شمالی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز کا دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ، دہشت گرد کمانڈر ہلاک

03 دسمبر 2022
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف ہائی پروفائل کارروائیوں میں ملوث تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف ہائی پروفائل کارروائیوں میں ملوث تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر مارا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں 2 دسمبر کو سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں خطرناک دہشت گرد کمانڈر محمد نور عرف سراکئی مارا گیا، ہلاک دہشت گرد کے زیرقبضہ اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ ہلاک دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف ہائی پروفائل کارروائیوں میں ملوث تھا، اس کے ساتھ وہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کے متعدد مقدمات میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو انتہائی مطلوب تھا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مقامی افراد نے آپریشن کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کی لعنت ختم کرنے کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ 30 نومبر کو بھی شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا تھا جبکہ ایک فوجی جوان شہید ہو گیا۔

آئی ایس پی آر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں 30 نومبر کو سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

بیان میں بتایا گیا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے بہادری سے مقابلہ کیا، اور دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔

یاد رہے کہ 29 نومبر کو سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے ہوشاب میں خفیہ اطلاع پرکارروائی کرتے ہوئے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

آئی ایس پی آر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اطلاع پر دہشت گردوں کے ٹھکانے کلیئر کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا، جو سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر فائرنگ کے واقعات اور گوادر۔ہوشاب (ایم-8) پر دھماکا خیز مواد نصب کرنے میں ملوث تھے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں