امریکا نے جرمنی میں تعینات فوجی دستوں میں کمی کا اعلان کردیا

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2020

ای میل

—فائل فوٹو: اے ایف پی
—فائل فوٹو: اے ایف پی

امریکا نے نیٹو کے رکن ملک جرمنی میں تعینات فوجی دستوں میں کمی کا اعلان کردیا۔

خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے اعلان کیا کہ امریکا، جرمنی میں اپنے 11 ہزار 900 فوجیوں کو کم کرکے انہیں اٹلی اور بلیجیئم منتقل کررہا ہے۔

مزیدپڑھیں: نیٹو میں شامل کچھ ممالک کی افواج کا عراق سے انخلا شروع

واضح رہے کہ واشنگٹن کی جانب سے مذکورہ فیصلہ نیٹو سے متعلق پالیسی میں بڑی تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ فوجیوں کی منتقلی کا عمل رواں ہفتے میں شروع ہوسکتا ہے۔

پینٹاگون اپنے 6 ہزار 400 فوجی اٹلی اور 5 ہزار 600 نیٹو کے دیگر رکن ممالک میں تعینات کرے گا۔

مارک ایسپر نے بتایا کہ جرمنی میں مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد وہاں مجموعی طور پر 24 ہزار امریکی فوجی ہوجائیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس منتقلی کا ایک اہم مقصد بحیرہ اسود کے قریب نیٹو کے جنوب مشرقی حصے کو تقویت دینا ہے۔

علاوہ ازیں سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کو بیلجیئم منتقل کرنے کا مقصد، نیٹو کمانڈ کے ساتھ ہم آہنگی کو بہتر بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے جلد 4 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا امکان

ان کا کہنا تھا کہ محدود تعداد میں امریکی فوجی پولینڈ اور بالٹک ریاستوں میں بھی روانہ کیے جائیں گے۔

مارک ایسپر نے کہا کہ 'یہ تبدیلیاں بلاشبہ روس کے خلاف امریکا اور نیٹو کی استعداد کار کو بڑھانے کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد نیٹو کو مضبوط بنانا، اتحادیوں کو یقین دلانا اور امریکی حکمت عملی میں لچک کو بہتر بنانا ہے۔

امریکی سیکریٹری دفاع نے کہا کہ اس اقدام سے جرمنی میں اہم اقتصادی اور تزویراتی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جہاں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے سیکڑوں امریکی فوجی تعینات ہیں۔

واضح رہے کہ چار جرمن ریاستوں کے رہنماؤں نے امریکی کانگریس سے فوج کی کمی کو روکنے پر زور دیا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ اس سے ماسکو کے خلاف بحر اوقیانوس سے متعلق قائم اتحاد کمزور ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: افغان فوجی کی نیٹو فوجیوں پر فائرنگ، ایک فوجی ہلاک

مارک ایسپر نے کہا کہ اس اقدام پر طویل بحث کی گئی تھی اور یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واشنگٹن اور برلن کے تعلقات سے ناخوشی کا نتیجہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحریہ کے خطے میں فوجیوں اور ایک لڑاکا جیٹ اسکواڈرن کا تبادلہ اور بکتر بند اسٹرائیکر یونٹس کی مزید گردش کا مرکز روس سے جنوب مشرقی یورپ کے ممکنہ خطرے پر مرکوز تھا، جس کے فوجی عزائم کو سن 2014 کے انضمام کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔

مارک ایسپر نے کہا کہ اس کا مقصد 'نیٹو کے جنوب مشرقی علاقوں کے ساتھ اتحاد کو بڑھانا اور ان کے اتحادیوں کو یقین دلانا ہے'۔