بلوچستان: مستونگ میں دھماکا، خاتون سمیت 3 افراد زخمی

اپ ڈیٹ 13 اگست 2020
—فائل/فوٹو:ڈان
—فائل/فوٹو:ڈان

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں سرکاری اسکول کے باہر دھماکے میں ایک خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ مستونگ بازار میں ایک سرکاری اسکول کے باہر نامعلوم افراد نے ایک ریڑھی میں بم نصب کیا تھا۔

مزید پڑھیں:کوئٹہ: دستی بم حملے میں بچی جاں بحق، 6 افراد زخمی

ان کا کہنا تھا کہ بم کا دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

خیال رہے کہ مستونگ میں دھماکے سے ایک روز قبل کوئٹہ میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جہاں ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔

گزشتہ روز کوئٹہ کے بریوری روڈ پر نامعلوم ملزمان نے دستی بم پھینکا تھا، جس کے دھماکے کی زد میں آکر ایک بچی جاں بحق ہوئی تھی اور 6 افراد زخمی ہوئے تھے۔

دھماکے کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ملزمان نے بریوری روڈ پر ایک دکان کے پاس دستی بم پھینکا تھا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی تھی۔

واضح رہے کہ 4 روز قبل ہی چمن کے مال روڈ پر دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس افسر محمد محسن نے بتایا تھا کہ نامعلوم شرپسندوں نے سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل میں دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ میں خود کش دھماکا، 8 افراد جاں بحق

اسسٹنٹ کمشنر ذکا اللہ درانی نے کہا تھا کہ دھماکے میں انسداد منشیات کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ بلوچستان گزشتہ کچھ عرصے سے بدامنی کا شکار ہے، جس کے پیچھے بیرون دشمنوں کا ہاتھ ہونے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے۔

گزشتہ ماہ بلوچستان کے شہر تربت کے بازار میں دھماکے کے نتیجے میں ایک فرد جاں بحق جبکہ 7 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے قبل مئی کے مہینے میں بلوچستان میں ایک بم دھماکے اور عسکریت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک جونیئر کمیشنڈ افسر سمیت 7 جوان شہید ہوگئے تھے۔

اپریل کے مہینے میں قلعہ عبداللہ کے علاقے ٹوبہ اچکزئی میں ایک دھماکے کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید اور 2 زخمی ہوگئے تھے۔

رواں سال مارچ میں چمن کی لیویز لائن میں موٹر سائیکل بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

قبل ازیں 18 فروری کو کوئٹہ میں پریس کلب کے قریب احتجاج کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق اور 20زخمی ہوگئے تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں