تعصب اور امتیازی سلوک کا معاشی پہلو

اپ ڈیٹ 30 اگست 2016

ای میل

عام طور پر ہر جگہ یہ گردان سننے کو ملتی ہے کہ ہمارا ملک وسائل سے مالامال ہے، مگر ایسے وسائل جو بغیر استعمال کیے ہوئے زمین میں پڑے رہیں، ان کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہے۔

مگر ہمارے معاشرے کا اس سے بھی بڑا مسئلہ اور ایک تکلیف دہ پہلو لوگوں میں بڑھتا تعصب اور عدم برداشت ہے۔

معاشرے کی مختلف اکائیوں کا ایک دوسرے سے امتیازی سلوک یا تعصب نہ صرف ہمارے ملک بلکہ موجودہ دور میں دنیا کے چند ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔

تاہم اُن ممالک میں ایسے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ لوگوں میں علاقائی، نسلی و لسانی بنیادوں پر موجود منفی رویوں کو ختم کر کے ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جاسکے۔

مگر بیشتر ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ یوں تو یہ ایک معاشرتی پہلو بھی ہے لیکن نسلی متعصب رویوں کا عمل دخل نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی طور پر بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔

اکثر اوقات معاشی پالیسیاں بھی اِس کی وجہ بنتی ہیں، وہ پالیسیاں جو علاقائی سطح پر تضادات اور تفریقات کو جنم دیتی ہیں۔

معیشت کی ترقی کو معاشرے میں موجود تمام افراد، خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، کی فلاح و بہبود کا نتیجہ ہونا چاہیے مگر عملی طور پر نتائج تھوڑے مختلف نظر آتے ہیں۔

صنعتی انقلاب کی بدولت جنم لینے والی معاشی تبدیلیاں ہی معاشرتی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہیں۔ زرعی پیداوار کے نت نئے طریقے اور تکنیکیں، جدید مشینریز اور دیگر آلات وغیرہ نہ صرف زراعت بلکہ اس کے ساتھ دیگر شعبہ جات کی پیداوار میں اضافہ ممکن بناتے ہیں۔

لیکن اگر غور کیا جائے تو عملی طور پر ترقی کے اِس عمل میں زراعت کا شعبہ کافی حد تک نظرانداز ہو جاتا ہے، کسان سماجی اور معاشی سیڑھی پر اوپر چڑھنے میں ناکام رہتے ہیں اور اس طرح علاقائی سطح پر عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔

لہٰذا دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے، جن میں سے بیشتر افراد زراعت کے شعبے سے منسلک ہوتے ہیں، ان کی بڑی تعداد بہتر روزگار کی تلاش میں میں شہری علاقوں کا رخ کرتی ہے جن سے پھر دیگر مسائل جنم لیتے ہیں۔

مؤثر تعلیمی سہولیات اور سماجی رجحانات کے باعث شہری آبادی کا بڑا حصہ دیہی آبادی کی نسبت زیادہ تعلیم یافتہ ہوتا ہے اور صنعت کے شعبے میں بھی ایسے افراد کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے جو جدید تعلیم اور تکنیکی صلاحیتوں کے حامل ہوں۔

دوسری جانب دیہی علاقوں سے ملازمت کے حصول کے لیے آئے افراد بے روزگاری اور غربت کے بوجھ تلے مزید دب جاتے ہیں۔ اگرچند افراد کسی پیشے سے وابستہ بھی ہوں تو بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارتے پائے جاتے ہیں۔

ساتھ ہی شہری علاقوں میں بڑھتی آبادی بھی کافی مسائل کو جنم دیتی ہے جبکہ دیہی علاقے جو پہلے سے ہی پسماندگی کا شکار ہوتے ہیں وہ مسلسل نظر انداز ہونے کی وجہ سے مزید استحصال اور حکومتی لاپرواہی کی مثال بنتے چلے جاتے ہیں۔

اس سب کی بڑی وجہ اعلیٰ حکام اور عہدیداران کی ترجیحات میں دیہی علاقوں کی تعمیر و ترقی اور شعبہ زراعت کی بہتری کی طرف عدم توجہ اور بڑی تعداد میں لوگوں کا شہری علاقوں کی طرف رخ کرنا بھی شامل ہے۔

یہ تمام تر صورتحال نہ صرف ملکی ترقی میں اہم رکاوٹ کا باعث ہے بلکہ شہری اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے آپس میں متعصبانہ رویے کے اسباب میں بھی شامل ہے۔

دونوں علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد دو گروہوں کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جو خود کو درپیش مسائل کے لیے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے لگتے ہیں۔

سیاسی اعتبار سے ایسی صورتحال چند مفاد پرست لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جو نمائندگان کی حیثیت سے اِن گروہوں کی حمایت کرتے ہیں اور اِن کے حقوق کی بحالی کے لیے اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔

مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے یہ افراد "وکٹم مینٹیلیٹی" کا شکار ہوجاتے ہیں، یعنی خود کو متاثرین میں شمار کرنے لگتے ہیں، جبکہ اِن کے نمائندگان ان کے اندر موجود احساس محرومی کو مزید پروان چڑھاتے ہیں۔

آہستہ آہستہ یہ صورتحال مزید سنگین نوعیت اختیار کر جاتی ہے اور پھر تصادم کا راستہ بھی ہموار ہو جاتا ہے جو بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔

ایسے گروہوں کے سربراہان اور اِن سے تعلق رکھنے والے افراد اِس تمام صورتحال کو رنگ و نسل یا علاقائی بنیادوں پر کیے جانے والے تعصب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ صورتحال اِس حد تک خطرناک ہوجاتی ہے کہ یہ لوگ اپنے حقوق کی بحالی کے لیے اپنے علاقوں کی ملک سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے لگ جاتے ہیں۔

شروعات میں تو ایسی کسی بات کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا مگر تاریخ میں ایسے واقعات موجود ہیں، جن میں علاقائی سطح پر عدم توازن پہلے لوگوں کے درمیان امتیازی سلوک، اور پھر تصادم کا باعث بنا، اور بعد میں مفاد پرست افراد اور غیر ملکی قوتیں اس کا بھرپور فائدہ اُٹھاتی رہیں۔

اگر حالات حاضرہ پر نظر ڈالیں تو پالیسی کے اعتبار سے حالات کچھ مختلف نظر نہیں آئیں گے۔ حکومت کی جانب سے بڑے بڑے منصوبے اور سرمایہ کاری دیہی علاقوں کی نسبت شہری علاقوں میں زیادہ تیزی کی جاری ہے۔

جبکہ دیہی علاقوں کے افراد تعلیم، صحت اور روزگار کے بہتر مواقع حتٰی کہ پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی کی سہولیات سے محروم ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شہری آبادی کے بھی اپنے دیگر مسائل ہیں جن میں ماحولیاتی آلودگی، بڑھتی آبادی، دیہی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کی یہاں نقل مکانی اور محدود وسائل شامل ہیں۔

جبکہ امن وامان کی خراب صورتحال کا سامنا تو ہر شخص کو ہے خواہ وہ ملک کے کسی بھی حصّے سے تعلق رکھتا ہو۔

پاکستان کے وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملکی آبادی کا 32.50 فیصد حصّہ شہری جبکہ 67.50 فیصد حصّہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھتا ہے جبکہ دونوں ہی وسائل کی فراہمی کے اعتبار سے کئی سارے مسائل کا شکار ہیں۔

ان مسائل کے دیرپا حل کے لیے حکومتی سطح پر ایسی پالیسیاں متعارف کروانے کی ضرورت ہے جو نہ صرف شہری بلکہ دیہی اور ملک کے دور دراز کے علاقوں میں بھی ترقی کے عمل کو تیز کرنے اور علاقائی سطح پر عدم توازن کو ختم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں۔

شہری علاقوں کے ساتھ دیہی علاقوں میں بھی تعلیم، صحت اور روزگار کے بہتر مواقع قائم کرنے اور پہلے سے قائم شدہ اداروں میں موجود بے ضابطگیوں کو ختم کرنے اور اِن کے کارکردگی کو مؤثر بنانے کی اتنی ہی ضرورت ہیں۔

مزید یہ کہ ایسے علاقوں میں چھوٹی سطح پر کاروباری ادارے بھی قائم کیے جاسکتے ہیں جن میں سرمایہ کاری کے لیے بھاری رقم کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ایسے ادارے یا صنعتیں کم یا غیر تعلیم یافتہ افراد کو بھی بہتر روزگار کے مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔ اِس اعتبار سے چین کی ایک بڑی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں دنیا کی سب سے زیادہ "سمال اینڈ میڈیم انڈسٹریز" قائم کی گئیں۔

چین کی معاشی ترقی میں سمال اینڈ میڈیم اینٹرپرائیزس (ایس ایم ایز) کا کردار انتہائی اہم ہے جس کا آغاز 1970 سے ہوا جس کے بعد تحقیق اور تکنیکی ترقی کے باعث چین کا شمار دنیا کی بڑی معیشتوں میں ہونے لگا۔

زرعی شعبے میں ترقی شہری اور دیہی آبادی کے لوگوں کی آمدنی کے درمیان بڑی اور واضح تفریق میں کمی لائے گی۔ اِس شعبے کے بیشتر مسائل کا حل جدید تحقیق کے ذریعے تلاش کیا جاسکتا ہے۔

زرعی پیداوار کا معیار بہتر بنا کر نہ صرف ان کی رسائی عالمی منڈی تک ممکن بنائی جاسکتی ہے بلکہ مناسب قیمت میں فروخت بھی کی جاسکتی ہے، جس کا فائدہ نہ صرف کسانوں کو ہوگا بلکہ برآمدات کے تسلسل میں کمی واقع ہوگی اس طرح ملکی خسارے کو بھی کم کیا جاسکے گا۔

بہتر نتائج کے لیے کاشتکاری کے عمل کو جدید اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ وسائل کی فراہمی کے لیے آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی اور ادائیگی کے عمل کو بہتر کیا جائے۔

اِس طرح نہ صرف پسماندہ علاقوں میں ترقی کا عمل تیز ہوگا بلکہ شہری علاقوں کے بڑھتے مسائل میں بھی کمی ہوگی۔

اگر صنعت، زراعت اور دیگر تمام شعبوں میں وسائل کو مؤثر انداز میں مختص کیا جائے تو علاقائی سطح پر موجود عدم توازن، معیشت کو درپیش دیگر مسائل میں کمی آئے گی اور لوگوں کا معیارِزندگی بہتر ہوگا اور معاشرتی سطح پر افراد کے درمیان موجود متعاصّبانہ رویوں کا رجحان کا خاتمہ ہوگا۔