دوسال میں 363 ارب روپے سے زائد قومی خزانے میں جمع کرائے، نیب

ای میل

نیب نے دوسالہ کارکردگی پر مبنی اعلامیہ جاری کردیا—فائل/فوٹو:ڈان نیوز
نیب نے دوسالہ کارکردگی پر مبنی اعلامیہ جاری کردیا—فائل/فوٹو:ڈان نیوز

قومی احتساب بیورو (نیب) نے دو سال کی کارکردگی جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں کئی برسوں سے زیر التوا مقدمات کو نمٹایا گیا اور دو سال 363 ارب روپے سے زائد قومی خزانے میں جمع کیے گئے۔

نیب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'گزشتہ دو سال کے دوران 363.918 ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں'۔

بیان میں کہا گیا کہ 'نیب کو آگاہی، تدارک اور انفورسمنٹ کی پالیسی پر عمل کر تے ہوئے ملک سے بد عنوانی کے خاتمے کا اختیار دیاگیا ہے اور ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مؤثر اور فعال اقدامات کر رہا ہے'۔

مزید پڑھیں:پیراگون سٹی کیس: ’نیب ملک و قوم کی خدمت کے بجائے اسے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہے‘

کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 'نیب انسداد بدعنوانی، فنڈز میں خرد برد، اختیارات سے تجاوز، بینک نادہندگی اور بڑے پیمانے پر عوام کے ساتھ دھوکا دہی کے مقدمات پر توجہ مرکوز رکھتا ہے'۔

مزید کہا گیا کہ گزشتہ دو برس میں نیب کی کارکردگی اور استعداد کار میں بہتری لائی گئی ہے، زیر التوا مقدمات کو نمٹایا گیا اور سیاسی اثر و رسوخ سے بالا تر ہو کر بلا امتیاز احتساب کے لیے کوشاں ہے'۔

نیب کا کہنا تھا کہ 'کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوشن کا نظام وضع کیا گیا ہے اور مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری اور انویسٹی گیشن کے لیے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیا گیا ہے'۔

بیان میں کہا گیا کہ 'ملزمان کی گرفتاری کی صورت میں شکایات کو مکمل کرنے اور بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کے لیے 90 روز کا وقت مقرر کیا گیا ہے'۔

دوسالہ کارکردگی سے متعلق بیان میں کہا گیا کہ 'سینئر افسران کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے لیے ڈائریکٹر جنرل، ایڈیشنل ڈائریکٹرز اور ڈائریکٹرز پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا گیا اور مشاورت سے فیصلہ سازی کے لیے ایگزیکٹو بورڈ اور ریجنل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے'۔

نیب سے متعلق شکایات کے لیے کہا گیا کہ 'ادارہ جاتی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے مقداری اور معیاری گریڈنگ کا نظام وضع کیا گیا ہے اور شکایات کے اندراج پر مخصوص شناخت نمبر جاری کیا جا رہا ہے'۔

کیسز کی تفصیلات سے آگاہ کرتے بتایا گیا کہ 'نیب کو گزشتہ 2 سال کے دوران 75 ہزار 268 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 66 ہزار 838 کو نمٹایا گیا ہے، 2 ہزار 417 شکایات پر کارروائی کی منظوری دی گئی ہے جبکہ 2 ہزار 36 مکمل کی گئی ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں:کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ذمہ دار نیب ہے، سپریم کورٹ

نیب کا کہنا تھا کہ 'گزشتہ 2 سال کے دوران نیب نے 1240 انکوائریوں کی منظوری دی اور ایک ہزار 220 مکمل کی گئیں، اسی عرصے میں 432 انوسیٹی گیشنز کی منظوری دی گئی اور 415 مکمل ہوئیں۔

کیسز کے اندراج سے متعلق قومی ادارے کا کہنا تھا کہ 'نیب نے 332 بدعنوانی کے ریفرنسز دائر کیے اور 270 کا فیصلہ ہوا ہے'۔

قومی خزانے میں جمع ہونے والی رقم کے حوالے سے نیب نے دعویٰ کیا کہ 'نیب نے گزشتہ 2 سال کے دوران بلاواسطہ طور پر 28 ارب 10 کروڑ اور 80 لاکھ روپے جبکہ بالواسطہ طور پر 335.810 ارب روپے بد عنوان عناصر سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں'۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی پیراگون سٹی کرپشن کیس میں ضمانت کا فیصلہ سناتے ہوئے نیب طرز عمل کو قانون، عدل، انصاف اور معقولیت کی مکمل خلاف ورزی کا واضح اظہار قرار دے دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں جسٹس مقبول باقر نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ نیب کو سیاسی انجینیئرنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور اس کا امتیازی سلوک بھی اس کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے جس کی وجہ اس کی صداقت اور غیرجانب داری پر لوگوں کے یقین کو دھچکا لگا ہے۔

فیصلے میں انہوں نے کہا تھا کہ ’بیورو بڑے مالیاتی گھپلوں کی صورت میں بھی ایک جانب کے افراد کے خلاف کارروائی سے گریزاں نظر آتا ہے جبکہ دوسری جانب لوگوں کو بغیر کوئی واضح وجہ بتائے مہینوں اور سالوں کے لیے گرفتار کرلیا جاتا ہے جبکہ قانون کے تحت تفتیش تیزی سے اور ٹرائل 3 روز میں مکمل ہوجانا چاہیے'۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ 'مذکورہ بالا یقیناً قومی مفاد کی خدمت نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے ملک، قوم اور معاشرے کو متعدد طریقوں سے ناقابل تلافی نقصان پہنچارہا ہے'۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ کا 120 احتساب عدالتوں کے قیام کیلئے سیکریٹری قانون کو حکومت سے ہدایت لینے کا حکم

بعد ازاں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاکھڑا پاور پلانٹ کی تعمیر میں بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران نیب کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ذمہ دار نیب ہے۔

سپریم کورٹ نے 23 جولائی کو زیرالتوا کیسز کے فوری فیصلوں کے لیے کم ازکم 120 احتساب عدالتیں قائم کرنے کے لیے سیکریٹری قانون کو حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے سال 2000 سے 1226 ریفرنسز کے زیرالتوا ہونے سمیت مجموعی طور پر 25 میں سے 5 احتساب عدالتوں میں خالی اسامیوں پر مایوسی کا اظہار کے بعد نئی عدالتوں کے قیام کی ہدایت کی تھی۔