پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین کھیلے گئے چند دلچسپ ٹیسٹ میچ

28 دسمبر 2020

ای میل

پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں نیوزی لینڈ کے دورے پر ہے جہاں اس کو ٹی20 سیریز میں شکست کے بعد اب 2 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کے پہلے میچ میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

اس سیریز کا نتیجہ کیا ہوگا یہ تو آنے والے دنوں میں سامنے آہی جائے گا لیکن اگر دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جائے تو نیوزی لینڈ کی ٹیم اس سیریز میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے فیورٹ ہے۔ اگر میزبان ٹیم یہ سیریز جیت گئی تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ نیوزی لینڈ اپنے ملک میں پاکستان کے خلاف مسلسل 2 سیریز میں کامیاب ہو۔

پاکستان نے ملک کے اندر اور ملک سے باہر اپنی تاریخ کی اوّلین ٹیسٹ سیریز نیوزی لینڈ کے خلاف جیتی تھی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے 65ء-1964ء میں پہلی مرتبہ نیوزی لینڈ کا دورہ کیا تھا۔ یہ وہ ملک ہے جہاں پاکستان کی فتح کا تناسب میزبان ٹیم سے بہتر ہے۔ پڑھنے والوں کی دلچسپی کے لیے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والے ماضی کے کچھ دلچسپ اور تاریخی مقابلوں کا احوال پیش کر رہے ہیں۔

پاکستان کی ملک سے باہر ٹیسٹ سیریز میں پہلی فتح

پاکستان کرکٹ ٹیم 73ء-1972ء کے سیزن میں 3 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنے نیوزی لینڈ پہنچی۔ اس سیریز کے تمام میچ 4 دن کے دورانیے کے تھے۔ اس دورے کا اوّلین ٹیسٹ میچ ہار جیت کی فیصلے کے بغیر ختم ہوا۔ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ نیوزی لینڈ کے شہر ڈنیڈن میں کھیلا گیا جس میں قومی ٹیم کے کپتان انتخاب عالم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

پاکستان نے پہلی اننگ میں مشتاق محمد کی ڈبل سنچری اور آصف اقبال کی سنچری کی بدولت 6 وکٹوں کے نقصان پر 507 رنز بنا کر اننگ ڈیکلیئر کردی۔ اس اننگ میں آصف اقبال اور مشتاق محمد نے 350 رنز کی شراکت قائم کرکے پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں چوتھی وکٹ کی سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ قائم کردیا۔ 47 سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ ریکارڈ آج بھی قائم ہے۔

جواب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم انتخاب عالم کی تباہ کن باؤلنگ کے باعث اپنی پہلی اننگ میں صرف 156 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ فالو آن کے بعد نیوزی لینڈ نے جب اپنی دوسری اننگ کا آغاز کیا تو اس بار ان کو انتخاب عالم کے ساتھ ساتھ مشتاق محمد کی لیگ اسپن باؤلنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ دوسری اننگ میں ان دونوں لیگ اسپنرز نے مجموعی طور پر 9 وکٹیں حاصل کیں اور قومی ٹیم کو اس ٹیسٹ میچ میں ایک اننگز اور 166 رنز کے مارجن سے فتح دلوادی۔

اس میچ میں مشتاق محمد ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے دوسرے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے ایک ہی ٹیسٹ میں 200 رنز کی اننگ کھیلنے کے ساتھ ساتھ 5 وکٹیں لینے کا کارنامہ بھی انجام دیا ہو۔

اس سیریز کا تیسرا اور آخری مقابلہ آکلینڈ کے مقام پر کھیلا گیا اور وہ بھی ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا، یوں پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں کامیابی کی بدولت یہ سیریز 0-1 سے جیت کر ملک سے باہر اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز جیت لی۔

اس سیریز کے تیسرے میچ میں نیوزی لینڈ کی پہلی اننگ میں برائن ہیسٹنگز اور رچرڈز کولن نے 10ویں وکٹ کے لیے 151 نز بناکر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اس ریکارڈ کو 24 سال بعد اظہر محمود اور مشتاق احمد نے جنوبی افریقہ کے خلاف برابر کیا جبکہ جوئے روٹ اور جیمس اینڈرسن نے 2014ء میں بھارت کے خلاف 198 رنز بناکر یہ ریکارڈ توڑ ڈالا۔

اس دورے کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلی مرتبہ بین الاقوامی ایک روزہ میچ کھیلا گیا جس میں نیوزی لینڈ کو 22 سے کامیابی ملی۔

وسیم اکرم کی دریافت

85ء-1984ء کے سیزن میں قومی ٹیم جاوید میانداد کی قیادت میں ایک مرتبہ پھر 3 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کھیلنے نیوزی لینڈ پہنچی۔ اس سیریز کی خاص بات ایک نوجوان باؤلر کی شمولیت تھی۔ یہ دبلا پتلا نوجوان چند مہینے قبل دورہ پاکستان کے لیے آئی ہوئی نیوزی لینڈ کی ٹیم کے خلاف سائیڈ میچ میں شاندار کارکردگی دکھانے کی وجہ سے دورہ نیوزی لینڈ کے لیے منتخب ہوا۔

اس دورے کا پہلا ٹیسٹ ویلنگٹن میں کھیلا گیا جو ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا۔ آکلینڈ میں کھیلے گئے دوسرے میچ میں قومی ٹیم کو یکطرفہ مقابلے کے بعد ایک اننگز اور 99 رنز سے شکست ہوئی۔ یہ ٹیسٹ وسیم اکرم کے زبردست کیریئر کا پہلا میچ تھا جس میں انہوں نے صرف 2 وکٹیں ہی حاصل کیں۔

سیریز کا تیسرا ٹیسٹ میچ ڈنیڈن کے مقام پر کھیلا گیا۔ اس میچ میں نیوزی لینڈ کے کپتان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستانی ٹیم پہلی اننگ میں قاسم عمر اور جاوید میانداد کی نصف سنچریوں کی بدولت 274 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔ جواب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنی پہلی اننگ میں 220 رنز ہی بنا پائی اور یوں قومی ٹیم کو 54 رنز کی برتری حاصل ہوگئی۔ اس اننگ کی خاص بات وسیم اکرم کی باؤلنگ رہی جنہوں نے پہلی مرتبہ 5 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

اس اننگ میں وسیم اکرم نے 56 رنز دے کر 5 وکٹوں حاصل کیں

پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگ کی طرح دوسری اننگ میں بھی بہت بڑا اسکور نہیں کرسکی اور پوری ٹیم 223 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ پہلی اننگ کی طرح دوسری اننگ میں بھی قاسم عمر پاکستان کے سب سے کامیاب بلے باز رہے جبکہ آخری نمبروں پر بیٹنگ کے لیے آنے والے پاکستان کے باؤلرز راشد خان اور عظیم حفیظ نے 42 بناکر ٹیم کے اسکور کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

جیت کے لیے درکار 277 رنز کے تعاقب میں نیوزی لینڈ نے اپنی دوسری اننگ شروع کی تو یہ وسیم اکرم بمقابلہ نیوزی لینڈ ثابت ہو رہی تھی۔ اس اننگ میں بھی وسیم اکرم کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اور نیوزی لینڈ کے تجربہ کار کھلاڑی ان کے سامنے بے بس لگ رہے تھے۔ نیوزی لینڈ کی وکٹیں مسلسل گر رہی تھیں اور ایک موقع پر ان کے 8 کھلاڑی 228 رنز پر آؤٹ ہوگئے تھے جبکہ لارنس کینز زخمی ہو کر پویلین جا چکے تھے۔ اس موقع پر واحد مستند بیٹسمین جرمی کونی کا ساتھ دینے ایون چیٹ فیلڈ آئے۔

اب نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے 50 رنز جبکہ پاکستان کو ایک وکٹ کی ضرورت تھی۔ بظاہر پاکستان کی جیت سامنے نظر آرہی تھی لیکن جرمی کونی اور چیٹ فیلڈ پاکستان کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے پچ پر جم گئے۔ پاکستان نے حسبِ روایت کیچ بھی چھوڑے اور یوں ایک یقینی فتح جرمی کونی کی شاندار سنچری کے باعث پاکستان کی شکست میں بدل گئی۔ وسیم اکرم نے اس میچ میں مجموعی طور پر 10 وکٹیں حاصل کرکے کرکٹ کے میدان میں اپنی آمد کا ببانگِ دہل اعلان کیا۔

اس فتح کے ساتھ نیوزی لینڈ یہ سیریز جیت گیا۔ اس سیریز کے بعد کیویز کو اپنے دیس میں پاکستان سے اگلی سیریز جیتنے کے لیے 21 سال کا طویل انتظار کرنا پڑا۔

کرکٹ سے دیوانگی کی حد تک لگاؤ رکھنے والے ایک مداح کے طور پر میں نے اس سیریز کے میچوں کی کمنٹری ریڈیو پر سنی تھی۔ اس سیریز کے دوران پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان موجود وقت کے فرق کے باعث جس وقت نیوزی لینڈ میں میچ کا آغاز ہوتا ہے اس وقت پاکستان میں رات کے ڈھائی بجے ہوتے ہیں۔ میں اس سیریز کے دوران ڈھائی بجے جاگ کر کمنٹری سننا شروع کر دیتا تھا اور پھر جاگتے جاگتے ہی تیار ہوکر اسکول چلا جاتا تھا۔ خود کو مشکل میں ڈال کر جس سیریز کے میچوں کی کمنٹری کو سنا، اس میں پاکستان کی شکست کا غم دل اور دماغ کے کسی گوشے میں آج بھی تازہ ہے۔

جب پاکستان نے یقینی شکست کو جیت میں بدل دیا

جنوری 1993ء میں قومی ٹیم نے واحد ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے نیوزی لینڈ کا دورہ کیا۔ ہیملٹن کے میدان کی مشکل وکٹ پر کھیلے جانے والے اس میچ میں بیشتر وقت نیوزی لینڈ کا پلڑا بھاری رہا۔ جاوید میانداد کے 92 رنز کے باعث پاکستان کی ٹیم نے اپنی پہلی اننگ میں 216 رنز بنائے۔ جواب میں میزبان ٹیم نے مارک گریٹ بیچ کی شاندار سنچری کی بدولت اپنی پہلی اننگ میں 264 رنز اسکور کرکے 48 رنز کی انمول برتری حاصل کرلی۔

پہلی اننگ کی طرح پاکستان کی بیٹنگ دوسری اننگز میں بھی ناکام رہی اور پوری ٹیم 174 رنز کے قلیل اسکور پر آؤٹ ہوگئی۔ نیوزی لینڈ کو یہ میچ جیتنے کے لیے صرف 127 رنز درکار تھے لیکن اس قلیل اسکور کا دفاع کرنے کے لیے پاکستان کے پاس ایک شاطر کپتان اور 2 مایہ ناز باؤلرز تھے۔

نیوزی لینڈ کی پہلی وکٹ 19 رنز کے اسکور پر گری، جب ان کی پہلی اننگ میں سنچری بنانے والے مارک گریٹ بیچ صرف 8 رنز بنا کر وسیم اکرم کا شکار ہوگئے۔ کھیل کے تیسرے دن کے اختتام پر میزبان ٹیم نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 39 رنز بنا لیے تھے۔ دن کے اختتام پر وسیم اکرم نے ماضی کے نامور کمنٹیٹر منیر حسین سے گفتگو کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس مشکل پچ پر پاکستان کے باؤلرز ہدف کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

چوتھے دن نیوزی لینڈ نے جب اپنی نامکمل اننگ کا آغاز کیا تو ان کو جیت کے لیے 78 رنز درکار تھے اور ان کی 7 وکٹیں باقی تھیں۔ بظاہر نیوزی لینڈ میچ جیتنے کے لیے فیورٹ تھا لیکن پاکستان کے باؤلرز اور فیلڈرز ان کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔

چوتھے دن بارش کے باعث کھیل تاخیر سے شروع ہوا۔ نیوزی لینڈ کے بیٹسمین جونز اور ایڈم پڑوڑے آہستہ آہستہ ہدف کی جانب گامزن تھے۔ انہوں نے چوتھے دن وکٹ پر 40 منٹ گزار لیے تھے اور اسکور میں 26 قیمتی رنز کا اضافہ بھی کرچکے تھے۔ پاکستان کے کپتان اسپنر مشتاق احمد کو آزمانے کے بارے میں سوچ رہے تھے لیکن پھر انہوں نے وقار یونس کو مزید ایک اوور دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ اس لیے کامیاب ثابت ہوا کہ اسی اوور میں شارٹ لیگ پر کھڑے آصف مجتبیٰ کے ناقابلِ یقین کیچ کی بدولت اینڈریو جونز کی اہم وکٹ قومی ٹیم کو مل گئی۔

اس وکٹ کے گرنے کے بعد تو جیسے میزبان ٹیم کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی بقیہ 6 وکٹیں صرف 28 رنز کا اضافے ہی کرسکیں، یعنی نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم محض 93 رنز کے اسکور پر ڈھیر ہوگئی اور پاکستان نے یہ دلچسپ مقابلہ 33 رنز سے جیت لیا۔ نیوزی لینڈ کی دوسری اننگ میں وسیم اکرم اور وقار یونس دونوں نے 5، 5 وکٹیں حاصل کیں اور ایک یقینی شکست کو فتح میں بدل دیا۔

ویلنگٹن میں شعیب اختر کا جادو سر چڑھ کر بولا

26 سے 30 دسمبر، 2003ء کے درمیان کھیلا جانے والا ویلنگٹن ٹیسٹ شعیب اختر کی شاندار باؤلنگ اور پاکستان کے تناؤ میں آئے بغیر پُرسکون جیت حاصل کرنے جیسے معجزے کی وجہ سے اپنی مثال آپ تھا۔

اس میچ میں نیوزی لینڈ اور پاکستان کی پہلی اننگز جب ختم ہوئیں تو نیوزی لینڈ کی ٹیم 170 رنز کی بڑی برتری حاصل کرکے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرچکی تھی۔ پاکستان کے لیے میچ میں واپسی ناممکن لگ رہی تھی لیکن شعیب اختر کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ انہوں نے میزبان ٹیم کی دوسری اننگ میں صرف 30 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں اور نیوزی لینڈ کی اننگ کو 103 رنز پر سمیٹنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اس شاندار کارکردگی کے سبب پاکستان کو جیت کے لیے 274 رنز کا ہدف ملا۔ پہلی اننگ کی ناکام بیٹنگ کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ ہدف بھی پاکستان کی دسترس سے باہر لگ رہا تھا لیکن قومی ٹیم نے انضمام الحق اور محمد یوسف کے مابین چوتھی وکٹ کے لیے 121 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت کی بدولت یہ میچ باآسانی جیت لیا۔

کھیل کے چوتھے دن کے اختتام پر پاکستان کو فتح کے لیے صرف 28 مزید رنز درکار تھے۔ کپتان انضمام الحق کرکٹ کے قوانین کے مطابق مزید 30 منٹس کا وقت مانگ کر میچ کو اسی دن ختم کرسکتے تھے لیکن ان سے چوک ہوگئی کیونکہ پانچویں دن بارش کی پیش گوئی تھی اور بارش کی صورت میں پاکستان یقینی فتح سے محروم ہوجاتا لیکن خوش قسمتی سے بارش نہیں ہوئی اور پاکستان نے بغیر کوئی وکٹ کھوئے میچ کے آخری دن جیت کے لیے درکار 28 رنز بناکر میچ اور سیریز اپنے نام کرلیے۔

مسائل نے ٹیم کو یکجا کردیا

کبھی کبھار مسائل لوگوں کو یکجا کرنے اور اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کے لیے اکسانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی کچھ پاکستان کے ساتھ 2011ء کے دورہ نیوزی لینڈ میں ہوا۔ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے 3 اہم کھلاڑیوں نے اپنے لیے اور ملک کے لیے بدنامی کا خوب سامان پیدا کیا۔ ان کھلاڑیوں کی حرکت کے باعث پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی مصباح الحق کو مل گئی۔

مصباح الحق جب نئے اور ناتجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم لے کر نیوزی لینڈ پہنچے تو پاکستان کی جیت کے امکانات کم نظر آرہے تھے لیکن خلافِ توقع اس ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

مصباح الحق، اسد شفیق، وہاب ریاض اور سب سے بڑھ کر اسپنر عبد الرحمٰن نے اپنے اپنے شعبوں میں شاندار کارکردگی پیش کرکے ہیملٹن میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں قومی ٹیم کو 10 وکٹوں سے کامیابی دلوادی۔ اس سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا اور یوں پاکستان نے یہ ٹیسٹ سیریز جیت کر کرکٹ کے میدان سے باہر ہونے والے واقعات کی کوفت اور صدمے کو کم کرنے کا آغاز کر دیا۔