حکومت مخالف اپوزیشن کی تحریک میں اصل ’رسک‘ کیا ہے؟

18 اکتوبر 2020

ای میل

سیاست ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں جمہوریت سے مراد فقط وزیرِاعظم، کارکردگی سے مراد فقط احتساب اور سیاست سے مراد فقط تحاریک ہیں۔

ہم 12 اکتوبر کے ایک تلخ باب سے گزر چکے ہیں جب وزیرِاعظم ہاؤس کو فتح کرکے ملک کے منتخب وزیرِاعظم کو بے دخل کیا گیا۔ لیکن کیا ایسے سیاہ دن مستقبل کی تاریخ سے ہمیشہ کے لیے حذف ہوسکتے ہیں؟ اہل جمہور کا ایک فرد بھی یہ دعوے سے نہیں کہہ سکتا۔

آج بھی ہمارے پاس ایک دلیل یہ ہے کہ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت برطرف ہوئی تو اس وقت ساری اپوزیشن جعلی مقدمات کا سامنا کر رہی تھی، میڈیا پر بدترین وقت تھا اور نواز شریف کو امیرالمومنین بنانے کے منصوبے پر کام ہو رہا تھا۔ یہ دلیل اس حکومت کے وفاقی وزیر کی ہے جسے خود انتقام کی سیاست، صحافتی پابندیوں اور آئی ایم ڈیموکریسی جیسی خود فریبی کا سامنا ہے۔

سیاست کا اختصار یہ ہے کہ کچھ نہیں بدلا۔ 99ء کے وزیرِاعظم کو یہ زعم تھا کہ وہ جب چاہے، کسی جرنیل کو درخت پر ٹانگ دے، کب ملک کی عدالت پر ہوا بول دے، کب کسی جج کو الٹا لٹکا دے، وہی چائینہ شاپ کا واحد بل ہے اور 2020ء کے وزیرِاعظم کو بھی یہی زعم ہے کہ اگر کارگل پر کوئی آرمی چیف ان کی اجازت کے بغیر حملہ کرتا تو وہ اسے فارغ کردیتے اور اگر کوئی ان سے استعفے کا مطالبہ کرتا تو وہ اسے گھر بھیج دیتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے وزرائے اعظم کا فقط یہ زعم ہی ہے۔ سر آئینہ حقیقت یہ ہے کہ کل کے وزیرِاعظم کو بھی ثالثی کے لیے مدد لینی پڑی اور آج کے وزیرِاعظم کو بھی کرپشن کے بیانے کو جواز بنانے کے لیے کہنا پڑا کہ آئی ایس آئی کو بھی معلوم ہے کہ کس نے اور کیسے پیسہ باہر بھیجا لیکن جیسے ہی پیزا کے کاروبار کا ذکر ہوا تو کلین چٹ کے ساتھ استعفی بھی نامنظور ہوا۔

وزیرِاعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ تو دے دیا لیکن اس کے باوجود اپوزیشن کی تمام تر تقاریر، تنقید اور تحقیر کا نشانہ عاصم باجوہ صاحب ہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جس طرح احتساب کا پھندہ ان کی گردن میں لٹکایا گیا ہے، یہی طوق سابق ڈی جی آئی ایس پی آر کے گلے میں کیوں نہیں نظر آتا؟ میاں صاحب تو سیاست کے لیے نااہل ہیں لیکن باجوہ صاحب چیئرمین سی پیک اتھارٹی کی کرسی پر کیوں براجمان ہیں؟

1998ء میں بے نظیر بھٹو نے اس وقت کے وزیرِاعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف پاکستان عوامی اتحاد کے پلیٹ فارم سے گوجرانوالہ میں شیرانوالہ باغ جلسے سے خطاب کیا تھا۔ اس جلسے میں نعرہ ’گو نواز گو‘ تھا، لیکن اب 22 سال بعد یعنی 2020ء میں جب پیپلز پارٹی گوجرانوالہ کے عوام سے مخاطب ہے تو اب کی بار اس کا نعرہ ’گو عمران گو‘ ہے اور پلیٹ فارم پاکستان ڈیموکریٹ الائنس (پی ڈی ایم) ہے۔ سیاست کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اہل جمہور کل بھی جمہوریت بچانے کے لیے جمہوری حکومت کو سینگوں پر اچھالنے کی مشق کر رہے تھے اور آج بھی ایک منتخب وزیرِاعظم کو سلیکٹڈ کی سند دے کر جمہوریت فتح کرنا چاہتے ہیں۔

زخم خوردہ جمہور کا گِلہ بجا ہے کہ آمروں نے وزرائے اعظم کو جمہوریت کے چوراہے پر کھڑا کرکے ذبح کردیا، مگر مدینہ مزاج جمہور کو اپنی زندگیاں کوفے میں کاٹنے کا گِلہ کرنے والوں سے عرض ہے کہ سانپ سیڑھی کے اس کھیل میں خود جمہور کا حصہ کتنا ہے؟

پی ڈی ایم کے اکھاڑے میں اترنے والی تمام جماعتیں گوکہ اپنی طرز اور اپنی ہیئت میں ایک دوسرے سے 180ء ڈگری کا اختلاف رکھتی ہیں مگر پی ڈی ایم کے جلسے میں شانہ بشانہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں۔ سیاسی شعبدہ گری کا یہ کھیل اپوزیشن اور حکومت دونوں کے لیے برابر مہلک ہے۔

حکومت نے اپوزیشن کے لیے پل صراط کا اہتمام کیا اور احتساب کی لاٹھی سے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کو ہانکنے کی کوشش کی۔ گوکہ ایک وقت تھا جب بڑی سرکار نے نکتہ اعتراض اٹھایا تھا کہ دونوں جماعتوں کو ایک ہی وقت میں اپنے سینگوں پر سوار کرنے کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوسکتا ہے، مگر خان صاحب تو خان صاحب ہیں، انہیں یہ خام خیالی لے ڈوبی کہ ملکی دولت لوٹنے والوں کو احتساب کے بیانے میں جکڑ دیں گے تو سیاست میں بلے بلے بھی ہوجائے گی اور ڈوبتی معیشت پر سوال بھی نہیں اٹھیں گے۔

خان صاحب نے ’این آر او نہیں دوں گا‘ کے اس خیالی بیانے میں اپنا سب کچھ قربان کردیا، یعنی منتخب وزیرِاعظم کو بمشکل ملنے والا وقت، عوام کا روزگار، ملکی معیشت، حکومت کی درست سمت، درست ترجیہات، بحرانوں کا حل، حتیٰ کے مفلس کی 2 وقت کی روٹی بھی۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ وزیرِاعظم نے اپنا بیانیہ بھی قربان کردیا، لیکن ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا۔ حکومت کے سر پر ہاتھ رکھنے والے بڑی آسانی سے نااہل بلڈی سویلین کہہ کر علیحدہ ہوسکتے ہیں اور رہا اپوزیشن کا معاملہ تو ان کے کھیل میں رسک اس سے بھی زیادہ ہے۔ جلسے، احتجاج اور عوام کا ہجوم لے کر وہ سیاست کے آسمان تک پہنچ بھی گئے تو عین ممکن ہے کہ اس کھیل میں موجود تیسرا کھلاڑی اگر ان کے پاؤں کے نیچے سے سیڑھی کھینچ لے تو یہاں بھی کچھ نہیں آئے گا۔

پاکستان نیشنل الائنس، اسلامی جمہوری اتحاد، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے ملک گیر احتجاجی مظاہروں، ریلیوں اور جلسوں کا حاصل کیا تھا؟ بدقسمتی سے سیاست میں اس تیسرے کھلاڑی کو بھی با رضا شامل کیا گیا جس نے ہر بار سیاست میں نقب لگائے۔

گزشتہ روز پی ڈی ایم جلسے میں اس تیسرے کھلاڑی کا ذکر ہوا اور ببانگ دہل ہوا۔ ‏نواز شریف صاحب کُھل کے بولے۔ انہوں نے جنرل باجوہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ مگر یہ پچھلے ہی برس کی بات ہے کہ میاں صاحب نے باجوہ صاحب کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ میاں صاحب کو یہ الزامات تب کیوں یاد نہ آئے؟

میں نے یہاں اہلِ سیاست کے زعم کا ذکر کیا ہے مگر یہاں کوئی اور بھی زعم میں مبتلا ہے۔ وہ زعم یہ ہے کہ اگر کھیل بگڑا تو پگڑیاں صرف جمہور کی اچھلیں گی اور وہ تو محب الوطنی کے ثواب خیر میں بخشے جائیں گے، مگر ایک زخمی شیر نے ایک بار پھر سبھی اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتخابات انہوں نے کروائے، حکومت انہوں نے بنائی، ججوں نے انہی کی ایما پر فیصلے دیے، اس لیے وہی ذمہ دار ہیں اور انہیں اس کا جواب دینا ہوگا۔

اس جلسے کو اگر سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو اپوزیشن کی 2 بڑی جماعتوں نے اپنی سیاست کو بہت حد تک زندہ کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنی سیاست کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالی، جیالیوں کو متحرک کیا اور شہباز شریف کی عدم موجودگی میں بلاول بھٹو اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرتے نظر آئے۔ پھر وزیرِاعظم بلاول بھٹو کے نعرے بھی گونجے، یوں محسوس ہوا جیسے بلاول بھٹو اس قلعے کو فتح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا تاج کسی اور کے سر کے لیے ہے۔

ماضی میں اے آر ڈی کی تحریک کے چیئرمین گوکہ نوابزادہ نصراللہ خان تھے، مگر تحریک کا چہرہ کلثوم نواز بنی اور آج پی ڈی ایم کا چہرہ مریم نواز ہیں۔ اس جلسے میں ایک واضع فرق محسوس ہوا۔ میاں صاحب تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف برسے اور خوب برسے لیکن دونوں جماعتوں کے سیاسی جانشینوں کا لہجہ بہت نرم تھا۔ ممکن ہے میاں صاحب اپنی سیاست کی کشتیاں جلاکر جانشین کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ کے سینئر رہنما نے ایک بار ہمارے پروگرام میں کہا تھا کہ ان بھاری پتھروں ’اسٹیبلشمنٹ' کو اٹھانے کی ابھی ہم میں سکت نہیں ہے، میاں صاحب نے ان بھاری پتھروں کو اپنے ‘بیمار’ کندھوں پر تنھا اٹھانے کی ذمہ داری لی ہے۔ اب یہ میاں صاحب کا زعم ہے یا پھر سیاسی جرأت، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

فی الحال یہ بات واضح ہے کہ پی ڈی ایم نے مفاہمت سے متعلق شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے بیانے کو خاک چٹا کر جارحانہ اور کھلی جنگ کی حکمتِ عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ جنگ جلسوں اور ریلیوں سے ہوتی ہوئی ڈی چوک تک جائے گی اور پھر اپوزیشن کے استعفوں پر ختم ہو، مگر اس جنگ میں رسک بلا کا ہے اور وہ رسک تیسرے کھلاڑی کی انٹری کا اور وزیرِاعظم ہاؤس کو اہل سیاست سے پہلے فتح کرنے کا ہے۔