بجلی بحران کے لیے کے پی حکومت کا منفرد منصوبہ

19 فروری 2015

ای میل

پشاور کینٹ میں نصب سولر پاور اسٹریٹ لائٹس — وائٹ اسٹار فوٹو
پشاور کینٹ میں نصب سولر پاور اسٹریٹ لائٹس — وائٹ اسٹار فوٹو

پشاور : خیبرپختونخوا نے دو سو دیہات کے پانچ ہزار سے زائد ایسے گھرانوں کو شمسی توانائی کے ذریعے بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ بنالیا جو گرڈ لائن سے منسلک نہیں جبکہ اس کے ذریعے توانائی کے بحران سے بچنے کا راستہ بھی نکالا جائے گا۔

صوبائی حکومت نے اس حوالے سے نو ماہ کے سولر پراجیکٹ کے لیے چار سو ملین روپے جاری کردیئے ہیں تاکہ دو سو دیہات میں 5800 گھرانوں کو ماحول دوست بجلی فراہم کی جاسکے۔

یہ اسکیم ایک سال پہلے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے متعارف کرائے گئے سبز انقلاب مہم کا حصہ ہے۔

اس اسکیم کا مقصد اقتصادی شرح نمو کو قدرتی وسائل مستحکم انداز سے استعمال کرتے ہوئے فروغ دینا ہے، کیونکہ اس سے شفاف توانائی کے استعمال میں اضافہ اور جنگلات کے کتاﺅ میں کمی آئے گی۔

خیبرپختونخوا کے تعلیم، توانائی و پاور کے وزیر عاطف خان نے بتایا کہ صوبائی حکومت کا منصوبہ ہے صوبے کے آف گرڈ چالیس فیصد گھرانوں میں سے کم از کم دس فیصد کو آئندہ تین برسوں کے دوران شمسی توانائی اور چھوٹے پیمانے کے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کے ذریعے بجلی فراہم کی جائے۔

اس حوالے سے صوبے کے شمال کے پہاڑی علاقوں میں مائیکرو ہائیڈرو پلانٹس کو لگانے کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہوگیا ہے جو بہتے پانی سے بجلی پیدا کرتے ہیں اور ان کے لیے ڈیموں کی ضرورت نہیں۔

جنوبی اضلاع میں بجلی سے محروم گھرانوں کو شمسی توانائی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے لیے حکومت سولر آلات کی لاگت کا نوے فیصد حصہ ادا کرے گی جبکہ باقی رقم اس سے مستفید ہونے والے خاندانوں سے لی جائے گی۔

ان خاندانوں کو دو سو واٹ کا سولر پینل، دو بیٹریاں اور دیگر آلات فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ ایک چھت پر لگنے والا پنکھا، پیڈسٹل فین، تین ایل ای ڈی لائٹس اور دو موبائل فون چارجنگ کے مقامات سے مستفید ہوسکیں۔

بجلی کی ' بھیک' سے نجات : اس پراجیکٹ کے تحت پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 1.2 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔

صوبے بھر میں گرڈ سے منسلک علاقوں میں بجلی کی مجموعی طلب ڈھائی ہزار میگاواٹ ہے تاہم نیشنل گرڈ سے صوبے کو صرف سولہ سو میگاواٹ بجلی ملتی ہے۔

اسلام آباد میں گزشتہ ماہ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا " ہم توانائی کے متبادل ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اس کے بعد ہمیں وفاق سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی"۔

انہوں نے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ بجلی کے بحران کو حل کرنے کے لیے مکمل توجہ مرکوز کریں گے۔

عالمی بینک کے مطابق پاکستان بھر میں 44 فیصد گھرانے بجلی سے مھروم ہیں جن میں سے اسی فیصد دیہات میں رہائش پذیر ہیں اور وہاں تیس سے 45 فیصد گھرانے اپنے مکانات کو روشن کرنے کے لیے مٹی کے تیل کا استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان میں موسم گرما کے دوران بجلی کا شارٹ فال آٹھ ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتا ہے اور دیہی علاقوں میں چودہ گھنٹے جبکہ شہروں میں دس گھنٹے تک بجلی غائب رہتی ہے۔

مالی لحاظ سے بہترین؟ ری نیوایبل اینڈ الٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر نصیر احمد کا کہنا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا توانائی بحران کا بہترین حل ہے کیونکہ اس سے گرڈ سے باہر گھرانوں کو شمسی توانائی استعمال کرتے ہوئے بجلی فراہم کی جاسکتی ہے جس کے لیے ایک بار ہی خرچہ کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا " شمسی توانائی پر سرمایہ کاری کرنا ڈیموں کی تعمیر اور روایتی ایندھن کی تلاش سے زیادہ بہتر ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ماحول کے لیے مضر گرین ہاﺅس گیسز کا اخراج بھی نہیں ہوتا اور گرڈ کے مقابلے میں زیادہ قابل بھروسہ بجلی کی سپلائی یقینی ہوجاتی ہے۔

تاہم انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کو تجویز پیش کی کہ وہ سولر آلات کی لاگت کا صرف پچاس فیصد حصہ ہی ادا کرے جبکہ باقی لاگت اس سے مستفید ہونے والے افراد سے وصول کرے تاکہ اس منصوبے میں عوامی دلچسپی بڑھے اور مزید فنڈز ملنے سے اس منصوبے کو توسیع دی جاسکے۔

نصیر احمد نے صوبائی حکومت پر شفاف توانائی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی مہم کے لیے بھی زور دیا ، تاکہ انفرادی سطح پر لوگوں میں سولر پینلز اپنی مدد آپ کے تحت لگانے کا آغاز ہو۔

انہوں نے کہا " شمسی توانائی سے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا جبکہ مٹی کے تیل اور جلانے کے لیے لکڑیوں کے حصول پر ہونے والے اخراجات کی بھی بچت ہوگی"۔

صوبے کی اپوزیشن جماعتوں اور شفاف توانائی کے کچھ ماہرین نے اس منصوبے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ گرڈ سے منسلک کرنے سے متعلق حل پر توجہ مرکوز کرے۔

اے این پی کے سینیٹر زاہد خان کے مطابق " آگ گرڈ پراجیکٹس پیسوں اور وقت کا ضیاع ہیں، یہ سب عارضی اقدامات ہیں اور ان سے استحکام نہیں آئے گا"۔