بین الاقوامی فلم ایوارڈلیاری کےنوجوانوں کے نام

اپ ڈیٹ 10 مئ 2016

ای میل

فلم کے پس پردہ مناظر — فوٹو بشکریہ احسن شاہ
فلم کے پس پردہ مناظر — فوٹو بشکریہ احسن شاہ

کراچی : کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے نوجوان فلم سازوں نے بین الاقوامی سطح پر اس وقت بڑی کامیابی حاصل کی جب انہیں بحرین میں ہونے والے انٹرنیشنل یوتھ کریٹیویٹی ایوارڈ میں مختصر فلموں کے شعبے میں پہلی پوزیشن کا اعزاز حاصل ہوا۔

پاکستانی نوجوانوں نے یہ پہلی پوزیشن تھرڈ ایج گروپ یعنی 25 سے30 سال کی عمر کی کیٹیگری میں حاصل کی۔

اس مختصر فلم جاور کو ایوارڈ تقریب میں پہلا انعام ملا جو بحرین کے شاہی خاندان کے رکن اور بحرین اولمپک کمیٹی کے صدر شیخ نصر بن حماد الخلیفہ نے دیا۔

رنراپ پویزشن پر مصر اور میکسیکو کے امیدوار رہے۔

جاور میں ایک ایسے شخص کی کہانی بیان کی گئی جو لیاری میں تشدد اور خونریزی کے نتیجے میں صدمے کا شکار ہوجاتا ہے۔

فوٹو بشکریہ احسن شاہ
فوٹو بشکریہ احسن شاہ

اس مختصر فلم کے مصنف اور ڈائریکٹر احسن شاہ نے بتایا کہ انہیں تصور نہیں تھا کہ ان کی فلم بین الاقوامی سطح پر اتنی سراہی جائے گی " مگر اب ایسا ہوچکا ہے اور یہ ہم سب اور لیاری کے رہائشیوں کے لیے خوشی کا لمحہ ہے"۔

انہوں نے اپنے مسائل کے شکار علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا " عام طور پر لیاری کو زیادہ کوریج نہیں ملتی اور اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو اس کی کوئی اچھی وجہ نہیں ہوتی"۔

عدنان شاہ اپنے دوستوں کے ہہمراہ فلم بنانے والی ایک کمپنی نوشچ چلا رہے ہیں، اس پلیٹ فارم سے وہ متعدد مختصر فلمیں تیار کرچکے ہیں۔

عدنان شاہ کے مطابق " اکثر ہم اپنی فلموں میں لیاری بھر کے مختلف علاقوں اور آڈیٹوریمز کو اسکرین پر پیش کرتے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ ہم نے اپنی فلم کسی بین الاقوامی مقابلے میں بھیجی۔

ان کا کہنا تھا کہ متعدد مقامی فلم بنانے والے گروپس نے جاورکی تیاری میں حصہ لیا۔

فوٹو بشکریہ احسن شاہ
فوٹو بشکریہ احسن شاہ

جب ان سے لیاری میں ان کی زندگی کے بارے میں پوچھا گیا تو عدنان شاہ نے کہا " یہ اتنی ہی غیریقینی ہے جیسے کراچی کا موسم یا صورتحال، مکمل طور پر ناقابل پیشگوئی"۔

ان کے بقول اب صورتحال کافی بہتر ہوچکی ہے مگر ابھی کچھ مقامات ایسے ہیں کیمرے کے ساتھ آزادی سے گھوم کر عکس بندی کرنا آسان نہیں " کچھ جگہوں پر گینگ وار گروپس اب بھی متحرک ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں سیکیورٹی اہلکار ہمیں عکسبندی کی اجازت نہیں دیتے"۔

فوٹو بشکریہ احسن شاہ
فوٹو بشکریہ احسن شاہ

کامرس میں انٹر کرنے والے عدنان شاہ کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کے پاس جدید آلات نہیں اور اکثر فنڈز کی کمی ہوتی ہے مگر یہ رکاوٹیں انہیں سخت محنت اور بڑے خواب دیکھنے سے نہیں روک سکتیں " ہمارا یقین ہے کہ اگر کہانی اچھی ہے تو اسے سنا جائے گا چاہے عکسبندی میں کوتاہی ہی کیوں نہ ہو"۔

انہوں نے مزید کہا " ایسے ہی ہم نے بحرین میں انٹرنشنل ایوارڈ جیتا ہے"۔

انگلش میں پڑھیں۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔