سلیم ناصر کی برسی

19 اکتوبر 2013

ای میل

خوبصورت آواز کے مالک پاکستانی اداکار سلیم ناصر۔- انٹرنیٹ فوٹو
خوبصورت آواز کے مالک پاکستانی اداکار سلیم ناصر۔- انٹرنیٹ فوٹو

پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے معروف اداکار سلیم ناصر کو مداحوں سے بچھڑے چوبیس برس بیت گئے۔

کردار میں ڈوب کر فنکاری دکھانے والا یہ اداکار پندرہ نومبر 1944 کو ضلع مردان کے پشتون سید گھرانے میں پیدا ہوا۔

ان کا اصل نام سید شیر خان تھا اور اپنی زبان پشتو ہونے کے باوجود اردو پر انہیں کمال عبور حاصل تھا یہی وجہ تھی کہ اکثر لوگ انہیں پشتو بولتا دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے۔

گریجوئیشن کے بعد وہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی میں بحیثیت افسر شعبہ تعلقات عامہ لگ گئے، مگر اس شعبے کو اپنی منزل نہ سمجھتے ہوئے انھوں نے 1976 میں وحید مراد اور شمیم آرا کے ساتھ زیب النساء میں کام کرکے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔

بس یہیں سے ٹیلیویژن نے ان کے چھپے ہوئے فنکار کو بھانپ لیا۔ آنگن ٹیڑھا میں اکبر کے نام سے کلاسیکل ڈانسر اور ملازم کے کردار نے سلیم ناصر کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

معروف ڈرامہ 'ان کہی' میں سلیم ناصر کے کردار ماموں کو ہٹا دیا جائے تو شاید اس ڈرامے کی اصل رونق ہی ختم ہوجائے۔

نشانِ حیدر سیریز میں 'کیپٹن سرور شہید' کے مرکزی کردار کے ساتھ بھی سلیم ناصر نے مکمل انصاف کیا اور سنجیدہ کرداروں میں بھی اپنی صلاحیت تسلیم کرالی۔

اس کے بعد سلیم ناصر تاریخی ڈرامہ سیریل 'آخری چٹان' میں سلطان جلال الدین خوارزم شاہ کی شکل میں نظر آئے جو شاید ان کے فنی کرئیر کی سب سے بہترین اداکاری تھی۔

انیس سو نواسی میں بننے والی پی ٹی وی کی شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل 'جانگلوس' ان کا آخری ڈرامہ ثابت ہوا۔

سلیم ناصر کی پرتاثر ادائیگی اور ہر کردار میں ڈھل جانے کی صلاحیت انہیں اپنے زمانے کا منفرد اداکار بناتی تھی۔

انہیں اداکاری کے میدان میں اعلیٰ کارکردگی پر بعد از مرگ تمغۂ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

سلیم ناصر انیس اکتوبر 1989 کو حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث پینتالیس سال کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔