'بھارت جھوٹے دلائل،بےحسی کا مظاہرہ کرکے اپنے غیر قانونی اقدامات پر پردہ نہیں ڈال سکتا'

ای میل

ہم بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہیں، ترجمان — فائل فوٹو / ریڈیو پاکستان
ہم بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہیں، ترجمان — فائل فوٹو / ریڈیو پاکستان

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت جھوٹے دلائل اور بےحسی کا مظاہرہ کرکے اپنے غیر قانونی اقدامات پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔

پاکستان کے نئے سیاسی نقشے کے حوالے سے بھارتی بیان پر ردعمل میں دفتر خارجہ نے کہا کہ 'ہم پاکستان کے نئے سیاسی نقشے سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔'

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جھوٹی دلیل اور بےحسی کا مظاہرہ کرکے بھارت، 5 اگست 2019 سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے غیر قانونی اور ناقابل قبول اقدامات پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اس ملک کے لیے بے سروپا بات ہے جو زبردستی توسیع چاہتا ہو اور دھٹائی کے ساتھ ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتا ہو کہ وہ دوسروں پر الزامات لگائے۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیریوں کی امنگوں کی ترجمانی کرتا پاکستان کا نیا سرکاری نقشہ پیش

پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ — فوٹو: پی آئی ڈی
پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ — فوٹو: پی آئی ڈی

ترجمان نے کہا کہ بھارت، جموں و کشمیر کے حصوں پر 1947 سے غیر قانونی طور پر قابض ہے اور دہائیوں سے مسلسل اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 72 سال سے کشمیریوں پر ظلم و جبر کے باوجود بھارت انہیں ان کے مقصد سے پیچھے ہٹانے اور جھکنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اس حوالے سے پوزیشن بالکل واضح اور غیر مبہم ہے، تنازع کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کشمیریوں کو آزاد اور غیر جانبدار استصواب رائے کے ذریعے ان کا حق خود ارادیت دینا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ حکومت، قیادت اور پاکستان کے عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازع کشمیر کے حل کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جاری کیا جانے والا سیاسی نقشہ پرزور طریقے سے اس کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی طرف سے ملک کے نئے سیاسی نقشے پر ردعمل میں بھارت نے اسے 'مضحکہ خیز دعویٰ' قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس نقشے کی کوئی قانونی اور بین الاقوامی حیثیت نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے آئینی دہشت گردی کی، راجا فاروق

بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سیاسی بےہودگی ہے جس میں ریاست گجرات، مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کے حصوں کا ناقابل دفاع دعویٰ کیا گیا ہے۔'

قبل ازیں وفاقی کابینہ نے پاکستان کے نئے سرکاری نقشے کی منظوری دی تھی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت دیگر متنازع علاقے بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم دنیا کے سامنے پاکستان کا سیاسی نقشہ لے کر آرہے ہیں جو پاکستان کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ پاکستان اور کشمیر کے لوگوں کے اصولی مؤقف کی تائید کرتا ہے اور بھارت نے کشمیر میں پچھلے سال 5 اگست کو جو غاصبانہ اور غیرقانونی قدم اٹھایا تھا اس کی نفی کرتا ہے'۔

وزیراعظم نے کہا کہ 'آج سے سارے پاکستان میں پاکستان کا سرکاری نقشہ وہی ہوگا جس کو آج وفاقی کابینہ نے منظور کیا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ ' اسکولوں، کالجوں اور عالمی سطح پر اب پاکستان کا یہ نقشہ ہوگا'۔