کیا آپ کا بچہ بھی گیمنگ کے نشے کا شکار ہے؟

24 نومبر 2020

ای میل

گیمنگ ڈس آرڈر کو سمجھنا عام والدین کے لیے مشکل ہے—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
گیمنگ ڈس آرڈر کو سمجھنا عام والدین کے لیے مشکل ہے—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

جن والدین کے بچے بہت زیادہ ڈیجیٹل یا ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں آپ نے اکثر ایسے والدین کو بچوں کی شکایات کرتے ہوئے سنا ہوگا اور ایسے والدین ویڈیو گیمز کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ 'آہستہ آہستہ' ہمارے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے لیکن اس الزامی بیانیے میں والدین اپنا کردار اور بچوں کے زیادہ گیمنگ کھیلنے کی وجوہات عموما طور پر نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں۔

بچوں کی جانب سے زیادہ وقت گیمز کھیلے جانے سے متعلق کی جانے والی چند تحقیقات کے مطابق اس بات کا خدشہ ہوتا ہے کہ حد سے زیادہ ویڈیو گیمنگ کرنے والے بچے، گیمنگ ڈس آرڈر یا گیمنگ کے نشے کا شکار ہوسکتے ہیں۔

تاہم زیادہ تر والدین گیمنگ ڈس آرڈر یا گیم کے نشے کا شکار ہونے کی اصطلاح کو درست نہیں سمجھ پاتے، اس لیے ہم سب سے پہلے اس اصطلاح کو سمجھیں گے، اس کے بعد آگے بڑھیں گے۔

گیمنگ ڈس آرڈر یا گیم کے نشے کا شکار ہوجانا کیا ہے؟

گیمنگ ڈس آرڈر سے بچوں کو بچانے کے لیے والدین کو متحرک ہونا پڑے گا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
گیمنگ ڈس آرڈر سے بچوں کو بچانے کے لیے والدین کو متحرک ہونا پڑے گا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

عالمی ادارہ صحت کے مطابق گیمنگ ڈس آرڈر ایک نفسیاتی بیماری ہے, اس سے مراد گیمنگ، آن لائن یا آف لائن، کا بچے کے رویے پر اتنا اثر انداز ہو جانا ہے کہ وہ گیم کھیلنے اور زندگی کے دیگر شعبوں میں توازن نہ برقرار رکھ پائے ۔

اس کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ بچہ منفی نتائج کا سامنا کرنے اور مشکلات کا شکار ہونے کے باوجود گیمز کو چھوڑ نہ پا رہا ہو۔

لیکن بچوں میں پائے جانے والے اس رویے کو خصوصی توجہ کے ساتھ مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں بچوں کے رویوں سمیت ان کی معمولات زندگی کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کو موبائل و کمپیوٹر آلات سے دور رکھنے کے طاقتور طریقے

والدین اس ضمن میں درج ذیل ہدایات پر عمل کرکے بھی بچے کی بہتر مانیٹرنگ کر سکتے ہیں۔

گیمنگ کا دورانیہ بڑھنے کی بڑی وجوہات

یہاں یہ بات سمجھنے کی بہت ضرورت ہے کہ زیادہ دیر گیمز کھیلنے والا ہر بچہ اس ڈس آرڈر کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس کی چند دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جنہیں سمجھنے اور اس کے مطابق بچے کو گیمز سے دور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

تفریح

ایک بنیادی وجہ صرف اور صرف یہ سوچ ہوتی ہے کہ ' ویڈیو گیمز ہیں تو مزہ ہے۔' ویڈیو گیمز بچوں کو ذہنی آزمائش سے گزارتی ہیں، نت نئی اورحیرت انگیز دنیا دکھاتی،ایک دوسرے سے مقابلہ کرواتی اور مختلف صلاحیتیں بھی پیدا کرتی ہیں، تاہم ساتھ ہی اس کے حد سے زیادہ استعمال سے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔

دوستوں سے جڑے رہنے کا ذریعہ

ویڈیو گیمزاپنے دوستوں سے جڑے رہنے کا ایک زبردست ذریعہ بھی ہیں، خصوصاً جب بچے کے دوست دور دور رہائش رکھتے ہوں۔

ایک بچے کے والدین نے 'کال آف ڈیوٹی' جیسی قتل و غارت والی گیم کھیلنے والے اپنے بیٹے سے جب بہت زیادہ گیمنگ کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ میرے تمام پرانے دوست اسکول کے بعد اس گیمنگ پلیٹ فارم پر موجود ہوتے ہیں، ہم ساتھ کھیلتے اور بات چیت کرتے ہیں۔ بڑھتی عمر کے بچے خصوصی طور پر اس وجہ سے بہت زیادہ گیمنگ کی جانب متوجہ ہو سکتے ہیں۔

بچوں کو ڈیجیٹل آلات پر گیم کھیلنے کے بجائے جسمانی کھیل کھیلنے کی ترغیب دی جائے—فائل فوٹو: ایکٹو کڈ
بچوں کو ڈیجیٹل آلات پر گیم کھیلنے کے بجائے جسمانی کھیل کھیلنے کی ترغیب دی جائے—فائل فوٹو: ایکٹو کڈ

ڈپریشن

سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو ڈپریشن دراصل اس حالت یا کیفیت کا نام ہے جس میں انسان کسی توانائی اور تحریک سے محروم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ مستقل طور پر اداس یا غم زدہ رہتا ہے۔

ان لوگوں کے لیے بستر سے نکلنا تک مشکل ہوتا ہے، اسی طرح کام کے لیے جانا، ہوم ورک کرنا یا لوگوں سے ملنا بھی ڈپریشن کے افراد کے لئے چوٹی سر کرنے کے برابر ہوتا ہے کیونکہ ایسے افراد اپنی ذہنی توانائی خرچ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

لیکن یہ افراد گیمنگ کے لیے آسانی سے تیار ہو جاتے ہیں کیونکہ اس کے لیے انہیں ذہنی توانائی کو جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس یہ انہیں حقیقت سے دور کر کے گیمنگ کی تصوراتی دنیا میں لے جاتی ہے۔

دیگر ذہنی ایشوز

نفسیات کی تحقیقات کے مطابق دیگر ذہنی بیماریاں جیسے سوشل اینزائٹی (جس میں انسان مستقل اور غیر حقیقی طور پر سماجی تقریبات اور عوامی جگہوں پر جانے سے خوف محسوس کرتا ہے)

مزید پڑھیں: موبائل اسکرین کے بچوں کی صحت پر پڑنے والے اثرات اور ان سے بچنے کے طریقے

اے ڈی ایچ ڈی (ADHD) یعنی جس میں انسان کسی ایک چیز پر زیادہ دیر تک فوکس نہیں کر پاتا اور آٹزم (جس میں بات چیت میں دشواری، ایک ہی رویے کو بار بار کرتے جانا، نظم و ضبط پر غیر فطری دھیان اور انتہائی حساس ہونا شامل ہے) کے شکار افراد بھی ڈیجیٹل اور ویڈیو گیمنگ پر دگنا یا اس سے بھی زیادہ وقت گزار سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا باتوں کو پڑھنے اور یاد رکھنے کے بعد عام افراد کے ذہن میں ایک عام سوال پیدا ہوتا ہے تو پھر بچوں کے لیے گیمنگ کا دورانیہ کتنا ہونا چاہیے؟

گیمنگ کا دورانیہ کتنا ہو؟

بہترین اور آئیڈیل معاملہ تو یہی ہے کہ بچے ویڈیو گیمز نہ کھیلیں یا بس ہفتے، مہینے میں کبھی کبھار انہیں گیم کھیلنے کی اجازت دی جائے، تاہم حقیقی دنیا میں والدین کے لیے یہ سب کرنا کافی مشکل بلکہ ناممکن ہوتا جارہا ہے۔

ویڈیو گیمز کے حوالے سے باقاعدہ دورانیہ ابھی تک کسی عالمی تنظیم کی جانب سے نہیں آیا، تاہم ہر معاملے کی طرف یہاں بھی 'اعتدال' کا عنصر سب سے اہم ہے۔

اسکرین پر 3 گھنٹے سے زیادہ ٹائم گزارنا بچوں کے لیے نقصان کار ہے—فائل فوٹو: کڈز اسکرین
اسکرین پر 3 گھنٹے سے زیادہ ٹائم گزارنا بچوں کے لیے نقصان کار ہے—فائل فوٹو: کڈز اسکرین

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ایک سے تین گھنٹے، گیمنگ کے استعمال کا کوئی واضح نقصان سامنے نہیں آیا، تاہم ایسے بچے جو 3 گھنٹے سے زائد موبائل، کنسول یا آن لائن گیمنگ میں مصروف رہتے ہیں انہیں اداسی، بہت زیادہ تحرک، فوکس نہ ہونےاور دیگر بچوں سے تعلقات میں دشواری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

گیمنگ ڈس آرڈر کو کیسے کم کیا جائے؟

اس حوالے سے سب سے اہم بات اس بات کو اچھی طرح جاننا ہے کہ بچہ گیمنگ ڈس آرڈر کا شکار کیوں ہے یا گھنٹوں تک ویڈیو گیمز سے کیوں چمٹا رہتا ہے؟ آیا یہ دوستوں سے رابطے میں رہنے کی وجہ سے ہے یا اس کے پیچھے کوئی ذہنی مسئلہ کار فرما ہے؟

ایک دفعہ اس چیز کی نشاندہی ہو جائے تو اس ڈس آرڈر کا علاج یا بہت زیادہ گیمنگ کی عادت کو بہتر طریقے سے قابو کیا جاسکتا ہے یا پھر گیمنگ ڈس آرڈر یا گیمنگ کے نقصان دہ استعمال کو بتدریج کم کیا جاسکتا ہے۔

بچوں کو گیمنگ ڈس آرڈر سے بچانے کے لیے والدین کیا کریں؟

والدین بچوں کو 'کوالٹی وقت' دینے پر توجہ دیں، ہفتے میں چند گھنٹے بچوں کے ساتھ بات کرنے، کھیلنے، ان کے مسائل اور دوستوں سے متعلق گفتگو کو یقینی بنائے جائیں۔

گیمنگ کے لیے اوقات مخصوص کر دیئے جائیں اور ان پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔ شروعات کے ایام مشکل ہو سکتے ہیں کیونکہ گیمنگ ایک نشے کی طرح بچوں کو اپنی طرف بلاتی رہے گی، یہاں والدین، بہن بھائیوں کی توجہ اور متبادل سرگرمیوں کی مدد سے اسے لے کر چلنا ہو گا۔

موبائل، کنسول اور دیگر گیمنگ کی ڈیوائسز پر آرام کرنے والے کمروں میں لانے پر پابندی عائد کردی جائے۔

جسمانی سرگرمیوں سے بہتر متبادل کچھ نہیں ہے، خصوصاً ورزش کا ہفتہ وار معمول بنائیں، سب سے پہلے خود ورزش کرنے کے معاملے میں رول ماڈل بن کر دکھائیں، بچے خود بخود ورزش میں دلچسپی لینا شروع کر دیں گے۔

اس کے ساتھ یہ بچوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط بنا کر گیمنگ کے صحت پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنا شروع کردے گی۔


فرحان ظفر اپلائیڈ سائیکالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ہولڈر ہیں، ساتھ ہی آرگنائزیشن کنسلٹنسی، پرسنل اور پیرنٹس کاؤنسلنگ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ان کے ساتھ [email protected] اور ان کے فیس بک پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔