افغانستان سے جلد 4 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا امکان

16 دسمبر 2019

ای میل

افغانستان میں اس وقت 12 سے 13 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز
افغانستان میں اس وقت 12 سے 13 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز

واشنگٹن: امریکی حکام نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ ہفتے کے اوائل میں افغانستان سے 4 ہزار فوجیوں کے انخلا کے اعلان کا ارادہ رکھتی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ بات امریکی حکام نے این بی سی نیوز کو کہیں، تاہم دوسرے عہدیداروں نے سی این این کو بتایا کہ 'یہ انخلا طالبان کے لیے ایک یکطرفیہ رعایت ہوسکتی ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوجیوں کی کم موجودگی بڑی حد تک القاعدہ اور داعش خراساں جیسے گروپس کے خلاف انسداد دہشت گردی کے آپریشن پر توجہ مرکوز کرے گی۔

مزید پڑھیں: افغانستان: طالبان کا امریکی ملٹری بیس پر حملہ، 2 افراد ہلاک

تاہم حکام نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ممکنہ انخلا امریکی فوجیوں کی مقامی افغان فورسز کو تربیت اور مشورے کی صلاحیت کو 'کافی کم' کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت افغانستان میں امریکا کے 12 سے 13 ہزار فوجی موجود ہیں۔

این بی سی نیوز سے بات کرنے والے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ یہ ایک مرحلہ وار واپسی ہوگی جو کچھ مہینوں میں ہوگی تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس کا آغاز کب سے ہوگا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 کی صدارتی مہم کے دوران افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا وعدہ کیا تھا اور اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ اس عمل کے آغاز کے لیے متعدد کوششیں کرچکے ہیں۔

قبل ازیں گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی سیکریٹری آف ڈیفنس مارک اسپیر نے عوام سے کہا تھا کہ یہ انخلا تب بھی ہوگا اگر طالبان معاہدے کو حتمی شکل نہیں دیتے۔

اس کے علاوہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر کا کہنا تھا کہ وہ فورسز میں کمی کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایک سابق دفاعی عہدیدار کا کہنا تھا کہ انخلا کا اعلان 'طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کا حصہ' تھا، اس سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کو اجازت ملے گی کہ وہ طالبان پر زور دیں کہ دوطرفہ بات چیت کے عمل کا آغاز اسی جگہ سے کریں جہاں وہ چھوٹا تھا کہ امریکا اپنی فوج کا انخلا کرے گا اور طالبان جنگ بندی کا معاہدہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا، افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کا معترف

علاوہ ازیں نیویارک ٹائمز نے اس سے قبل اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ افغانستان میں امریکا کے بڑے اہداف میں سے ایک ہزاروں افغان فوجیوں کو تربیت دینا تھا اور اس ہدف کے حصول کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے گئے۔

تاہم نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ 'افغانستان میں نہ امریکی فورسز اور نہ اشرف غنی کے اعلیٰ مشیران کوئی نہیں سمجھتا کہ افغان عکسری فورسز ان کی مدد کرسکتے ہیں'۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ خاص طور پر افغان فورسز ہلاکتوں کی شرح میں اضافے اور کام میں پہلوتہی کرنے کا شکار ہے۔

یاد رہے کہ 2001 افغانستان میں جاری اس جنگ میں تقریباً ایک لاکھ 57 ہزار افراد کی ہلاکت نے بظاہر نہ ختم ہونے والی جنگ میں امریکا کو اپنے موقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور کردیا۔

اگر اعداد و شمار کو دیکھیں تو 18 سال سے جاری اس جنگ میں اب تک 64 ہزار 124 افغان سیکیورٹی فورسز، 43 ہزار 74 افغان شہری، 42 ہزار ایک سو طالبان اور دیگر جنگجو، 3 ہزار 814 امریکی ٹھیکے دار، 2 ہزار 300 امریکی فوجی اہلکار، ایک ہزار 145 نیٹو اور اتحادی فوجی، 424 انسانی امدادی کارکن اور 67 صحافی اور میڈیا ورکرز ہلاک ہوچکے ہیں۔