صوبوں کے تحفظات کے باوجود مستقبل کے توانائی کے منصوبوں کو حتمی شکل دے دی گئی

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2020

ای میل

آئی جی سی ای پی کو بین الاقوامی قرض دینے والی ایجنسیوں اور کنسلٹنٹس کی جانب سے سافٹ ویئر پلیکسوز کی مدد سے حتمی شکل دی گئی ہے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
آئی جی سی ای پی کو بین الاقوامی قرض دینے والی ایجنسیوں اور کنسلٹنٹس کی جانب سے سافٹ ویئر پلیکسوز کی مدد سے حتمی شکل دی گئی ہے۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: صوبوں کی جانب سے ان کے طویل المدتی توانائی کے منصوبوں کو نظر انداز کرنے کی شکایت کے باوجود وفاقی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مستقبل کا توانائی منصوبہ کسی بھی بین الصوبائی تفرقہ کے بجائے استحکام پر مبنی ہوگا۔

یہ پورے دن جاری رہنے والے عوامی سماعت کا اختتام تھا جو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے انڈیکیشن جنریشن کیپیسٹیی ایکسپینشن پلان 47-2020 (آئی جی سی ای پی) پر منعقد کیا گیا تھا جس کی صدارت چیئرمین توصیف ایچ فاروقی نے کی۔

نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈیسپچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی جانب سے آئی جی سی ای پی کو بین الاقوامی قرض دینے والی ایجنسیز اور کنسلٹنٹس کی جانب سے سافٹ ویئر پلیکسوز کی مدد سے حتمی شکل دی گئی۔

آزاد کشمیر سمیت صوبائی حکومتوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ان کے مفادات کے ترجیحی منصوبوں کو اس منصوبے میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: کے الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی کے نرخ میں 2 روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان

سیکریٹری پاور عمر رسول نے کہا کہ 'آئی جی سی ای پی کو منصوبوں کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، ہر صوبے اور اسٹیک ہولڈر کے مسابقتی مفادات ہیں اور کسی کے لیے کچھ اور کسی کے لیے کچھ کے بجائے چند اصولوں کو طے کرنا پڑے گا۔

اس منصوبے میں 25 فیصد لوڈشیڈنگ اور 25 فیصد درآمد شدہ ایندھن (آر ایف او، امپورٹڈ کوئلہ اور آر ایل این جی) اور 75 فیصد دیسی وسائل (قابل تجدید جیسے ہائیڈرو، ایٹمی اور کراس بارڈر- کاسا) کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

2030 میں سسٹم کی نصب کردہ صلاحیت 2025 میں 76 ہزار 391 میگاواٹ سے بڑھ کر ایک لاکھ 5 ہزار 926 میگاواٹ ہوجائے گی۔

اس اضافے کی وجہ سے بہت سے پن بجلی اور ویری ایبل توانائی کے منصوبے اس ماڈل سے ہٹ گئے۔

اے آر ای پالیسی 2019 (2025 تک 20 فیصد اور 2030 تک 30 فیصد قابل تجدید توانائی کی صلاحیت) پر موجودہ معاہدے کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ غور کیا گیا ہے۔

بجلی کی خریداری کے معاہدوں کی شرائط کے مطابق بجلی گھروں کی ریٹائرمنٹ اور کے-الیکٹرک کو 2022 تک 650 میگاواٹ پر برآمد اور اس کے بعد ایک ہزار 150 میگاواٹ کا کام بھی شامل کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان نے شکایت کی کہ وہ آئی جی سی ای پی 2047 سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ ان کی حکومت کے تجویز کردہ ہائیڈل منصوبوں پر کوئی غور نہیں کیا گیا۔

سندھ کے وزیر توانائی امتیاز شیخ نے کہا کہ این ٹی ڈی سی نے ان کی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا تاہم انہوں نے منصوبے پر صوبے کو مدعو کرنے پر نیپرا کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی بحران: کے-الیکٹرک سسٹم اپ گریڈنگ میں ناکامی پر مسائل کا شکار ہے، وزارت توانائی

ان کا خیال تھا کہ سندھ حکومت کی تجویز کردہ 11 ہزار میگاواٹ بجلی کے 78 منصوبوں میں سے صرف 21 کو آئی جی سی ای پی میں شامل کیا گیا اور یہاں تک کہ انہوں نے مشترکہ مفادات کونسل میں اس معاملے کو اٹھانے کی دھمکی بھی دی۔

تاہم نیپرا کے چیئرمین نے انہیں یاد دلایا کہ ریگولیٹر کی ٹیم نے حکومت سندھ سے سفارشات حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی تھیں لیکن کوئی بھی معلومات شیئر کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

پنجاب پاور ڈیولپمنٹ بورڈ (پی پی ڈی بی) کے منیجنگ ڈائریکٹر سلمان نے بھی آئی جی سی ای پی پر یہ اعتراض اٹھایا کہ ان کے صوبے کے متعدد منصوبوں اور سفارشات بشمول تونسہ کے تجارتی کاموں کو بھی اس منصوبے میں درست طور پر شامل نہیں کیا گیا۔

ڈائریکٹر انرجی بلوچستان اشفاق احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کے بھیجے گئے قابل تجدید منصوبوں کو نظرانداز کردیا گیا۔

آزاد جموں و کشمیر کے نمائندے نوید گیلانی نے کہا کہ علاقے کے پختہ منصوبوں کو آئی جی سی ای پی میں شامل کرنا ہوگا۔

این ٹی ڈی سی کی ٹیم نے وضاحت کی کہ اس نے ٹائم لائنز کے تحت کام کیا اور جدید طریقہ کار کی منصوبہ بندی کے سافٹ ویئر پلیکسوز کو مختلف طریقوں سے مستقبل کی طلب جاننے کے لیے استعمال کیا۔