بک ریویو: میڈیا منظر

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2014

ای میل

پاکستان میں محمود شام نا صرف صحافت کے حوالے سے ایک ممتاز اور نمایاں نام ہے بلکہ وہ ایک شاعر اور ادیب بھی ہیں۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ 2012 میں میڈیا کے حوالے سے ان کی ایک ضخیم کتاب شائع ہوئی ۔


کتاب کا نام: میڈیا منظر -- پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا ماضی، حال، مستقبل | زبان: اردو | لکھاری: محمود شام | صفحے: 314 | پرنٹر: ماس پرنٹرز، ناظم آباد، کراچی | پبلشر: پاکستان اسٹڈی سینٹر، کراچی یونیورسٹی | پہلی چھپائی: ستمبر 2012 | قیمت: پانچ سو پاکستانی روپۓ
کتاب کا نام: میڈیا منظر -- پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا ماضی، حال، مستقبل | زبان: اردو | لکھاری: محمود شام | صفحے: 314 | پرنٹر: ماس پرنٹرز، ناظم آباد، کراچی | پبلشر: پاکستان اسٹڈی سینٹر، کراچی یونیورسٹی | پہلی چھپائی: ستمبر 2012 | قیمت: پانچ سو پاکستانی روپۓ

شام صاحب کا تعلق پنجاب کے شہر جھنگ سے ہے اور وہیں سے انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی صحافتی زندگی کے آغاز کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ؛

"ہم نے جب وادی صحافت میں قدم رکھا تھا ہمیں بجلی میسر نہیں تھی یہ 1961 ہے آج سے 50 سال پہلے --یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں-- پاکستان کے ایک پسماندہ ضلع جھنگ شہر کی ایک گلی میں، ایک گھر میں، دن کے اجالے میں زرد کاغذ پر کلیجی رنگ کی سیاہی سے میں ہفت روزہ، صنعتی پاکستان، کی کتابت میں مصروف ہوں۔ یہ اس شہر کے محنت کشوں، ادیبوں، شاعروں، سیاسی کارکنوں کا مقبول رسالہ ہے۔ مولانا نظام الدین انصاری اس کے مدیر و مالک ہیں۔ جھنگ میں پارچہ بافوں کی اکثریت ہے جو کھڈیوں پر کپڑا تیار کرتے ہیں اور جب یہی کھڈیاں بجلی سے چلنے لگیں تو پاور لومز کہلانے لگتی ہیں۔ آج کل یہ پاور لومز بجلی اور گیس کی قلت سے دو چار ہیں۔ اس وقت بجلی تھی نہ گیس، ہاتھ اور پاؤں انرجی پیدا کرتے تھے۔ کپڑا تیار ہوتا تھا آج بھی ہاتھ سے تیار کیے کپڑے کی قدر بہت زیادہ ہے۔"

یہ تھا شام صاحب کی صحافت کا آغاز۔ اس کے بعد انہوں نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور آج صحافت کے حوالے سے ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔


"میڈیا منظر" اس حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ اس کتاب میں میڈیا سے متعلق تمام شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ خصوصاً انٹرنیٹ اور موبائل فون کو بھی پیغامات کی ترسیل کے لیے جس طرح استعمال کیا جاتا ہے اس کا ذکر بھی کتاب میں شامل ہے۔


شام صاحب مسجدوں کو بھی میڈیا کا حصہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ؛

"ہر محلے میں موجود مسجد ایک ایسا مقامی طاقتور میڈیا ہے کہ اگر ہم اس کے بنیادی مقاصد سے پوری طرح باخبر ہوں اور عملاً انہیں حاصل کرنے کی کوشش کریں تو ہمارے محلے فلاح کی ایک مجسم مثال بن جائیں اور تمام مسلم مملکتیں اپنی اپنی جگہ فلاحی ریاستوں کا روپ دھار سکتی ہیں۔"


وہ تعلیمی اداروں کو بھی میڈیا کا ہی حصہ قرار دیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ درسی کتابوں کے موضوعات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ؛

"اپنے ہاں جو درسی کتابیں تیار ہوتی ہیں ان میں کیا معیار پیش نظر رکھا جاتا ہے اور طلباء و طالبات کے ذہن بنانے کے لیے کن کن امور کو لازمی خیال کیا جاتا ہے یہ سب کچھ مایوس کن ہے. جذباتیت کی بنیاد پر فرضی داستانیں گھڑی جاتی ہیں، تاریخ کو مسخ کیا جاتا ہے، پرائمری سے لے کر کالج کی سطح تک یہی عالم ہے۔"

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا

کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ


کتاب میں فیض احمد فیض کا ذکر بھی تفصیل سے کیا گیا ہے اور ان کی صحافتی زندگی پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے۔ بہ حیثیت صحافی، فیض احمد فیض کے حوالے سے لکھتے ہیں؛

"رات گئے قائد اعظم کی وفات کا سرکاری اعلان ہوا۔ پاکستان ٹائمز، واحد روزنامہ تھا جو اس اعلان کے نصف گھنٹے میں اس خبر کی شہہ سرخیوں کے ساتھ سب سے پہلے سڑکوں پر تھا۔ ہاکرز رو رہے تھے اور چلا رہے تھے، 'قائد اعظم کا انتقال ہوگیا!' ملک بھر کے بیشتر مدیران اخبارات جب خراٹے لے رہے تھے، فیض بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو آخری خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے رات بھر جاگتا رہا۔ فیض نے اداریے 'To God We Return' میں لکھا؛

'یہ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ عین اس موقع پر برصغیر کے دو بے حد عاقل (Wisest) اور بے حد مرقع انسانیت (Humane) انسانوں سے دونوں ممالک محروم ہوگئے ہیں'، یاد رہے کہ مہاتما گاندھی اس سے پہلے قتل ہوچکے تھے۔"

غرض کہ یہ کتاب نہ صرف صحافت کے طالب علموں بلکہ صحافیوں کے لیے بھی ایک بنیادی کتاب ہے جس کے مطالعے سے صحافت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں مفصّل معلومات حاصل ہوتی ہیں۔


کتاب کا نام: میڈیا منظر -- پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا ماضی، حال، مستقبل

زبان: اردو

لکھاری: محمود شام

صفحے: 314

پرنٹر: ماس پرنٹرز، ناظم آباد، کراچی

پبلشر: پاکستان اسٹڈی سینٹر، کراچی یونیورسٹی

پہلی چھپائی: ستمبر 2012

قیمت: پانچ سو پاکستانی روپۓ