سو سر والا سانپ

04 نومبر 2013

ای میل

حکیم اللہ محسود -- فائل تصویر
حکیم اللہ محسود -- فائل تصویر

جب بیت اللہ محسود، امریکی ڈرون کے ہاتھوں اپنے انجام کو پنہچا، تو  مجھے  یاد ہے میں کتنا خوش، مطمئن اور ممنون تھا- بلآخر پاکستان کو مقتل بنانے والا وہ شخص مارا گیا تھا- بلآخر پاکستانی  طالبان کے خلاف اس بے رحم اور جان توڑ جدوجہد میں پاکستان کو ایک فتح حاصل ہوئی تھی-

پیشنگوئی یہ  کی گئی کہ ممکن ہے اب ٹی ٹی پی پارہ پارہ ہو کر نیست و نابود ہو جاۓ گی- ایسا کچھ بھی نہ ہوا اور مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ حکیم اللہ محسود کی موت کے بعد بھی ایسا کچھ نہیں ہوگا-

محدود پیمانے پر ایسے آپریشن کارآمد ثابت نہیں ہو سکتے- نہ یہ بیت اللہ کے معاملے میں کارآمد تھے نا ہی نیک محمّد کے معاملے میں اس سے کچھ فائدہ حاصل ہوا- ہر بار ٹی ٹی پی دوبارہ منظم ہوئی اور اپنی اصلاح کر کے پہلے سے زیادہ  خباثت کے ساتھ واپس آئی-

اس طرح کی کارروائی عراق میں بھی کارآمد نہ ہوئی- سنہ دو ہزار چھ میں الزرقاوی کی موت کو اگرچہ اس وقت ایک پیشرفت مانا گیا لیکن یہ بھی عراق میں القائدہ کی سرگرمیوں کا خاتمہ نہ کر سکی- وہ پہلے سے کہیں زیادہ  خطرناک بن کر، اور علاقائی تنازعات کے ساتھ واپس آۓ، جن کا کوئی اختتام ہوتا نظر نہیں آتا-

وہ عناصر جو دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی اپنی جنگ کو ہوا دے رہے ہیں انکا بھی کوئی اختتام نظر نہیں آتا، اگرچہ ہزاروں کے قاتل حکیم اللہ محسود کی موت پر اطمینان محسوس کرنا قطعاً انسانی ہے، لیکن اس خوشی میں ایک منطقی آگاہی  کی آمیزش بھی ہونی چاہیے، ایک خوفناک وارننگ کا احساس-

وہ اس لئے کیوں کہ اس سینکڑوں سر والے سانپ ٹی ٹی پی کو فقط ایک سرقلم کر دینے سے شکست نہیں دی جا سکتی، اس کا پورا جسمم جلا کر راکھ کر دینے کی ضرورت ہے اور جس مشعل سے یہ کام لیا جاۓ گا وہ ہمیں خود اس عفریت تک لے کر جانی ہے-

بڑی شرم کی بات ہے کہ اگر اپنے دشمن کے خاتمے کے لئے ہمیں بیرونی طاقت کا سہارا لینا پڑے- مزید بدتر یہ کہ اس عمل سے پانی اس حد تک گدلا ہو جاۓ کہ چارہ اور کانٹا دونوں ہی نظر سے اوجھل ہو جائیں-

ڈرون پروگرام پر ہماری ریاست کی طرف سے پیش کردہ غلط بیانی کی مہربانی سے (یہ بھی اسٹیبلشمنٹ کے اپنے مقاصد کے ایک لمبے سلسلے کا ایک حصّہ ہے) ڈرون حملوں کی مدد سے  پاکستانی فوجی آپریشن کا امکان ختم ہو گیا ہے-

یہ بھی ریاست، اس کے حمایتیوں اور بڑی سیاسی پارٹیوں کی طرف سے پھیلاۓ  گۓ ڈرون مخالف پروپیگنڈے کی مہربانی ہے کہ بہت سوں کی نظر میں اس طرح کا انہونا واقعہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ناپاک تعاون کا حتمی ثبوت بن جاۓ گا، یعنی اب عسکریت پسندوں کو اپنی مل چلانے کے لئے مزید رنگروٹ ملیں  گے-

چنانچہ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ  یہ حملہ (جیسا کہ سمجھا جا رہا ہے) پاکستان کی اپنی ایجنسیوں کا کارنامہ ہے یا نہیں- جب تک ڈرون کے حوالے سے ہونے والی بحث کو ریاست نۓ سرے ترتیب نہیں دے گی، نتیجہ ہمیشہ یہی نکلے  گا.. مزید دھند، اور مزید جنگ-

بات چیت یا جنگ کا فیصلہ پاکستان کا اپنا ہونا چاہیے- چاہے ہم اس عفریت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے فوجی آپریشن کا طویل اور تکلیف دہ راستہ اپنائیں یا سست رفتار مذاکرات کے ذریعہ ہتھیار ڈالنے کا انتخاب کریں اور ایک ایسی ہستی کو تسلیم کر لیں جو ہم پر مکمل غلبہ حاصل کرنے کے لئے بے چین ہے، لیکن دونوں صورتوں میں فیصلہ ہمارا ہونا چاہیے- چاہیں ہم اس خون کے دریا میں ابھریں یا ڈوب جائیں، اس کی بنیاد ہمارے اپنے فیصلوں پر ہونی چاہیے-

امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی موت نے ہم سے یہ اختیار چین لیا ہے، اس سے بھی بدتر، اس واقعہ نے انتہائی خطرناک داستانوں کو جنم لینے اور پھیلنے کا موقع فراہم کیا ہے-

ایک بات بتاتا چلوں، کہ مجھے اس بات پر ایک لمحے کے لئے بھی یقین نہیں کہ ڈرون حملے بند ہو جانے کے بعد ٹی ٹی پی اپنی کارروائیاں ختم کر دے گی- ایسا سوچنا میرے نزدیک حماقت ہے-

لیکن میں کیا مانتا ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، فرق اس سے پڑتا ہے کہ بظاہر پاکستانیوں کی بڑی تعداد اس بات پر یقین رکھتی ہے- اسی لئے یہ ضروری تھا کہ امن مذاکرات کیے جاتے، بھلے وہ پوری عوام کے سامنے ناکام ہو جاتے، اس طرح  ابہام کا یہ  آخری پردہ بھی بیچ سے ہٹ جاتا اور یہ غلط تصور بلکل برہنہ ہو کر سب کے سامنے آجاتا-

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ایسے ہی مذاکرات ماضی میں ناکام نہیں ہوۓ؟

جواب ہے، جی ہاں، تاہم، حقیقت اپنی جگہ وہی ہے کہ  نۓ سیاسی شعور(بھلے غلط ہی سہی)  کے حامل لوگوں کی بڑی تعداد یا تو ان ناکامیوں سے بے خبر رہی ہے یا پھر انہیں ماننے سے انکاری  ہے-

تکلیف دہ تو ہوگا، لیکن ضروری ہے کہ یہ لوگ ناکامی اپنی آنکھوں سے دیکھیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ ٹی ٹی پی خود اس کی ذمہ دار ہے، حکیم اللہ کی موت نے یہ امکان ختم کر دیا ہے-

اس سو سر والے سانپ میں پہلے سے زیادہ خطرناک سر اگا لینے کی صلاحیت موجود ہے- کہا جا رہا ہے کہ، نیا ٹی ٹی پی چیف، حکیم اللہ محسود سے زیادہ سفاک اور خون کا پیاسا ہے-

اس سے بہت کچھ پتا چلتا ہے، ذرا غور کریں کہ اس کے پیشروؤں کے سامنے بڑے بڑے سیریل قاتل بھی معصوم نظر آتے تھے- ہاں ایک امید یہ بھی ہے کہ 'شاہین' کے لئے حکیم اللہ جیسا کنٹرول قائم رکھنا مشکل ہوگا، اور یہ بھی کہ اس کے لئے ایسے  دھڑوں کو ڈرانا دھمکانا مشکل ہوگا جو (جیسا کہ ہم سنتے آرہے ہیں) مذاکرات کے حامی ہیں-

ممکن ہے یہ محض خیالی پلاؤ ہو، بالکل ویسا ہی جیسا بیت اللہ کی موت پر بنایا گیا تھا- ٹی ٹی پی کے مختلف گروہوں کے درمیان اندرونی اختلافات کی بہت سی (مشکوک) رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں، لیکن اگر یہ دراڑیں موجود بھی ہیں تو اب تک ان سے کوئی ٹھوس فرق دیکھنے میں نہیں آیا، اور ایسا لگتا ہے کہ آگے جا کر  بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا- آخر کو وہ پاکستان، جو ٹی ٹی پی کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے ملکوں اور لشکروں تک کی حفاظت نہ کر سکا کسی الگ ہو جانے والے دھڑ کے خلاف  انتقامی کارروائی پر کیا ضمانت دے سکتا ہے؟ کوئی بھی نہیں-

معاملہ چاہے کچھ بھی ہو، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 'اچھے' یا 'برے' طالبان کے درمیان فرق صرف اتنا ہے کہ 'اچھے' طالبان آپ کو سب سے آخر میں ماریں گے-

جو چیز اب ممکن ہے وہ یہ کہ ٹی ٹی پی اپنے انتہا پسند حمایتیوں، القائدہ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور چیچن کے ساتھ مزید قریبی تعلقات بناۓ گی- اب وہ ایسے ممالک کی حمایت حاصل کرے گی جو پاکستان کے دشمن ہیں اور بخوشی اسے مزید نقصان پنہچانا چاہتے ہیں اور اس بات کے انہیں بہترین مواقع ملیں گے-

اگر حکیم اللہ کی موت طالبان کے خلاف کسی جامع عمل کی ابتدا ہے --- جس کا مقصد طاقت اور پروپیگنڈا کے ذریعہ اس کا نیٹ ورک توڑنا ہے تو شاید ہم کچھ پیشرفت دیکھ پائیں-

لیکن اگر ماضی کی طرح ہم آج بھی، دہری چال ہی چلتے رہیں اور یہ دعا کرتے رہیں کہ یہ عفریت اپنی موت آپ ہی مر جاۓ تو یہ ہمیں سواۓ تباہی کے اور کچھ نہیں دے گا-

میں اچھے کی امید رکھتا ہوں، لیکن ساتھ ہی برے کا خوف بھی ہے- آپ کو بھی ہونا چاہیے-


zarrar khuhro لکھاری ڈان اخبار کے سٹاف ممبر ہیں

ترجمہ: ناہید اسرار