پی ٹی آئی نے بیرسٹر سلطان کو صدر آزاد کشمیر نامزد کردیا

اپ ڈیٹ 12 اگست 2021
پارٹی نے بیرسٹر سلطان محمود کو صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد ان کے بیٹے کو میرپور 3 سے متعارف کرانے کا وعدہ کیا ہے، رپورٹ - فائل فوٹو:اے پی پی
پارٹی نے بیرسٹر سلطان محمود کو صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد ان کے بیٹے کو میرپور 3 سے متعارف کرانے کا وعدہ کیا ہے، رپورٹ - فائل فوٹو:اے پی پی

مظفرآباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے علاقائی صدر بیرسٹر سلطان محمود نے 17 اگست کو ہونے والے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے صدارتی انتخابات میں پارٹی کے امیدوار بننے پر رضامندی کا اظہار کردیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بیرسٹر سلطان محمود 25 جولائی کو ایل اے 3، میرپور 3 سے قانون ساز اسمبلی (ایم ایل اے) کے رکن منتخب ہوئے۔

1985 کے بعد سے ہونے والے عام انتخابات میں سے انہوں نے 7 عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی جس کے علاوہ انہوں نے اس حلقے میں ہونے والے دو ضمنی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔

تحریک انصاف کی آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر نامزد ہونے کی توقع کرنے والے بیرسٹر سلطان محمود کو 5 اگست کو اس وقت ایک دھچکا لگا جب سردار عبدالقیوم نیازی، جو آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے امیدواروں کی فہرست میں کہیں بھی نہیں تھے، کو وزیر اعظم عمران خان نے عہدے کے لیے منتخب کیا۔

مزید پڑھیں: کیا آزاد کشمیر کے انتخابات میں مہاجرین کے نام پر 'بلیک میلنگ' ہوتی ہے؟

اسمبلی میں اپنا ووٹ ڈالنے کے فوراً بعد پی ٹی آئی کے علاقائی سربراہ مظفر آباد سے بظاہر مایوسی کی حالت میں اپنے حلقہ انتخاب کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔

تاہم میرپور میں انہوں نے خوشگوار موڈ میں اپنے حامیوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'مجھے راحت محسوس ہوتی ہے کہ میں نے گزشتہ سات سالوں میں (آزاد جموں کشمیر میں) دن رات کام کیا اور آخر کار اقتدار حاصل کرلیا ہے'۔

اپنے ووٹروں کو یقین دلاتے ہوئے کہ مہم کے دوران ان سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے، انہوں نے ان کو یہ کہہ کر مطمئن کیا کہ سیاست ٹی 20 نہیں بلکہ ایک ٹیسٹ میچ ہے اور بالآخر وہ اس میں فاتح بن کر ابھریں گے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت نے بیرسٹر سلطان محمود کو بتایا کہ ان کے صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد ان کے بیٹے کو میرپور 3 سے متعارف کرایا جائے گا اور بعد میں کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔

ابتدا میں انہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا کیونکہ اس صورت میں انہیں اسمبلی اور پارٹی کا اعلیٰ علاقائی دفتر دونوں چھوڑنا پڑے گا تاہم سلطان محمود نے وزیراعظم عمران خان سے خود اس حوالے سے بات کرنے کے بعد اپنا ارادہ بدل لیا۔

ان کی رضامندی کے بعد وفاقی وزیر برائے کشمیر امور علی امین گنڈا پور نے صدر کے عہدے کے لیے ان کی امیدوار ہونے کا اعلان کیا۔

خیال رہے کہ بیرسٹر سلطان محمود کشمیر کی سیاست میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں اور وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کے صدر کے عہدے کے لیے ان کے نام کی منظوری دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کا آنکھوں دیکھا حال

دریں اثنا بیرسٹر سلطان محمود کی رضامندی اور علی امین گنڈا پور کے اعلان کے بعد آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں ایک مبینہ گروہ بندی ختم ہونے کا خیال سامنے آیا ہے جس نے ریاستی کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کی تھی۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی طور پر 12 رکنی کابینہ جس میں آزاد کشمیر کے علاقے سے 9 اور پاکستان میں کشمیری مہاجرین کے دو حلقے شامل تھے، کو سینیٹر سیف اللہ نیازی اور علی امین گنڈا پور نے حتمی شکل دی۔

دونوں رہنماؤں نے اپنے پورٹ فولیو کا انتخاب بھی کیا تھا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ذرائع نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم جو آئین کے تحت وزیروں کے تقرر کا اختیار رکھتے ہیں اور ان کے لیے مناسب محکموں کو الاٹ کرتے ہیں، اس عمل میں کہیں بھی شامل نہیں ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں