پر چسپاں تھے۔ انگلینڈ نے جس انداز سے بیماری کا مقابلہ کرنے والے فرنٹ لائن ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کیا، وہ ایک قابلِ تحسین عمل ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ کرکٹ کھیلنے والے دیگر ممالک بھی اپنے ممالک کے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اس نوعیت کے منفرد اقدامات کریں گے۔

اظہارِ مسرت میں بخل

ویسٹ انذیز کے کھلاڑی جان کیمپ بیل نے جب ایک رن لے کر ویسٹ انڈیز کو اس تاریخی ٹیسٹ میچ میں فتح سے ہمکنار کیا تو دوسرے اینڈ پر موجود ان کے کپتان نے دُور دُور سے ہی جیت کا جشن منانے پر اکتفا کیا۔

اگر حالات درست ہوتے تو ہولڈر یقینی طور پر والہانہ انداز سے کیمپ بیل گو گلے لگا لیتے لیکن موجودہ حالات میں کھلاڑی جیت کا جشن منانے میں بھی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ ایسے ہی مناظر ویسٹ انڈیز کے ڈریسنگ روم میں بھی دیکھے گئے جہاں کھلاڑی اور ٹیم مینجمنٹ بہت احتیاط کے ساتھ اور سماجی فاصلے کی پابندی کو مدِنظر رکھتے ہوئے جیت کی خوشی منار ہے تھے۔

میچ کے اختتام پر ہونے والی منفرد تقریب

اس میچ کے اختتام پر ہونے والی تقریب بھی عام میچوں سے مختلف تھی۔ سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کی غرض سے کپتانوں اور مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کرنے والے شینن گیبریئل کے سامنے وسیع مائیک رکھ دیے گئے تھے اور انگلینڈ کے سابق کھلاڑی مائیکل ایتھرٹن میدان میں موجود ایک اسٹینڈ سے کھلاڑیوں سے سوال کر رہے تھے اور کھلاڑی اپنے سامنے موجود مائیک کی مدد سے ان کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔

مقامی امپائرز اور میچ ریفری کے ساتھ ٹیسٹ میچ

ایک طویل عرصے بعد کرکٹ کے شائقین نے ایسا ٹیسٹ میچ دیکھا جس میں دونوں امپائرز اور میچ ریفری کا تعلق میزبان ٹیم سے تھا۔ لیکن مہمان ٹیم کو کسی بھی ممکنہ جانبداری سے بچانے کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اس ٹیسٹ سیریز کے دوران دونوں ٹیموں کو ایک ایک اضافی ریویو دیا ہے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے اس سہولت کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اپنے خلاف دیے گئے 5 فیصلوں کو اپنے حق میں تبدیل کروالیا۔

کھیلوں خصوصاََ کرکٹ کی واپسی شائقین کے لیے ایک خوش آئند امر ہے۔ امید ہے طویل تعطل کے بعد شروع ہونے والے کرکٹ کے مقابلے اب بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں گے۔