احتجاج کو نظر انداز کرنے کی قیمت

12 اگست 2014

ای میل

اشعر رحمان لاہور میں ڈان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔
اشعر رحمان لاہور میں ڈان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔

کسی بھی احتجاجی مظاہرے کی اصل قدر اس بات سے معلوم کی جا سکتی ہے، کہ وہ مظاہرہ جس کے خلاف کیا جا رہا ہے، وہ فرد، ادارہ، یا جماعت اس احتجاج پر کس طرح کا رد عمل ظاہر کرتی ہے۔یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں احتجاج اپنی قدر کھو چکے ہیں۔

ہزارہ برادری نے کوئٹہ میں کئی روز تک احتجاجاً اپنے متوفیوں کو دفنانے سے انکار کر دیا تھا۔آخر کار ریاست حرکت میں آئی، اور حکومت نے اپنے ایک دو وزرا کو مظاہرین کو تشفّی دینے کے لیے بھیجا۔مظاہرین کی دل جوئی صرف اسی حد تک کی گئی۔

بلوچوں نے اپنے افراد کی گمشدگی کے خلاف پہلے کراچی، اور پھر اسلام آباد میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا۔انہوں نے پورے بلوچستان سے اسلام آباد تک کا مارچ کر کے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا چاہی، کہ کس طرح ان کے لوگ اچانک اور اکثر غائب ہو جاتے ہیں۔لیکن ان کے مظاہرے پر کم کم ہی رد عمل سامنے آیا۔کچھ باضمیر شہریوں نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، کہ اس معاملے پر وہ کچھ کرنا تو دور، کہنے سے بھی قاصر ہیں۔

اور پاکستان کا شہر ملتان، جہاں توہین رسالت کے ایک ملزم کا کیس لڑنے والے ایک وکیل کو دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد شدید بے چینی اور رد عمل دیکھنے میں آیا، پر تین ماہ گزر جانے کے بعد بھی تفتیش میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے، بلکل اسی طرح، جیسے کچھ دن پہلے گوجرانوالہ میں احمدیوں کے گھروں کو آگ لگا دینے والے افراد کا کچھ اتا پتا نہیں ہے۔

کچھ عرصہ پہلے لاہور کے نوجوان ڈاکٹرز اپنے سروس اسٹرکچر میں بہتری کے لیے لاہور کی سڑکوں پر احتجاج میں مصروف تھے۔ان کے روزانہ کے احتجاجی مظاہروں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔اگلے مرحلے میں انہوں نے اپنے احتجاج کو مؤثر بنانے کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں کام چھوڑ دیا، لیکن پھر بھی ان کی نہ سنی گئی۔ جب ڈاکٹرز کی جانب سے ہسپتالوں میں مزید سخت احتجاجی قدم اٹھائے گئے، تب حکومت کو مظاہرین کے مطالبات سننے کا خیال آیا۔اب بھی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے مسئلے کو مکمّل طور پر حل کر دیا ہے، پر کچھ نوجوان ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔

ان تمام مظاہروں سے ایک چیز ثابت ہوتی ہے، کہ ریاست اپنے شہریوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاجوں پر توجہ دینا نہیں چاہتی۔ایک ذمہ دار ریاست کی غیر موجودگی میں احتجاجی مظاہرے اپنا مقصد کھو بیٹھتے ہیں، اور ٹی وی سکرین پر تھوڑی دیر تک نظر آنے کے بعد پردے کے پیچھے چلے جاتے ہیں۔

میڈیا خود بھی ہیجان اور مایوسی کی ایک تصویر ہے۔وہ لوگوں کے مسائل کو نمایاں تو کرتا ہے، پر ان میں سے کچھ ہی مسائل حکومت کی توجہ حاصل کر پاتے ہیں۔پھر میڈیا مسلسل کسی ایک مظاہرے کی کوریج کے بجائے ہر مظاہرے کو کسی نئے مظاہرے سے بدلتا رہتا ہے۔آخر مظاہرین خود ہی اپنے مطالبات کی نا منظوری کو قسمت کا لکھا سمجھ کر منظور کر لیتے ہیں، اور تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت جب کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک اپنے مطالبات کے حق میں حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں، تو حکومت کی جانب سے مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کیا رہا ہے۔اگر پی ٹی آئی اور پی اے ٹی اپنے مطالبات کے حق میں اتنا آگے آنے میں کامیاب ہوئی ہیں، تو اس کی واحد وجہ یہ ہے، کہ ان دونوں جماعتوں کے پاس خاصی عددی قوّت ہے۔اگر یہی مطالبات کسی چھوٹے گروپ کی جانب سے کیے گئے ہوتے، تو انھیں تمسخر اڑانے کی سرکاری پالیسی کے تحت نظر انداز کر دیا جاتا، ایک ایسی پالیسی، جس پر عمل کرنے میں میاں نواز شریف اور ان کے حواری خاصی مہارت رکھتے ہیں۔۔

طاہرالقادری کے خلاف میڈیا کے ذریعے اٹھنے والا طوفان قادری کا مذاق اڑانے کے لئے ہی اٹھایا گیا تھا۔اور یہی رویہ اب بھی جاری ہے، ایک ایسے وقت میں جب انکی قیادت میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ پھٹ پڑنے کو تیار ہے۔ اسی طرح سے عمران خان کا بھی مذاق اڑایا جاتا ہے، جن کے بارے میں یہ بات بار بار کہی جاتی ہے، کہ ان کو سیاست کی سمجھ نہیں ہے۔لیکن یہی وہ رد عمل ہے، جس کی وجہ سے عمران خان کی سیاست پھل پھول رہی ہے، اور انکے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

جتنے زیادہ زور و شور سے پی ٹی آئی والے اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کرتے ہیں، اسی زور و شور سے ان کے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، کہ پی ٹی آئی ایک ایسی غیر سیاسی اور بھٹکے ہوئے لوگوں کا گروہ ہے، جس کے پاس کوئی منزل نہیں ہے۔ہم میں سے اکثر لوگوں کے پاس پی ٹی آئی کی سیاست کو تسلیم کرنے سے بچنے کے لیے یہی عذر ہے۔

اگر عمران خان پاکستانی سیاست سے واقفیت نہیں رکھتے تھے، تو حکومت اور ان کا مذاق اڑانے والے حلقوں نے انھیں مزید اجنبی ظاہر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ایسا ظاہر کیا گیا، کہ جیسے وہ کسی سنجیدہ عہدے کے لئے موزوں نہیں ہیں، اور ان کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کرنے والوں کے نزدیک صرف وہ ہی پاکستانی سیاست کی سمجھ رکھتے ہیں۔ انھیں ایک غیر اور ناسمجھ کے طور پر پیش کیا گیا، اور اب بھلے ہی ان کا راستہ دوسرے فریق کی نظر میں خطرناک موڑ لے رہا ہے، پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انہوں نے حالات کو اپنے ساتھ غیروں اور ناسمجھوں کی ایک بڑی تعداد اکٹھی کرنے کے لیے اچھی طرح استعمال کیا ہے۔اور اب آخر کار وہ وقت آ ہی گیا ہے کے اس نظام کا وسیع تجربہ رکھنے والے لوگ عمران خان کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مشاورت پر مجبور ہوگئے ہیں۔

عمران خان کے کیا مسائل و مطالبات ہیں، اگر اس بات پر سنجیدگی سے بحث کر لی گئی ہوتی، تو حالات اس نہج پر نہ پہنچتے جہاں وہ آج پہنچ چکے ہیں۔اس نہج پر، کہ اب دانشمند اور عقلمند حلقوں کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ عمران خان کو اب فوری طور پر ٹھنڈا کیا جائے، اور ان کے خدشات کو سنجیدگی سے سن کر ان کی تشفّی کی جائے۔

یہی وہ قیمت ہے، جو آپ تب ادا کرتے ہیں جب آپ احتجاجی مظاہروں پر کوئی توجہ دینا پسند نہیں کرتے، تب ادا کرتے ہیں جب آپ کے زعم میں آپ کے سامنے صرف ایک مسخرہ ہے، جو آپ کی تفریح طبع کا ذریعہ ہے۔

انگلش میں پڑھیں

اشعر رحمان لاہور میں ڈان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 8 اگست 2014 کو شائع ہوا۔